تحریر: احمد خان ندیم
Punjab Control of Habitual Offenders and Anti-Social Behaviour Bill, 2026
چند سوالات جو اس بل کے پیش ہونے کے بعد گردش میں ہیں، جب پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون نے جون 2026ء میں “پنجاب کنٹرول آف ہیبچوئل آفینڈرز اینڈ اینٹی سوشل بیہیویئر بل” منظور کیا، تو اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان کو خود حیرانی ہوئی کہ یہ بل جو 8 جون کو ایوان میں پیش ہوا تھا پہلے ہی کمیٹی سے گزر چکا ہے۔ اسپیکر نے اسے “راج کے دور کی یاد تازہ کرنے والا” قرار دیا۔ پی ٹی آئی کے ایک رکن نے کہا کہ یہ انسانی حقوق کے خلاف ہے، اور ایک معروف وکیل نے خبردار کیا کہ “اینٹی سوشل رویہ” جیسی مبہم اصطلاح اختیارات کے ناجائز استعمال کا دروازہ کھول دے گی۔ یہ سوالات اگرچہ اہم ہیں صرف سطح کو کھرچتے ہیں۔ اس بل کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس سے بھی گہرے سوالات پوچھنے ہوں گے:
یہ قانون کس کے لیے بنایا گیا ہے؟ یہ کس کے خلاف استعمال ہوگا؟ اس کے پیچھے کون سی طبقاتی قوتیں کارفرما ہیں؟ اور سب سے اہم: کیا یہ بل واقعی ایک نیا آغاز ہے، یا ایک پرانی، گہری اور نوآبادیاتی جڑیں رکھنے والی جبری منطق کا تازہ ترین اظہار؟
ہم اس مضمون میں انہی سوالات کا جواب دینے کی کوشش کرینگے اور اس بل کی نوعیت کو تاریخی حوالوں کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرینگے ۔
سب سے پہلے سمجھنا ضروری ہے کہ ریاست کیا ہے اور یہ قانون کیسے بناتی ہے؟
ماؤ زے تنگ ، لینن یا مارکسی کی روایت اٹھا کر دیکھ لیں وہ ریاست کو کبھی غیر جانبدار نہیں مانتے۔ ریاست ایک آلہ ہے، ایک مشین ہے، جو ایک مخصوص طبقے کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور دوسرے طبقات کو قابو میں رکھنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
اینگلز نے The Origin of the Family, Private Property and the State (1884) میں مزید وضاحت کی کہ ریاست اس وقت وجود میں آتی ہے جب طبقاتی تضادات کو سماج کے اندر حل کرنا ممکن نہ رہے۔ اس لیے ریاست بظاہر پورے معاشرے کی نمائندہ دکھائی دیتی ہے، مگر عملی طور پر وہ ان معاشی تعلقات کا تحفظ کرتی ہے جن پر موجودہ نظام قائم ہوتا ہے۔
ولادیمیر لینن نے State and Revolution (1917) میں استدلال کیا کہ ریاست دراصل”خصوصی مسلح اداروں”کا مجموعہ ہے، جن میں فوج، پولیس، جیلیں، عدالتیں اور بیوروکریسی شامل ہیں۔ لینن کے مطابق ریاست کا بنیادی کام صرف قانون نافذ کرنا نہیں بلکہ موجودہ سماجی رشتوں کا دفاع کرنا بھی ہے۔
لہذا تفصیل میں جانے سے پہلے یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ طبقاتی سماجوں میں کوئی بھی قانون “قومی مفاد” میں یا “سب کے لیے” نہیں بنتا ہر قانون کا ایک طبقاتی کردار ہوتا ہے۔
پنجاب ہیبچوئل آفینڈرز بل 2026ء کو دیکھیں: اسے پی ایم ایل این کے رکن، سابق ضلعی و سیشن جج خالد محمود رانجھا نے پیش کیا۔ یعنی وہ شخص جو خود عدلیہ کے ادارے یعنی ریاستی مشینری کے ایک بازو کا حصہ رہا ہے، اب ایک ایسا قانون لا رہا ہے جو عدلیہ کو بھی بائی پاس کرتا ہے اور انتظامی کمیٹیوں کو فیصلے کا حق دیتا ہے۔ یہ طبقاتی قانون سازی کی ایک کلاسک مثال ہے: حکمران طبقہ اپنے لیے ایسے اوزار بناتا ہے جو نہ صرف محنت کش طبقے کو کنٹرول کریں، بلکہ خود طبقاتی اقتدار کو بھی مزید مستحکم کریں۔
