National Students Federation

لبرل ازم، سرمایہ داری اور انقلابی سیاست

دھروو راتی، جو خود کو آزاد صحافی اور تجزیہ کار کے طور پر پیش کرتے ہیں، اکثر بھارتی ریاستی بیانیے کے قریب نظر آتے ہیں۔ ان کی ویڈیوز میں سیزفائر کو بھارت کی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ وہ پاکستان کی نیت پر شک ظاہر کرتے ہیں۔ یہ بیانیہ بھارتی ریاست کے سامراجی مفادات کی ترجمانی کرتا ہے، جو کشمیر میں جاری جبر، فوجی تسلط اور عوام کی مزاحمت کو دانستہ طور پر نظرانداز کرتا ہے۔ اسی طرح سید مزمل شاہ، جو پاکستانی صحافی ہیں، سیزفائر کو پاکستان کی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کا بیانیہ بھی سرمایہ دارانہ ریاستی مفادات کے مطابق ہے، جو پاکستان میں جاری عوامی تحریکوں بشمول بلوچستان میں جاری فوجی آپریشنز، جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظرانداز کرتا ہے۔ ان کے تجزیے میں پاکستانی ریاست کے سامراجی کردار اور اس کے جبر کا کوئی ذکر نہیں ملتا، جو ان کے بیانیے کو مکمل طور پر حکمران طبقے کی ترجمانی بناتا ہے۔

لینن نے کہا تھا کہ بورژوا طبقہ ہر چیز کو عوام کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کرتا ہے: پریس، چرچ، سنیما اور یہاں تک کہ سائنس بھی۔دونوں صحافیوں کے بیانیے میں ایک اور شدید خامی یہ ہے کہ وہ طبقاتی جدوجہد کو مکمل طور پر غائب کر دیتے ہیں۔ نہ ہی وہ ریاستوں کے اندر سرمایہ دارانہ استحصال اور نہ ہی محنت کش طبقے کی حالت زار کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کے بیانیے کا مقصد نہ صرف ریاستی جبر کو جائز قرار دینا ہے، بلکہ عوام کی توجہ اصل تضاد یعنی حکمران اور محکوم طبقات کے بیچ جاری جدوجہد سے ہٹا کر قومی سلامتی، سفارتی کامیابی، اور سرحدی امن جیسے مبہم نعروں کی طرف موڑ دینا ہے۔

 ماؤ  کے مطابق تمام ردِ انقلابی طاقتیں کاغذی شیر ہوتی ہیں۔ دکھنے میں خوفناک، مگر حقیقت میں اتنی طاقتور نہیں ہوتیں۔یہ بیانیے دانستہ طور پر ان تمام سوالات سے گریز کرتے ہیں جو روزانہ محنت کش طبقہ سامنا کر رہا ہے ۔ مہنگائی، بیروزگاری، اجرتوں کا استحصال، تعلیم و صحت کی نجکاری، اور مزدور و کسان تحریکوں کی سرکوبی۔جنگیں مسلط کرکے سیزفائر جیسے معاہدے ریاستوں کے درمیان طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ عوامی مفادات کے لیے۔ یہ جنگیں دونوں ریاستوں کے حکمران طبقات کے مفادات کی حفاظت کرتی ہیں، جبکہ عوامی طبقات کی جدوجہد کو دبانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ کشمیر اور بلوچستان میں عوامی تحریکیں ریاستی جبر کے خلاف ابھری ہوئی ہیں، جنہیں ان جھڑپوں کے ذریعے کمزور کرنے اور ریاستی جبر کو جاری رکھنے کا جواز فراہم کیا جاتا ہے۔

لینن کے مطابق سامراجی طاقتوں کے درمیان جنگ دنیا کی تقسیم، نوآبادیوں کی لوٹ مار اور چھوٹی قوموں کے استحصال کے لیے ہوتی ہے۔حقیقی امن صرف اور صرف عوامی مزاحمت اور طبقاتی جدوجہد کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ریاستی طاقت کا مظاہرہ عوام کو دھوکہ دینے کے لیے ہوتے ہیں، تاکہ وہ اپنی اصل لڑائی، یعنی سماجی و معاشی انصاف کی لڑائی، سے باز آ جائیں۔دھروو راتی اور سید مزمل شاہ کے بیانیے ریاستی مفادات کی ترجمانی کرتے ہیں، اور عوامی تحریکوں، قومی سوال، اور طبقاتی جدوجہد جیسے بنیادی موضوعات سے یا تو مکمل لاعلمی ظاہر کرتے ہیں یا جان بوجھ کر انہیں نظر انداز کرتے ہیں۔ ہمیں ان لبرل، ریاستی بیانیوں کے دھوکے سے باہر نکل کر ایک ایسا عوامی بیانیہ تعمیر کرنا ہوگا جو سامراج دشمن، ریاست دشمن، اور طبقاتی استحصال کے خلاف ہو۔ یہ بیانیہ محنت کشوں، کسانوں، طلبہ، مظلوم قومیتوں اور خواتین کی مشترکہ جدوجہد کا ترجمان ہونا چاہیے   وہ جدوجہد جو صرف حکمران طبقات کو ہٹا کر اور عوامی طاقت کو منظم کر کے ہی فتح حاصل کر سکتی ہے۔

