شادی یا سماجی سودا؟  ایک تجزیہ 

تحریر : احمد خاں ندیم

انسانی تاریخ میں شادی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہی۔ مختلف پیداواری نظاموں، ابتدائی اشتراکی خصوصیات رکھنے والے نظام ، غلام داری، جاگیرداری اور سرمایہ داری، میں اس کی شکلیں بدلتی رہیں۔ قدیم اشتراکی یا قبائلی معاشروں میں سماجی تعلقات زیادہ تر اجتماعی پیداوار اور بقا کے تقاضوں سے تشکیل پاتے تھے، جہاں نجی ملکیت محدود تھی۔ جیسے جیسے نجی ملکیت، طبقاتی تقسیم اور وراثت کے نظام مضبوط ہوئے، خاندان اور شادی کے ادارے بھی ان نئے معاشی تعلقات کے مطابق تبدیل ہوتے گئے۔ یوں شادی محض ایک ثقافتی روایت نہیں رہی بلکہ جائیداد، محنت اور سماجی طاقت کی منتقلی کا ایک اہم ذریعہ بن گئی۔

ہمارے معاشرے میں شادی کے گرد پیدا ہونے والے مسائل، مثلاً جہیز کا بوجھ،گاڑی کی ڈیمانڈ، سرکاری ملازمت کی شرط، زمین، جائیداد اور مکان کے مرلوں کی گنتی، سونے کے تولوں کے مطالبات، اور ان سب کے نتیجے میں ہزاروں لڑکیوں اور لڑکوں کا برسوں شادی کے انتظار میں رہ جانا، نہایت سنگین سماجی مسائل ہیں۔ ان مسائل کا حل محض “سوچ کی تبدیلی” یا انفرادی رویوں کی اصلاح میں تلاش کرنے کے بجائے انہیں جدلیاتی اور تاریخی مادیت کے نقطۂ نظر سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ رویے آخر پیدا کہاں سے ہوتے ہیں؟ کیا یہ صرف چند خاندانوں کی حرص و لالچ کا نتیجہ ہیں، یا پھر ایک ایسے مخصوص پیداواری نظام کی پیداوار ہیں جہاں جاگیردارانہ باقیات، نوآبادیاتی ورثہ اور نو لبرل سرمایہ داری ایک دوسرے میں پیوست ہو کر سماجی رشتوں کو تشکیل دیتے ہیں؟

اینگلز نے واضح کیا تھا کہ نجی ملکیت کے ارتقا کے ساتھ صرف وراثت کا نظام تبدیل نہیں ہوا بلکہ عورت کی سماجی پیداوار میں حیثیت بھی تبدیل ہوئی۔ جب پیداوار گھر اور برادری کے اجتماعی دائرے سے نکل کر نجی ملکیت اور طبقاتی کنٹرول کے تابع ہوئی تو عورت کی محنت کا بڑا حصہ غیر مرئی گھریلو محنت میں منتقل ہو گیا۔ یوں خاندان ایک ایسا ادارہ بن گیا جہاں نہ صرف جائیداد منتقل ہوتی تھی بلکہ محنت کی تقسیم بھی صنفی بنیادوں پر منظم ہوتی تھی۔  سرمایہ داری میں خاندان محنت کی دوبارہ پیداوار (social reproduction) کا بنیادی ادارہ بھی بن گیا، جہاں نئی نسل کی پرورش، محنت کش قوت کی تیاری اور روزمرہ زندگی کی دیکھ بھال کا بڑا حصہ بغیر معاوضے کے انجام دیا جاتا ہے۔

ماؤ زے تنگ نے اپنی تحریروں میں بارہا اس حقیقت پر زور دیا کہ خاندان اور شادی کوئی الگ تھلگ یا خالص نجی معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسا سماجی رشتہ ہے جو پیداواری تعلقات اور طبقاتی اقتدار کے ڈھانچے کے اندر تشکیل پاتا ہے۔ اگر ہم شادی کے مسئلے کو محض اخلاقی نصیحتوں یا انفرادی اصلاح کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں، اور اس سماجی و معاشی نظام کو نہ سمجھیں جو ان رویوں کو جنم دیتا ہے، تو ہم صرف علامات کا علاج کریں گے، مرض کا نہیں۔