مارکس نے اپنی مشہور تصنیف “سرمایہ” میں لکھا تھا کہ قانون دراصل حاکم طبقے کی مرضی کا آئینہ ہوتا ہے لیکن یہ مرضی عوامی لباس پہن کر “انصاف”، “امن و امان”، اور “سماجی بھلائی” کے نام سے پیش کی جاتی ہے۔ پنجاب بل بھی ٹھیک اسی لباس میں آیا ہے جس میں “منظم جرائم”، “بھتہ خوری”، “گینگ وار” سے نمٹنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ لیکن جب ہم اس کی شقوں کا عوامی انداز میں تجزیہ کرتے ہیں تو اصل تصویر سامنے آتی ہے۔
ماؤ نے اپنی تحریروں میں بار بار اس بات پر زور دیا کہ نوآبادیاتی نظام صرف فوجی قبضے کا نام نہیں ہے یہ ایک مکمل فکری، قانونی اور انتظامی ڈھانچہ ہے جو نوآبادیاتی آقا کے جانے کے بعد بھی باقی رہتا ہے، نئے ہاتھوں میں، نئے ناموں کے ساتھ۔ اسے انہوں نے “نوآبادیاتی ذہنیت کی میراث” کہا۔ پنجاب ہیبچوئل آفینڈرز بل اس میراث کا ایک تازہ ترین، بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے مسلح، اظہار ہے۔
1857ء کی جنگ کے بعد برطانوی حکومت اس نتیجے پر پہنچی کہ محض فوجی طاقت کافی نہیں۔ آبادی کی مسلسل نگرانی، شناخت، درجہ بندی اور نقل و حرکت پر کنٹرول کے لیے نئے قوانین درکار تھے۔
اسی دور میں متعدد ایسے قوانین سامنے آئے جنہوں نے ریاست کو غیر معمولی اختیارات دیے۔
ان میں شامل تھے:
• پولیس ایکٹ 1861ء
• کریمنل پروسیجر کوڈ
• آرمز ایکٹ 1878ء
• ورنی کیولر پریس ایکٹ 1878ء
• کریمنل ٹرائبز ایکٹ 1871ء
یہ تمام قوانین ایک مشترکہ تصور پر قائم تھے: ریاست بعض افراد یا گروہوں کو پہلے ہی”ممکنہ خطرہ”سمجھ سکتی ہے، اور انہیں جرم ثابت ہونے سے پہلے بھی نگرانی میں رکھ سکتی ہے۔
جس وقت برطانوی نوآبادیاتی حکومت نے 1871ء میں “کریمنل ٹرائبز ایکٹ” نافذ کیا۔ اس قانون کی منطق صریحاً نسلی اور طبقاتی تھی کچھ مخصوص قبائل اور برادریوں کو “موروثی مجرم” قرار دے دیا گیا یعنی ان کے بچے بھی، جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے، “مجرم” تھے۔ کوئی جرم ثابت کرنے کی ضرورت نہیں تھی، کوئی عدالتی کارروائی نہیں تھی۔ خون اور نسب ہی “جرم” کا ثبوت تھے۔ ان “مجرم قبائل” کے افراد کے لیے: لازمی رجسٹریشن تھی، نقل و حرکت پر پابندیاں تھیں، ہفتہ وار پولیس اسٹیشن پر حاضری لازم تھی، اور بغیر اجازت علاقہ چھوڑنا جرم تھا۔ یہ نوآبادیاتی ریاست کی سب سے ننگی شکل تھی ایک ایسا نظام جو انسانوں کو ان کی پیدائش کی بنیاد پر مشتبہ قرار دیتا ہے۔ اس دور میں یہ قانون دراصل برطانوی سرمایہ داری کی ضرورت تھی۔ برصغیر میں نئے نوآبادیاتی معاشی نظام نے پرانے قبائلی اور کاریگر طبقات کو بے روزگار کر دیا تھا جو لوگ ہل چلاتے تھے، جنگلوں میں شکار کرتے تھے، خانہ بدوش تھے، وہ اچانک “غیر پیداواری” ہو گئے تھے۔ یہ “فالتو” آبادی، جو سرمایہ دارانہ معیشت کے حاشیے پر تھی، نوآبادیاتی حکومت کے لیے “خطرہ” بن گئی۔ کریمنل ٹرائبز ایکٹ دراصل اس سرپلس آبادی کو کنٹرول کرنے کا قانونی اوزار تھا۔
یہاں سے آگے چل کر دیکھتے ہیں تو پہلی جنگِ عظیم کے دوران، جب برطانوی سامراج معاشی دباؤ میں تھا اور برصغیر میں سیاسی بیداری بڑھ رہی تھی، 1918ء میں “ریسٹریکشن آف ہیبچوئل آفینڈرز (پنجاب) ایکٹ” آیا۔ کریمنل ٹرائبز ایکٹ میں نسل کی بنیاد پر جبر تھا، لیکن 1918ء کا قانون ذرا “جدید” تھا اب نسل نہیں، “عادت” بنیاد بن گئی۔ لیکن منطق وہی رہی بغیر سزایابی کے پابندیاں۔ یہاں ایک تاریخی اہم واقعہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ خود برطانوی ہند کے سیکریٹری آف اسٹیٹ نے اس قانون پر اعتراض کیا تھا کہ “غیر سزا یافتہ افراد کی نقل و حرکت محدود کرنا اور انہیں پولیس نگرانی میں دینا برطانوی ہند کے مستقل قانون میں جگہ نہیں رکھتا۔” یعنی یہ قانون اتنا ظالمانہ تھا کہ خود نوآبادیاتی آقاؤں کو بھی اس کے جواز میں دشواری ہوئی لیکن پھر بھی نافذ ہوا، کیونکہ طبقاتی مفادات نے قانونی اصولوں پر فوقیت حاصل کی۔
