Blog

نارمن بتهیون کی یاد میں

تحریر: ماؤ زی تنگ ۲۱ دسمبر ۱۹۳۹ کامریڈ نارمن بتهيون  کینیڈا کی کمیونسٹ پارٹی کے ایک رکن تھے، جب کینیڈا اور امریکہ کی کمیونسٹ پارٹیوں نے انہیں چین بھیجا تو اس وقت ان کی عمر تقریباً پچاس سال تھی ۔ انہوں نے جاپان کے خلاف جنگِ مزاحمت میں ہماری مدد کرنے کے لئے خنده پیشانی […]

نارمن بتهیون کی یاد میں Read More »

تحریکوں کی حقیقت اور سازشی فریم

ہمارے سماج میں ایک عمومی مگر خطرناک رجحان یہ ہے کہ ہر وہ تحریک جو ہمارے مخصوص نظریاتی یا جغرافیائی دائرے سے باہر ہو، خواہ وہ کتنی ہی عوامی، انقلابی یا تاریخی محرومیوں پر مبنی ہو، اسے مشکوک بنا دیا جاتا ہے۔ تحریکوں کو رد کرنے کے لیے تین بنیادی الزامات بار بار دہرائے جاتے

تحریکوں کی حقیقت اور سازشی فریم Read More »

چین سوشلسٹ یا  سوشل سامراج؟  کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ماؤاسٹ کی نظر میں

سال 2007 میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) کی نویں کانگریس، جسے یونٹی کانگریس بھی کہا جاتا ہے، منعقد ہوئی۔ اس کانگریس میں ایک نہایت اہم فیصلہ کیا گیا جو موجودہ عالمی حالات اور انقلابی تحریکوں کے تناظر میں تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ کانگریس میں  اس بات کو شدت سے محسوس کیا کہ چین، جو ماضی میں سوشلسٹ

چین سوشلسٹ یا  سوشل سامراج؟  کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ماؤاسٹ کی نظر میں Read More »

پاک بھارت جنگی کشیدگی: ایک ماؤسٹ تناظر

ہم پاکستانی اور ہندوستانی ریاستوں کو محض دو قومی ریاستیں نہیں بلکہ “امپیریلزم کے مفادات کی خدمت کرنے والی سرمایہ دارانہ حکومتیں” سمجھتے ہیں۔ ان دونوں ریاستوں کی بنیادیں برطانوی نوآبادیاتی ورثے، استعماری طرز حکومت، اور سامراجی معاشی ڈھانچوں پر استوار ہیں۔ آزادی کے بعد بھی حقیقی عوامی اقتدار قائم کرنے کے بجائے، ان ریاستوں

پاک بھارت جنگی کشیدگی: ایک ماؤسٹ تناظر Read More »

ریاستی بیانیہ اور وسائل کی طبقاتی لوٹ مار

پاکستان کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف شدید شکایات موجود ہیں “بلوچستان کے گیس، سونا اور کوئلہ، پنجاب لے جا رہا ہے،اندرون سندھ کی زمینیں، پانی اور محنت، کراچی اور لاہور  کے سرمایہ دار ہڑپ کر رہے ہیں،جنوبی پنجاب محروم ہے کیونکہ تخت لاہور سارا

ریاستی بیانیہ اور وسائل کی طبقاتی لوٹ مار Read More »

سرمایہ دارانہ جدل اور بازاری لیفٹ

سرمایہ داری نے اپنے مادی ٹکراؤ، تاریخی تضادات اور جدلیاتی ارتقا کے ذریعے انسانی سماج کو ایک ایسی مستقل مقابلے کی بھٹی میں جھونک دیا ہے، جہاں ہر انسان دوسرے کے لیے ایک رکاوٹ، ایک حریف، اور اکثر اوقات ایک دشمن بن جاتا ہے۔ یہ نظام محض معیشت یا پیداوار کے طریقۂ کار تک محدود

سرمایہ دارانہ جدل اور بازاری لیفٹ Read More »

سیاست کو سمجھنا کیوں ضروری ہے؟

سیاست محض اقتدار کے ایوانوں یا اسمبلیوں میں موجود نمائندوں کی بحث کا نام نہیں، بلکہ یہ اس پوری سماجی، معاشی، اور نظریاتی جدوجہد کا نام ہے جس کے ذریعے معاشرے میں وسائل، طاقت، قانون، اور سماجی رشتے منظم کیے جاتے ہیں۔ جب ہم کہتے ہیں کہ سیاست وہ عمل ہے جس کے ذریعے یہ

سیاست کو سمجھنا کیوں ضروری ہے؟ Read More »

لبرل ازم، سرمایہ داری اور انقلابی سیاست

دھروو راتی، جو خود کو آزاد صحافی اور تجزیہ کار کے طور پر پیش کرتے ہیں، اکثر بھارتی ریاستی بیانیے کے قریب نظر آتے ہیں۔ ان کی ویڈیوز میں سیزفائر کو بھارت کی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ وہ پاکستان کی نیت پر شک ظاہر کرتے ہیں۔ یہ بیانیہ بھارتی

لبرل ازم، سرمایہ داری اور انقلابی سیاست Read More »

ماوازم کیوں؟ — ششی پرکاش کی کتاب کا نظریاتی و سیاسی تجزیہ

. کتاب کا عمومی تعارف ششی پرکاش کی کتاب “Why Maoism” کوئی روایتی سیاسی رسالہ نہیں، بلکہ یہ ایک سیاسی اعلامیہ ہے   ایک پکار کہ آج کے انتشار، بربریت، اور استحصال کے عہد میں ہمیں مارکسزم-لینن ازم-ماوازم کی انقلابی روشنی میں راستہ تلاش کرنا ہوگا۔مصنف ششی پرکاش خود بھارت کے انقلابی حلقوں سے وابستہ رہے ہیں اور Jan Prakashan جیسے پلیٹ فارمز کے

ماوازم کیوں؟ — ششی پرکاش کی کتاب کا نظریاتی و سیاسی تجزیہ Read More »

حضرت نطشے؟

پاکستان میں نیٹشے کو جن لوگوں نے اپنایا ہے، ان میں دو قسمیں نمایاں ہیں۔ ایک وہ نووارد ملحدین، جنہوں نے زندگی میں پہلی بار کفر کا بٹن دبایا تو نیٹشے کو گوگل کر کے اپنا مرشدِ اول قرار دے دیا۔ ان کے نزدیک ہر چیز کا انکار کرنا “فلسفہ” ہے، اور ہر روایتی بات

حضرت نطشے؟ Read More »

Scroll to Top