 یہ مضمون اسی نقطہ نظر سے، ماؤ کے تجزیے کو بنیاد بنا کر، ہمارے معاشرے میں شادی کے موجودہ بحران کو سمجھنے کی کوشش کرے گا۔

1927 میں لکھی گئی اپنی مشہور تحریر، ہونان میں کسان تحریک کی جانچ کی رپورٹ، میں ماؤ زے تنگ نے چینی دیہی سماج میں عوام، خاص طور پر عورتوں پر مسلط چار بڑے اختیارات یا اقتدار کے نظاموں کی نشاندہی کی تھی۔ پہلا سیاسی اقتدار، یعنی ریاست اور مقامی جاگیردار اشرافیہ کی حکمرانی۔ دوسرا خاندانی یا قبائلی اقتدار، یعنی برادری، خاندان اور نسل کے نظام کی سختی۔ تیسرا مذہبی اقتدار، جس کے ذریعے روایات کو مقدس بنا کر ہر تنقید سے بالاتر کر دیا جاتا ہے۔ اور چوتھا، جو خاص طور پر عورتوں پر لاگو ہوتا ہے، شوہر کا اقتدار، یعنی مرد کی بالادستی کا وہ نظام جو شادی کے ذریعے قانونی اور سماجی جواز حاصل کرتا ہے۔

ماؤ کی بصیرت یہ تھی کہ یہ چاروں اختیارات ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں اور ایک ہی طبقاتی ڈھانچے کی مختلف شکلیں ہیں۔ جاگیردار زمیندار اپنی سیاسی طاقت کو خاندانی نظام کے ذریعے دیہی زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی اکائی، یعنی گھر اور شادی کے رشتے تک پھیلا دیتا ہے۔ شادی، اس تناظر میں، محض دو افراد کا ملاپ نہیں رہتی بلکہ جائیداد، وراثت، اور سماجی درجہ بندی کو منظم کرنے کا آلہ بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روایتی چینی معاشرے میں شادیاں والدین طے کرتے تھے، جہیز اور کابین کا لین دین ہوتا تھا، اور نوجوان لڑکے لڑکیوں کی اپنی مرضی کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ تاہم ماؤ کا تجزیہ مخصوص چینی تاریخی حالات میں تشکیل پایا تھا۔ اس کے باوجود نیم جاگیردارانہ معاشروں میں خاندان، زمین، عورت کے جبر اور سماجی اقتدار کے تعلقات کو سمجھنے کے لیے اس کے کئی تجزیاتی نکات آج بھی اہمیت رکھتے ہیں۔

اب اگر ہم اس فریم ورک کو اپنے معاشرے پر منطبق کریں تو تصویر واضح ہونے لگتی ہے۔ جہیز کا بوجھ،گاڑی کی ڈیمانڈ، سرکاری ملازمت کی شرط، زمین، جائیداد اور مکان کے مرلوں کی گنتی، سونے کے تولوں کے مطالبات، یہ سب دراصل جائیداد اور طبقاتی حیثیت کی پیمائش کے پیمانے ہیں۔ یہ کوئی اتفاقی تقاضے نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی علامات ہیں جس میں شادی کا مقصد محبت یا انسانی رفاقت نہیں بلکہ طبقاتی حیثیت کو محفوظ اور برقرار رکھنا، بلکہ اگر ممکن ہو تو بلند کرنا ہے۔ لڑکی کے والدین جب نوکری کا گریڈ پوچھتے ہیں تو وہ دراصل اپنی بیٹی کی، اور بالواسطہ اپنی، طبقاتی پوزیشن کو نیچے گرنے سے بچانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ لڑکے کے والدین جب جہیز کا مطالبہ کرتے ہیں یا اپنے لڑکے کے  “مکمل سیٹ” ہونے کا انتظار کرتے ہیں تو وہ دراصل اپنے خاندان کی معاشی حیثیت کو مزید مستحکم کیے بغیر ایک نئی ذمہ داری، یعنی نئی نسل کی پیداوار اور اس کی کفالت، قبول کرنے سے گریز کر رہے ہوتے ہیں۔