آزادی کے بعد کیا بدلا؟ 1947ء میں پاکستان وجود میں آیا۔ ریاست بدل گئی۔ پرچم بدل گیا۔ آئین وجود میں آگیا۔ مگر کیا ریاستی اداروں کی ساخت بھی تبدیل ہوئی؟ برطانوی ہندوستان کی بیوروکریسی، پولیس، ضلعی انتظامیہ، زمینوں کا انتظام، فوجداری قوانین، جیلوں کا نظام، حتیٰ کہ سرکاری زبان تک بڑی حد تک برقرار رہی۔ اسےہماری زبان میں Colonial State Continuity کہا جاتا ہے۔ یعنی سیاسی اقتدار تو مقامی اشرافیہ کو منتقل ہوجاتا ہے، مگر ریاستی مشینری کی بنیادی ساخت بڑی حد تک ویسی ہی رہتی ہے۔
پاکستان کے ممتاز ماہرین قانون اور تاریخ، جیسے ڈاکٹر حمزہ علوی، عائشہ جلال اور حسن عسکری رضوی، مختلف زاویوں سے اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ نوآبادیاتی ریاست کی کئی انتظامی خصوصیات آزادی کے بعد بھی جاری رہیں، اگرچہ ان کے تجزیات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
1958ء میں فوجی حکومت قائم ہوئی۔ اس کے بعد 1959ء میں West Pakistan Control of Goondas Ordinance نافذ کیا گیا۔ “گونڈا” اردو اور ہندی کا لفظ بدمعاش، غنڈے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ قانون ایک نئے تصور پر مبنی تھا لیکن ضلعی مجسٹریٹ کو اختیار تھا کہ وہ کسی کو محض اس کے “طرزِ عمل اور تعلقات” کی بنیاد پر “گونڈا” قرار دے اور دو سال تک پابندیاں عائد کرے بغیر عدالتی سزا کے۔ یہ فوجی آمریت کے دور کا قانون ہے، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ آمریت کے بعد بھی چلتا رہا، جمہوری ادوار میں بھی یہ قانون کتابوں میں رہا، اور کبھی کبھی استعمال بھی ہوا۔ یہاں ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ جمہوریت اور آمریت طبقاتی ریاست کی دو مختلف شکلیں ہیں ان کے اوزار مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن طبقاتی کردار ایک ہی ہے۔
یعنی 1871ء میں مرکز برادری تھی۔ 1918ء میں مرکز”عادی مجرم” تھا۔ 1959ء میں مرکز انتظامیہ کی تشخیص بن گئی۔ یعنی جرم سے زیادہ اہم یہ ہوگیا کہ ریاست کسی شخص کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہے۔
2026ء: ہیبچوئل آفینڈرز بل یعنی ڈیجیٹل نوآبادیت۔
اب آتے ہیں 2026ء کے بل پر۔ یہ بل خود دعویٰ کرتا ہے کہ وہ 1918ء اور 1959ء کے قوانین کی جگہ لے رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ انہی قوانین کی منطق کو، جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ، اور زیادہ وسیع اختیارات کے ساتھ، دوبارہ نافذ کرتا ہے۔ لینن نے کہا تھا کہ سامراجیت پرانے استحصال کا ہی اعلیٰ مرحلہ ہے اسی طرح، اس بل کو ہم پرانے نوآبادیاتی جبر کا “اعلیٰ ڈیجیٹل مرحلہ” کہہ سکتے ہیں ۔ ماؤ نے “تضادات کا تجزیہ” کرتے ہوئے ہمیشہ یہ سوال پوچھاکہ یہ تضاد کن طبقات کے درمیان ہے؟ آیئے یہی سوال اس بل کے بارے میں کھوجنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
بیسویں صدی کے آخری عشروں میں دنیا بھر میں نگرانی کے طریقے بدلنے لگے۔ پہلے شناختی رجسٹر تھے۔ پھر قومی شناختی کارڈ آئے۔ اس کے بعد ڈیجیٹل ڈیٹا، موبائل فون، سی سی ٹی وی، چہرے کی شناخت، بایومیٹرکس اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی کے نظام سامنے آئے۔ فرانسیسی فلسفی Michel Foucault نے اپنی کتاب Discipline and Punish میں استدلال کیا کہ جدید ریاست صرف سزا نہیں دیتی بلکہ مسلسل نگرانی کے ذریعے افراد کے رویوں کو تشکیل دینے کی کوشش بھی کرتی ہے۔
بل کے مطابق، “ہیبچوئل آفینڈر” وہ شخص ہے جس کے خلاف ایک سے زیادہ مقدمے درج ہوں، ایک سے زیادہ گرفتاریاں ہوئی ہوں یا “قابلِ اعتماد شہادت” موجود ہو، عدالتی سزا لازمی نہیں۔