لبرل ازم چھوٹے بورژوا مفاد پرستی سے جنم لیتا ہے، یہ ذاتی مفاد کو اولین اور انقلابی مفاد کو ثانوی حیثیت دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ لبرل یوٹیوبرز دراصل موجودہ سرمایہ دارانہ نظام، اس کی نوآبادیاتی وراثت، اور نیو لبرل پالیسیوں کے دفاع کے لیے فعال کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی مقبولیت اور سوشل میڈیا پر پذیرائی محض اتفاق نہیں، بلکہ یہ خود سامراجی و ریاستی اسٹرکچرز کی پیدا کردہ ایک منصوبہ بند حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے، جو حقیقی عوامی شعور، طبقاتی جدوجہد، اور انقلابی تحریکوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ان چہروں کو آگے لاتی ہے۔

لینن نے خبردار کیا تھا:
“Without revolutionary theory, there can be no revolutionary movement.”
(بغیر انقلابی نظریے کے، کوئی انقلابی تحریک وجود میں نہیں آ سکتی۔)

یہ لبرل بیانیہ نہ صرف ریاستوں کے تشدد اور قبضے کو “دفاعی اقدام” کے طور پر پیش کرتا ہے، بلکہ اسے امن، ترقی اور جمہوریت کا لبادہ اوڑھا کر عوام کو اس ظلم کے خلاف اٹھنے سے روکتا ہے۔ یہ یوٹیوبرز، خواہ وہ دھروو راتی ہو یا سید مزمل، درحقیقت عوامی شعور کو اس حد تک کنٹرول کرتے ہیں کہ سوال حکمران طبقے سے نہیں بلکہ حکمران طبقے کے مفادات کے دفاع میں سامراجی ریاستوں کے “بیچ کی راہ” کو ہی واحد قابلِ عمل حل بنا کر پیش کرتے ہیں۔لبرل ازم ایک انقلابی تنظیم کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ یہ اتحاد کو کھوکھلا کرتا ہے، تنظیمی ہم آہنگی کو ختم کرتا ہے، بے حسی اور تقسیم پیدا کرتا ہے۔ان کا مقصد واضح ہے: عوامی تحریکوں، انقلابی سیاست، اور مزاحمتی قوتوں کو غیر مؤثر، غیر ضروری اور “خطرناک” بنا کر پیش کرنا تاکہ موجودہ غیر منصفانہ نظام قائم و دائم رہے۔ماؤ  نے کہا تھا سیاسی طاقت بندوق کی نال سے نکلتی ہے جبکہ یہ تمام لبرل آوازیں دراصل ردِ انقلابی طاقتیں ہیں، جو حکمران طبقات کی بالادستی کے تحفظ کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ وہ جمہوریت کی بات تو کرتے ہیں، مگر وہ جمہوریت جو صرف بورژوا طبقے کے مفاد میں ہو۔ وہ آزادی کی بات تو کرتے ہیں، مگر وہ آزادی جو سامراجی ریاستوں کو اپنے مفاد کے لیے مکمل آزادی دیتی ہے، اور عوام کو صرف خاموش رہنے کی آزادی۔

لبرل ازم عوامی جدوجہد سے گریز کا راستہ ہے۔ یہ شخصی سکون، عافیت، اور مفاہمت کی تلاش ہے   ایسی مفاہمت جو ظلم کے ساتھ کی جاتی ہے۔ لبرل عناصر انقلاب سے نہیں، اپنی ذات سے وفادار ہوتے ہیں۔لہٰذا، ہمیں ان لبرل بیانیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے طبقاتی سیاست اور انقلابی سچائی کو مضبوطی سے عوام کے سامنے لانا ہوگا، کیونکہ حقیقی آزادی اور امن صرف سامراج، سرمایہ داری، اور ریاستی جبر کے خلاف عوامی بغاوت اور طبقاتی جدوجہد سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔
“The proletariat needs the truth, and there is nothing so harmful to its cause as illusions.”؎Lenin.

Scroll to Top