پاکستان جیسے معاشروں کو  نیم جاگیردارانہ اور نیم نوآبادیاتی سماج کہا جاتا ہے، جہاں پرانے زرعی اور خاندانی اقتدار کے ڈھانچے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے بلکہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ مل کر نئی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاشرہ مکمل طور پر ماضی کے جاگیردارانہ مرحلے میں منجمد ہے، بلکہ یہ کہ پرانے زرعی، خاندانی اور سماجی اقتدار کے ڈھانچے جدید سرمایہ دارانہ تعلقات کے ساتھ مل کر ایک نئی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ پاکستان میں زمین کی غیر مساوی تقسیم، برادری کے نظام، ریاستی طاقت تک غیر مساوی رسائی اور عالمی سرمایہ دارانہ منڈی سے انحصار نے مل کر ایسا سماجی ڈھانچہ پیدا کیا ہے جس میں جاگیردارانہ باقیات اور سرمایہ دارانہ تعلقات ایک دوسرے کے ساتھ بیک وقت موجود ہیں۔

یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔ پاکستانی معاشرہ، اور بالخصوص پنجاب کا دیہی و نیم شہری سماج، خالص جاگیردارانہ نظام میں نہیں بلکہ ایک ایسے آمیزے میں جی رہا ہے جہاں جاگیردارانہ سماجی تعلقات، یعنی برادری، ذات، خاندانی درجہ بندی، ابھی تک زندہ ہیں، مگر ان کے اوپر سرمایہ دارانہ منڈی کی منطق، خاص طور پر نو لبرل دور کی بے یقینی، بھی مسلط ہو چکی ہے۔ پاکستان میں زمین، برادری، ریاستی طاقت اور عالمی سرمایہ داری کے تعلقات اسی پیچیدہ ساخت کو تشکیل دیتے ہیں۔” یہی وجہ ہے کہ شادی کی “منڈی” میں دو مختلف قسم کے سرمائے کی پیمائش ایک ساتھ ہوتی ہے، ایک جاگیردارانہ سرمایہ، یعنی زمین، خاندانی نسب، برادری کی سماجی حیثیت، اور دوسرا سرمایہ دارانہ سرمایہ، یعنی تنخواہ، ملازمت کی نوعیت، بیرون ملک روزگار کا امکان، اور مالیاتی اثاثے۔ سرمایہ داری میں شادی صرف جذباتی تعلق نہیں رہتی بلکہ محنت کی قوت (labour power) کی دوبارہ پیداوار (social reproduction) کا ایک بنیادی ادارہ بن جاتی ہے۔

 بے روزگاری اور روزگار کی غیر یقینی صورتحال  دراصل نو لبرل سرمایہ داری کے اس مخصوص مرحلے کی پیداوار ہیں، جس میں محنت کش اور نچلے متوسط طبقے کی حقیقی آمدنی مہنگائی کی رفتار سے مسلسل پیچھے رہ جاتی ہے، روزگار عارضی، غیر محفوظ اور غیر یقینی بنتا جاتا ہے، جبکہ ریاست سماجی تحفظ، صحت، تعلیم اور رہائش جیسی بنیادی ذمہ داریوں سے بتدریج دستبردار ہوتی چلی جاتی ہے۔ ایسے حالات میں خاندان، بطور ایک سماجی ادارہ، وہ تمام معاشی اور سماجی بوجھ اٹھانے پر مجبور ہو جاتا ہے جو درحقیقت ریاست اور معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہونی چاہیے، مثلاً بڑھاپے کی کفالت، بیماری کے اخراجات اور بے روزگاری کے دوران معاشی سہارا۔ چنانچہ والدین شادی کو محض دو افراد کے باہمی رشتے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسی “معاشی ضمانت” یا “بیمہ پالیسی” کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں، جو مستقبل کے معاشی عدم تحفظ سے کسی حد تک حفاظت فراہم کر سکے۔ اسی تناظر میں سرکاری ملازمت، مستقل آمدنی، جائیداد، زمین، مکان اور دیگر معاشی وسائل شریکِ حیات کے انتخاب کے بنیادی پیمانے بن جاتے ہیں۔ لہٰذا یہ رویے محض چند افراد کی ذاتی حرص یا اخلاقی کمزوری کا اظہار نہیں بلکہ ایک مخصوص طبقاتی، معاشی اور تاریخی صورتِ حال کا منطقی نتیجہ ہیں۔