اب سوچیں
پاکستان میں پولیس کسے نشانہ بناتی ہے؟ امیر، اشرافیہ، زمیندار، سرمایہ دار ان کے خلاف “ایک سے زیادہ مقدمے” عام طور پر درج نہیں ہوتے، کیونکہ یہ پولیس، سیاستدانوں اور عدالتوں پر اثرورسوخ رکھتے ہیں۔ جن لوگوں کے خلاف کثرت سے مقدمے درج ہوتے ہیں وہ ہیں محنت کش طبقے کے نوجوان، پسماندہ برادریوں کے افراد،ہمارے جیسے سیاسی کارکن جن پر جھوٹے مقدمے بنتے ہیں، اقلیتیں، خانہ بدوش اور ریہڑی والے۔ یہ لوگ پہلے سے ہی نظامِ انصاف کے شکار ہیں اب بل انہیں مزید دباؤ کا سامنا کرنے والا بنا دیتا ہے۔
بل میں “اینٹی سوشل” رویے کی جو فہرست دی گئی ہے، اس میں شامل ہیں سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد یا “غلط معلومات” پھیلانا عوامی مقامات پر “غیر اخلاقی زبان” یا “تشویش پیدا کرنا”
ہراسانی وغیرہ۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ان الفاظ کی تعریف کون کرے گا؟ “غلط معلومات” کیا ہے؟ “غیر اخلاقی زبان” کیا ہے؟ “تشویش پیدا کرنا” کا کیا مطلب ہے؟ اور سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ ضلعی انٹیلیجنس کمیٹیوں کو اس فہرست میں خود اضافہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے بغیر اسمبلی سے دوبارہ منظوری کے۔ یعنی ایک غیر منتخب انتظامی کمیٹی خود طے کرے گی کہ “اینٹی سوشل” کون ہے۔
کون ہمارے دوست ہیں اور کون ہمارے دشمن؟ یہ انقلاب کا سب سے اہم سوال ہے۔ اس بل میں ریاست خود طے کرتی ہے کہ کون “دشمن” ہے، اور وہ بھی عدالتی نگرانی کے بغیر۔ تاریخ میں جب بھی ریاست کو یہ اختیار ملا ہے، وہ ہمیشہ محنت کش طبقے، سیاسی مخالفین اور پسماندہ طبقات کے خلاف استعمال ہوا ہے۔
بل کسی شخص کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے، غیر منقولہ جائیداد ضبط کرنے، اور منقولہ اثاثے ضبط کرنے کا اختیار دیتا ہے عدالتی فیصلے سے پہلے۔ یہ اقدام کس پر زیادہ اثر ڈالے گا؟ امیر شخص کے پاس کئی اکاؤنٹس ہوتے ہیں، بیرونِ ملک اثاثے ہوتے ہیں، وکلاء کی فوج ہوتی ہے۔ غریب مزدور کے پاس جو واحد بینک اکاؤنٹ ہے، اگر وہ منجمد ہو جائے تو اس کے بچے فاقوں کی زد میں آ جائیں۔ طبقاتی فرق یہاں بھی عیاں ہے۔ جائیداد کی ضبطی ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ تاریخ میں جب بھی حکمران طبقے نے عوام کی جائیداد پر قبضہ کیا چاہے وہ برطانوی حکومت کی “لینڈ سیٹلمنٹ” ہو یا ایوب خان کا زمینی اصلاحات کا دعویٰ اصل مقصد محنت کش طبقے کو بے زمین اور بے اثاثہ بنانا تھا۔ 2026ء کا بل اسی روایت کو جاری رکھنے کی طرف اشارہ کر رہا ہے لیکن قانونی لبادے میں۔
بل کے تحت “جدید ٹیکنالوجی” کے ذریعے الیکٹرانک نگرانی، موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی ضبطی، سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کرنا، اور “الیکٹرانک ٹریکنگ ڈیوائس” (ٹخنے میں پہنانے والی anklet) کا استعمال شامل ہے۔ یہ نوآبادیاتی “نقل و حرکت کی پابندی” کا ڈیجیٹل ورژن ہے۔ 1871ء میں پولیس اسٹیشن پر ہفتہ وار حاضری لازمی تھی 2026ء میں آپ کے ٹخنے پر GPS ٹریکر ہوگا غور کیجیے قوانین کی شکل بدل رہی ہے، جوہر اسی طرح برقرار رکھا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کرنا خاص طور پر توجہ طلب ہے۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا عوام کا وہ ذریعۂ اظہار ہے جو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا (جو اکثر حکمران طبقے کے ہاتھ میں ہے) سے آزاد ہے۔ اس ذریعے کو بند کرنے کا اختیار ایک انتظامی کمیٹی کو دینا گویا عوامی آواز کو خاموش کرنے کا قانونی اختیار ہے۔
شناختی کارڈ (CNIC) بلاک کرنا پاکستانی ریاست کی سب سے ظالمانہ طاقت میں سے ایک ہے۔ CNIC کے بغیر بینک اکاؤنٹ نہیں کھل سکتا، سرکاری سہولت نہیں ملتی، گھر کرایے پر لینا مشکل ہو جاتا ہے، موبائل سم نہیں ملتی، ووٹ نہیں دے سکتے۔ یعنی CNIC بلاک کرنا عملاً کسی کو “شہری” کے درجے سے خارج کرنا ہے اسے ریاست سے بے دخل کرنا ہے۔ یہ اختیار انتظامی کمیٹی کو دینا عوام کے ایک طبقے کو مکمل طور پر بے اثر اور بے بس بنا دینے کا قانونی ہتھیار ہے۔ پاسپورٹ بلاک کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے، یہ کسی کی نقل و حرکت کو ملک کے اندر تک محدود کر دیتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے 1871ء کے “کریمنل ٹرائبز ایکٹ” میں قبائلی افراد کی نقل و حرکت محدود کی گئی تھی۔ لیکن اب “قبیلہ” وسیع ہو گیا ہے اب کوئی بھی اس کا شکار ہو سکتا ہے۔
بل کے تحت “ہیبچوئل آفینڈر” قرار پانے والوں کے بایومیٹرک اور فنگر پرنٹس اور ممکنہ طور پر DNA لازمی طور پر اندراج کیے جائیں گے۔ یہ اقدام خاص طور پر خطرناک ہے کیونکہ اول، DNA بے گناہ ہونے کا ثبوت نہیں بنتا، بلکہ ریاست کے ڈیٹا بیس میں ایک مشکوک شخص کی حیثیت سے آپ کا DNA ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ دوم، یہ ڈیٹا کہاں محفوظ ہوگا، کون استعمال کرے گا، اور کیا ضمانت ہے کہ یہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہوگا؟ تاریخی طور پر، جب بھی ریاستوں نے “مشتبہ طبقات” کا بایومیٹرک ڈیٹا اکٹھا کیا، وہ ڈیٹا ان ہی طبقات کے خلاف استعمال ہوا۔ یہ جبر کا ایک انتہائی ذاتی، انتہائی گہرا قدم ہے انسانی جسم تک ریاستی دراندازی۔
بل کے مطابق، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی سطح پر “انٹیلیجنس کمیٹیاں” قائم ہوں گی، جن کی سفارش پر یہ تمام اقدامات ہوں گے۔ یہ کمیٹیاں کیا ہیں؟ کن لوگوں پر مشتمل ہوں گی؟ ان کا احتساب کون کرے گا؟
یہ سوالات بل کے متن میں واضح نہیں ہیں۔ اور یہی سب سے بڑا مسئلہ ہےکہ ایک ایسی کمیٹی جو نہ منتخب ہے، نہ جس کا کوئی مقررہ عدالتی معیار ہے کسی بھی شخص کو “مجرم” قرار دے کر اس کی زندگی تباہ کر سکتی ہے۔ لینن نے بیوروکریسی کو “ریاستی جبر کا خاموش اوزار” کہا تھا۔ یہ “انٹیلیجنس کمیٹیاں” دراصل بیوروکریٹک جبر کی ایک نئی اشکال ہیں یعنی بغیر سوال کے اختیار، بغیر احتساب کے طاقت۔
آیئے کچھ تاریخی واقعات سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ سوویت یونین میں NKVD کی “ٹرائیکاز” (تین رکنی کمیٹیاں) تھیں جو بغیر عدالت کے لوگوں کو سائبیریا بھیج دیتی تھیں۔ نازی جرمنی میں Gestapo کی خصوصی کمیٹیاں تھیں جو عدالت سے باہر فیصلے کرتی تھیں۔ ان تمام نظاموں میں ایک چیز مشترک تھی انتظامی فیصلے کو عدالتی فیصلے پر ترجیح۔ اور پنجاب بل 2026ء میں بھی یہی منطق کارفرما ہے۔
اب “اپیل” کا طریقہ کار دیکھیں: متاثرہ شخص اعلیٰ ڈویژنل اور صوبائی انٹیلیجنس کمیٹیوں سے رجوع کر سکتا ہے۔ یعنی اپیل بھی اسی انتظامی ڈھانچے کے اندر ہے۔ عدالت کی طرف جانے کا راستہ واضح نہیں۔ یہ “اپیل کا حق” در حقیقت کوئی حق نہیں یہ ایک بند دائرے میں گھومنا ہے۔
پاکستان کا آئین کئی بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ پی ٹی آئی کے شیخ وقاص اکرم نے جن آئینی شقوں کی خلاف ورزی کا ذکر کیا، وہ درست مشاہدہ ہےطیعنی آرٹیکل 10-A کے تحت، ہر شخص اس وقت تک بے گناہ ہے جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے۔ بل اسے الٹ دیتا ہےکہ انتظامی کمیٹی کی رائے کافی ہے۔
آرٹیکل 10 کے تحت، گرفتار شخص کو وکیل اور عدالت کا حق حاصل ہے۔جبکہ بل کے تحت انتظامی اقدامات عدالتی نگرانی سے پہلے ہو سکتے ہیں۔
آرٹیکل 19 اظہار رائے کی ضمانت دیتا ہے۔ سوشل میڈیا اکاؤنٹ بلاک کرنا اس آزادی کی براہِ راست خلاف ورزی ہے۔
آرٹیکل 24 کے تحت، جائیداد بغیر قانونی عمل کے ضبط نہیں ہو سکتی۔جبکہ بل عدالتی فیصلے سے پہلے جائیداد ضبطی کا اختیار دیتا ہے۔
آئین خود ایک طبقاتی دستاویز ہے۔ جو آئین برطانوی نوآبادیاتی قوانین کے ورثے پر بنا ہو، جو آئین اسلامی جمہوریہ کے نام پر جاگیردارانہ ڈھانچے کو تحفظ دیتا ہو، وہ آئین بھی محنت کش طبقے کی مکمل نجات کا ضامن نہیں ہو سکتا۔ تاہم، اس وقت آئینی تحفظات بھی ضروری ہیں کیونکہ جب ریاست خود اپنے آئین کو توڑتی ہے، تو طبقاتی جبر مزید بے قید ہو جاتا ہے۔
بل کی نوعیت سمجھنے کہ بعد اب سوال یہ ہے کہ یہ بل کس کے ہاتھ مضبوط کرتا ہے؟
پنجاب کی موجودہ حکومت پی ایم ایل این کی ہے جو بڑے تاجروں، صنعتکاروں، جاگیرداروں اور شہری بورژوازی کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس جماعت کے ارکانِ اسمبلی کے مفادات زمین، سرمائے اور ریاستی وسائل سے جڑے ہیں۔ یہ بلدراصل ان مفادات کی حفاظت کرتا ہے اس لیے قابل غور یہ یہ بات کہ بل میں لکھا گیا ہے کہ بھتہ خوری اور زمینوں پر قبضے کے خلاف قانون لیکن “قبضہ” کی تعریف کون کرے گا؟ وہ ہاری جو زمیندار کی زمین سے انصاف مانگ رہا ہے، کیا وہ “قبضہ” گروپ بن جائے گا؟ پھر لکھا ہے منظم جرائم کے خلاف قانون لیکن “منظم جرائم” کے پس پردہ تو وہی لوگ ہوتے ہیں جو اس وقت بل پاس کروانے میں پیش پیش ہیں یعنی ان کا نشانہ ٹریڈ یونین، طلبا تنظیمیں اور سیاسی گروہ ٹارگٹ ہونگے۔
یہ بل کسے نشانہ بناتا ہے؟
تاریخ اور موجودہ پاکستانی صورتحال دونوں ایک ہی جواب دیتے ہیں: سب سے پہلے وہ لوگ نشانہ بنتے ہیں جو مزدور تحریکوں اور ٹریڈ یونینوں میں ہیں، سیاسی مخالف جماعتوں کے کارکن ہیں، صحافی اور ناقدین ہیں، پسماندہ برادریوں اور غریب طبقات کے افراد ہیں، نوجوان جن پر جھوٹے مقدمات بنائے جاتے ہیں۔
اور یہاں بل کا وہ پہلو نوٹ کریں جسے پی ٹی آئی کے رانا آفتاب نے بھی اٹھایا “آنے والی نسلوں کو متاثر کرے گا یہاں تک کہ حکمران جماعت پی ایم ایل این بھی ایک دن اقتدار سے باہر ہو کر اس قانون کا نشانہ بن سکتی ہے۔”
یہ صرف پی ٹی آئی بمقابلہ پی ایم ایل این کا مسئلہ نہیں ہے۔ دونوں جماعتیں حکمران طبقات کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اصل نشانہ ہمیشہ وہ عوام ہوتے ہیں جن کا کوئی طاقتور وکیل نہیں ہوتا، جو انتظامی کمیٹیوں کو رشوت نہیں دے سکتے، جن کے اثاثے اتنے محدود ہیں کہ ضبطی سے وہ فوری تباہ ہو جائیں۔
بل کا سب سے زیادہ تنقید کی زد میں آنے والا نکتہ یہ ہےکہ عدالت سے باقاعدہ سزا یافتہ ہونا ضروری نہیں چالان جمع ہونا کافی ہے، چاہے مقدمہ بعد میں بریت پر ختم ہو۔ یہ “سزا بغیر سزایابی” کا اصول تاریخ میں ہمیشہ کمزور طبقات کے خلاف استعمال ہوا ہے۔ آیئے چند تاریخی مثالیں دیکھتے ہیں۔
کریمنل ٹرائبز ایکٹ 1871ء کے تحت، قبائل کے افراد محض “قبیلے کا رکن” ہونے کی بنا پر رجسٹریشن اور پابندیوں کا شکار تھے۔ نہ کوئی جرم، نہ کوئی عدالت نسل سے تعلق ہی سزا تھی۔ جب مزدوروں نے صنعتی مشینوں کے خلاف بغاوت کی، تو فرانسیسی اور برطانوی حکومتوں نے “مشتبہ عناصر” کو بغیر مقدمے کے قید کیا۔
امریکہ میں سرخ دہشت (Red Scare) 1919ء اور پھر 1950ء کی دہائی میں، لوگوں کو محض “کمیونسٹ ہمدرد” ہونے کے الزام میں، بغیر کسی جرم کے، ملازمتوں سے نکالا گیا، بلیک لسٹ کیا گیا، بعض کو قید بھی ہوئی۔
پاکستان میں آج بھی ہزاروں لوگ “لاپتہ” ہیں بغیر کسی عدالتی کارروائی کے، بغیر کسی سزا کے۔ 2026ء کا بل اس غیر رسمی “بغیر ثبوت گرفتاری” کو ایک رسمی، قانونی شکل دے دیتا ہے۔ طبقاتی سماج میں سچائی بھی طبقاتی ہوتی ہے اور یہاں سچائی یہ ہےکہ سزا بغیر سزایابی” کا نظام ہمیشہ ان لوگوں پر لاگو ہوتا ہے جن کے پاس اسے چیلنج کرنے کے وسائل نہیں ہوتے۔ بل میں “سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلانا” کو “اینٹی سوشل” رویہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ شق خاص طور پر توجہ طلب ہے۔
“غلط معلومات” کی تعریف حکومت کرتی ہے۔ پاکستان کی حالیہ تاریخ میں کتنے صحافیوں کو “غلط معلومات” پھیلانے کے الزام میں نشانہ بنایا گیا جب انہوں نے طاقتور اداروں پر تنقید کی؟ کتنے سیاسی کارکنوں پر سوشل میڈیا پوسٹ کی بنا پر مقدمات بنے؟”عوامی مقامات پر تشویش پیدا کرنا” کیا احتجاج “تشویش” ہے؟ کیا ہڑتال “تشویش” ہے؟ کیا کسی ظلم کے خلاف آواز اٹھانا “تشویش” ہے؟ “ہراسانی” ایک مبہم اور پھیلاؤ رکھنے والا الزام جو کسی پر بھی چسپاں کیا جا سکتا ہے۔
گرامشی نے “ہیجیمونی” (فکری تسلط) کا جو تصور دیا، وہ یہاں قابل اطلاق ہے: حکمران طبقہ صرف فوجی یا قانونی طاقت سے نہیں، بلکہ فکری تسلط کے ذریعے بھی حکومت کرتا ہے اور اس کا بڑا حصہ یہ ہے کہ “اختلاف” کو “جرم” کے برابر قرار دے دو۔ پنجاب بل 2026ء میں “اینٹی سوشل بیہیویئر” کی مبہم تعریف دراصل اسی ہیجیمونی کا قانونی اظہار ہے۔
ایک اور قابلِ توجہ بات ہےکہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کو خود پتا نہیں تھا کہ بل قائمہ کمیٹی سے گزر چکا ہے۔ یعنی ایک ایسا قانون جو لاکھوں پاکستانیوں کی زندگیوں کو متاثر کر سکتا ہے اسمبلی کے مناسب علم کے بغیر، بغیر کافی بحث کے، آگے بڑھ گیا۔ اس معاملے سے پارلیمانی جمہوریت کی ایک بنیادی کمزوری عیاں ہوتی ہے ، ایسی کمزوری جس پر ماؤ نے بار بار زور دیا کہ پارلیمانی عمل اکثر محنت کش طبقے کی واقعی نمائندگی نہیں کرتا۔ قانون بنتے ہیں پسِ پردہ، کمیٹیوں میں، بند کمروں میں جہاں صرف ایک مخصوص اشرافیہ کی رسائی ہوتی ہے۔
اسپیکر کی حیرانی، اپوزیشن کی تنقید، قائمہ کمیٹی کی خفیہ منظوری یہ سب مل کر ایک تصویر بناتے ہیں۔ پاکستانی پارلیمان میں قانون سازی ایک شفاف جمہوری عمل نہیں بلکہ ایک بند انتظامی عمل ہے جس پر مخصوص گروہوں کا کنٹرول ہے۔
سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے موجودہ حکومت کو “ملکی تاریخ کی سب سے غیر جمہوری حکومت” کہا۔ یہ بیان بل کی تنقید کے تناظر میں آیا۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ بیان اپنے آپ میں ایک محدود نقطۂ نظر کا اظہار ہے۔ کیونکہ جب یہی “اپوزیشن” اقتدار میں تھی، کیا اس نے محنت کش طبقے کے لیے کوئی بنیادی تبدیلی کی؟ کیا اس نے نوآبادیاتی قوانین کو منسوخ کیا؟ کیا اس نے زمینی اصلاحات کیں؟ کیا اس نے پولیس کا طبقاتی کردار بدلا؟
نہیں۔ کیونکہ پی ٹی آئی، پی پی پی، پی ایم ایل این یہ تمام جماعتیں مختلف حصوں کی حکمران طبقاتی جماعتیں ہیں۔ ان کے درمیان اقتدار کی لڑائی ایک طبقاتی لڑائی نہیں ہے یہ ایک ہی طبقے کے مختلف دھڑوں کی اقتدار کی جنگ ہے۔ یاد رکھیں بورژوا اپوزیشن حکمران طبقے کے اندر اصلاح کر سکتی ہے لیکن نظام کو بنیادی طور پر نہیں بدل سکتی۔ اس بل کے خلاف پارلیمانی تنقید ضروری ہے، لیکن وہ بہت نا کافی ہے۔
2026ء میں پنجاب بل کو صرف پاکستان کے داخلی سیاق میں نہیں سمجھا جا سکتا اسے عالمی سیاق میں بھی دیکھنا ضروری ہے۔
دنیا بھر میں، خاص طور پر گلوبل ساؤتھ میں، ہم ایک نئی رجحان دیکھ رہے ہیں۔نو لبرل معاشی پالیسیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی کو قابو کرنے کے لیے حکومتیں “قانون و امن” کے نام پر ڈیجیٹل نگرانی اور انتظامی جبر کے نئے قوانین لا رہی ہیں۔
بھارت میں UAPA (غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ) جو کسی کو بھی بغیر ضمانت کے مہینوں تک قید کر سکتا ہے کا استعمال دیکھیں۔ برازیل میں مارکوس والنیا حکومت کے دور میں سماجی تحریکوں کے خلاف قانونی جبر دیکھیں۔ مصر میں السیسی کی حکومت کا “اینٹی ٹیررازم” قوانین کے ذریعے معمول کی سیاسی سرگرمی کو جرم بنانا دیکھیں۔ یہ عالمی سرمایہ داری کی ایک مرحلہ واری ضرورت ہے۔جب نو لبرل نظام معاشی وعدے پورے نہیں کر سکتا، تو وہ سیاسی اختلاف کو کچلنے کا سہارا لیتا ہے۔ پنجاب بل 2026ء اسی عالمی رجحان کا ایک مقامی اظہار ہے۔
ایک اہم سوال: کیا اس بل کو “اصلاح” کر کے قابلِ قبول بنایا جا سکتا ہے؟
کچھ ناقدین جیسے وکیل تیمور ملک نے مطالبہ کیا ہے کہ “واضح قانونی معیار، عدالتی نگرانی اور موثر حقِ اپیل” ہو تو یہ قانون قابل قبول ہو سکتا ہے۔ یہ ایک اہم اور فوری ضرورت ہے، اور ان مطالبات کی حمایت ضروری ہے۔ لیکن کیا ایک ایسا قانون، جو بنیادی طور پر “سزا بغیر سزایابی” کی منطق پر کھڑا ہے، “اصلاحات” سے واقعی بدل سکتا ہے؟ یا اصلاحات صرف اس کے ظاہری حلیے کو نرم کرتی ہیں جبکہ طبقاتی کردار برقرار رہتا ہے؟
تاریخ اس سوال کا جواب دیتی ہے: 1918ء کے قانون میں بھی کچھ “حفاظتی شقیں” تھیں۔ 1959ء کے قانون میں بھی مجسٹریٹ کا اختیار “قانونی” لباس میں تھا۔ لیکن وہ شقیں انہیں طبقاتی جبر کے اوزار بننے سے نہیں روک سکیں۔ کیونکہ جب تک طبقاتی نظام برقرار ہے، قانون اسی طبقاتی نظام کی خدمت کرتا رہے گا۔ یہ کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ فوری آئینی اور قانونی تحفظات بے کار ہیں وہ ضروری ہیں، اور آج کے عوام کی حفاظت کے لیے اہم ہیں۔ لیکن یہ تحفظات حتمی حل نہیں ہیں۔
ماؤ نے کہا تھا: “عوام، صرف عوام، تاریخ کی تخلیق کار قوت ہیں۔”
اس بل کے خلاف محض پارلیمانی تقریروں یا قانونی دلائل سے زیادہ ضروری ہے: عوامی شعور، عوامی منظم مزاحمت، اور ایک ایسی تحریک جو اس بل کو اس کے طبقاتی تناظر میں سمجھے۔
ہمارے لیے فوری طور پر ضروری ہےکہ بل کی شقوں کو عام زبان میں، محنت کشوں تک پہنچانا تاکہ جو لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، وہ جانیں کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ دوسرا وکلاء، صحافیوں، ٹریڈ یونینز، اور سول سوسائٹی کی متحد مزاحمت کیونکہ یہ بل ان سب کے لیے برابر کا خطرہ ہے۔تیسرا پارلیمانی دباؤ بل کو اسمبلی میں آگے نہ بڑھنے دینا، یا کم از کم اس کی سب سے خطرناک شقوں کو ختم کروانا۔ چوتھا یہ کہ اگر بل منظور ہوتا ہے، تو فوری آئینی چیلنج۔
ان سب سے آگے ایک اور ضروری کام ہےکہ اس بل کی طبقاتی بنیادوں کو سمجھنا اور عوام کو یہ شعور دینا کہ یہ کوئی اتفاقی قانونی غلطی نہیں یہ ایک نظامی مسئلہ ہے، جس کا حل محض قانون کی اصلاح نہیں بلکہ اس طبقاتی نظام کی تبدیلی ہے جو ایسے قوانین کو جنم دیتا ہے۔
حوالہ جات
– Dawn: “The Punjab government can cancel you with this law” (27 جون 2026ء)
– Dawn: “PA speaker taken aback as ‘Raj-style’ law sails thru panel” (29 جون 2026ء)
– Arab News: “Punjab speaker halts bill granting authorities sweeping powers” (29 جون 2026ء)
– Pakistan Today: “Punjab bill expanding executive powers faces criticism” (29 جون 2026ء)
– Express Tribune: “Punjab to introduce new anti-gang law” (25 جون 2026ء)