محنت کش طبقے کے مردوں پر بالادست ثقافت کا دباؤ۔

ہمارے گردونواح میں یہ منظر عام ہے کہ “دو چار لڑکے یا لڑکیاں جو سماجی طور پر مطلوبہ معیار پر پورا اترتے ہیں، ان کے رشتے ایک نہیں بلکہ بیک وقت درجنوں گھروں میں زیرِ غور ہوتے ہیں۔” درحقیقت یہ صورتِ حال شادی کے ادارے میں طلب اور رسد کے اسی عدم توازن کی عکاسی کرتی ہے جو محدود مواقع اور غیر مساوی وسائل کی تقسیم پر قائم معاشروں میں جنم لیتا ہے۔ جب سرکاری ملازمتیں کم ہوں، نجی شعبے میں بہتر تنخواہ اور روزگار کے مواقع بھی محدود اور چند طبقات تک مرتکز ہوں، تو وہ نوجوان جو ان مواقع تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں، شادی کے انتخاب میں ایک نایاب اور زیادہ مطلوب “وسیلہ” بن جاتے ہیں۔ نتیجتاً ان کے گرد مقابلہ شدت اختیار کر لیتا ہے، جبکہ محنت کش اور نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بے شمار نوجوان، خواہ وہ کتنے ہی دیانت دار، محنتی اور باکردار کیوں نہ ہوں، صرف اس لیے برسوں انتظار کی قطار میں کھڑے رہ جاتے ہیں کہ ان کے پاس وہ معاشی حیثیت موجود نہیں ہوتی جسے موجودہ سماجی ڈھانچہ شادی کے لیے فیصلہ کن معیار بنا چکا ہے۔

سرمایہ داری محبت کو بھی طبقاتی تعلقات سے آزاد نہیں چھوڑتی۔ فرد یہ سمجھتا ہے کہ وہ آزادانہ انتخاب کر رہا ہے،  تاریخی مادیت کا مطلب یہ نہیں کہ محبت یا انسانی جذبات غیر حقیقی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ انسانی جذبات بھی مخصوص سماجی حالات کے اندر تشکیل پاتے ہیں۔ فرد کے انتخاب کے امکانات تعلیم، آمدنی، رہائش، طبقاتی مقام اور سماجی سرمائے سے متاثر ہوتے ہیں۔

یہاں طبقاتی جہت مزید واضح ہوتی ہے۔ شادی صرف دو افراد کا ملاپ نہیں بلکہ دو خاندانوں کے سرمائے، سماجی رابطوں اور طبقاتی حیثیت کا انضمام ہے۔ اشرافیہ اور بالائی متوسط طبقہ اپنی شادیاں اپنے ہی طبقاتی دائرے میں طے کرتا ہے تاکہ جائیداد اور سماجی سرمایہ خاندان کے اندر ہی محفوظ رہے، اس عمل کو سماجیات میں طبقاتی اندرونی شادی، یا “کلاس اینڈوگیمی” کہا جاتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں طبقاتی تقسیم صرف آمدنی سے نہیں بنتی بلکہ زمین، ذات، برادری، خاندانی نام، سیاسی تعلقات اور ریاستی رسائی بھی طبقاتی مقام کو تشکیل دیتے ہیں۔ برادری کا نظام بعض اوقات طبقاتی تعلقات کو چھپانے کا کام کرتا ہے، کیونکہ معاشی مفادات کو ثقافتی شناخت اور خاندانی عزت کے پردے میں پیش کیا جاتا ہے۔  اسی لیے شادی اکثر صرف دو خاندانوں کا تعلق نہیں بلکہ سماجی طاقت اور وسائل کے اتحاد کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔

 نچلا متوسط طبقہ اور محنت کش طبقہ اسی نظام کی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر چونکہ اس کے پاس وسائل محدود ہیں، اس لیے یہ نقل خود اسی طبقے کے نوجوانوں کے لیے عذاب بن جاتی ہے۔ غریب اور نچلے متوسط طبقے کا خاندان بھی وہی معیار مانگنے لگتا ہے جو دراصل بالائی طبقے کے لیے قابل حصول ہے، اور اس طرح خود اپنے بچوں کے لیے شادی کا راستہ مسدود کر دیتا ہے۔ یہ ایک ایسی تضاد کی صورت حال ہے جسے جدلیاتی مادیت کے بغیر سمجھنا مشکل ہے، محنت کش طبقہ، اپنے شعور میں، بالائی طبقے کی اقدار اور معیارات کو اپنا لیتا ہے، حالانکہ مادی حالات اسے ان معیارات کو پورا کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اسے نظریاتی بالادستی، یا آنتونیو گرامشی کی اصطلاح میں ثقافتی بالادستی، کہا جا سکتا ہے، جس کے تحت حکمران طبقے کی اقدار پورے سماج کی مشترکہ “عقل عامہ” بن جاتی ہیں۔

ہمارے ہاں  اکیس بائیس سال کے لڑکے کوبھی  نکاح کی بات کرنے پر یہی جواب ملتا ہے کہ ابھی کیریئر مکمل نہیں۔   محنت کش اور نچلے متوسط طبقے کے نوجوان مرد پر یہ دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ اکیلے، بغیر کسی اجتماعی یا خاندانی تعاون کے، اپنی معاشی حیثیت کو اس سطح تک پہنچائے جو دراصل صرف بالائی طبقے کے لیے قابل حصول ہے، سرکاری گھر، ذاتی گاڑی، مستقل اور بھاری تنخواہ۔ یہ دباؤ خود اسی نظریاتی بالادستی کا نتیجہ ہے جس کا ذکر پہلے ہو چکا، جس میں محنت کش طبقہ بالائی طبقے کے معیارِ زندگی کو اپنا آئیڈیل بنا لیتا ہے۔ یاد رکھیں اس مسئلے کا حل انفرادی مقابلہ نہیں بلکہ اجتماعی جدوجہد ہے۔  یہی پدرشاہی تضاد کی شکل ہے۔ محنت کش مرد کو عورت پر نسبتی اختیار تو حاصل ہو سکتا ہے، مگر سرمایہ داری اسے بھی اپنی محنت بیچنے، بے روزگاری برداشت کرنے اور ایسے معیار پورے کرنے پر مجبور کرتی ہے جو اس کے طبقاتی حالات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ 

جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں، پرانی نسل میں یہ تصور عام تھا کہ “مل کر کمائیں گے اور مل کر گھر بسائیں گے۔” اس رویے میں باہمی معاشی تعاون اور اجتماعی ذمہ داری کے کچھ ایسے عناصر موجود تھے جو محنت کش اور نچلے متوسط طبقے کے لیے معاشی عدم تحفظ کا جزوی سہارا بن جاتے تھے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سماجی ڈھانچہ جبر اور عدم مساوات سے پاک تھا، بلکہ وہ بھی جاگیردارانہ اور پدرشاہی رشتوں سے گہرے طور پر متاثر تھا۔

آج نو لبرل سرمایہ داری نے اس محدود اجتماعی تعاون کو بھی بڑی حد تک کمزور کر دیا ہے۔ موجودہ نوجوان، خواہ وہ کتنا ہی محنتی اور باصلاحیت کیوں نہ ہو، منڈی کی مسابقت میں تنِ تنہا اپنا مقام بنانے پر مجبور ہے۔ مستقل روزگار کی کمی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، نجکاری اور سماجی تحفظ کے زوال نے خاندانی اور برادری کی ان معاونت پر مبنی روایات کو بھی کمزور کر دیا ہے، جو کبھی محنت کش طبقے کی بقا میں ایک اہم کردار ادا کرتی تھیں۔ نتیجتاً شادی، جو کبھی اجتماعی تعاون کے ذریعے نسبتاً آسان ہو جاتی تھی، آج زیادہ تر افراد کے لیے ایک انفرادی معاشی آزمائش میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔

پدرشاہی سے مرد کو کچھ نسبتی مراعات ضرور ملتی ہیں، مگر سرمایہ داری اسی مرد کو اپنی محنت بیچنے پر مجبور کرتی ہے، بے روزگار رکھتی ہے، اور پھر اسی سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ گھر، گاڑی، مستقل آمدنی اور سماجی وقار فراہم کرے۔

شادی اور  پدرشاہی ۔ 

اس المیے کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں بڑی تعداد میں خواتین تیس، پینتیس برس یا اس سے زیادہ عمر گزر جانے کے باوجود شادی کے انتظار میں رہ جاتی ہیں، حالانکہ اس صورتِ حال میں ان کا کوئی ذاتی قصور نہیں ہوتا۔ ان کی زندگیوں کا تعین انفرادی صلاحیت، محنت یا کردار سے زیادہ ان سماجی و معاشی شرائط سے ہوتا ہے جو شادی کے عمل پر حاوی ہیں۔

 ماؤ نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ نیم جاگیردارانہ سماج میں عورت پر ہونے والا جبر محض صنفی نہیں بلکہ طبقاتی، خاندانی اور سماجی جبر کے ساتھ گہرائی سے جڑا ہوتا ہے۔ عورت کی حیثیت کا تعین اس کی اپنی خواہش، قابلیت یا محنت سے کم، اور خاندان کی معاشی حیثیت، برادری کے معیار، طبقاتی مقام اور شادی کے رائج سماجی پیمانوں سے زیادہ کیا جاتا ہے۔ یوں شادی کا ادارہ، جو بظاہر ایک نجی اور خاندانی معاملہ دکھائی دیتا ہے، درحقیقت ایسے سماجی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے جن میں  عورت کی حیثیت کا تعین اس کی اپنی محنت، صلاحیت یا خواہش سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آیا وہ “منڈی” میں مطلوب ہے یا نہیں، چنانچہ عورت کی agency محدود ہو جاتی ہے اور اس کے مستقبل کے فیصلے بڑی حد تک خاندان اور سماجی ڈھانچے کے ہاتھ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ خواتین دراصل ایک ایسے فیصلے کا بوجھ اٹھاتی ہیں جس میں ان کی اپنی مرضی اور اختیار کا کوئی حقیقی کردار نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ محض ایک نفسیاتی یا انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی، معاشی اور سیاسی مسئلہ ہے۔ عورت کی خودمختاری کو محدود کر کے اسے شادی کے عمل میں ایک ایسی “شے” یا “قابلِ تبادلہ سماجی قدر” میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، جس کی اہمیت اس کی عمر، شکل و صورت، جہیز، خاندانی حیثیت اور معاشی پس منظر سے متعین کی جاتی ہے، نہ کہ اس کی شخصیت، صلاحیت، شعور یا انسانی وقار سے۔

ماؤ زے تنگ کے نزدیک اس مسئلے کا حل کبھی بھی عورتوں کو صبر، برداشت یا اپنی “قسمت” پر راضی رہنے کی تلقین میں نہیں بلکہ ان سماجی اور معاشی رشتوں کی تبدیلی میں پوشیدہ ہے جو عورت کو انحصار اور محکومی کی حالت میں رکھتے ہیں۔ اسی لیے ماؤ عورت کی معاشی خودمختاری، پیداواری عمل میں اس کی مکمل اور مساوی شرکت، اور جاگیردارانہ و پدرشاہی سماجی تعلقات کے خاتمے کو عورت کی حقیقی آزادی کی بنیادی شرط قرار دیتے ہیں۔

اسی طرح جہیز کا مسئلہ  ان سماجی، طبقاتی اور پدرشاہی تعلقات کا اظہار ہے جو عورت کو شادی سے پہلے ہی ایک ایسی “شے” میں تبدیل کر دیتے ہیں، جس کی قدر کا تعین اس کی شخصیت، شعور یا صلاحیت سے نہیں بلکہ اس کے ساتھ آنے والے جہیز، خاندانی حیثیت اور معاشی وسائل سے کیا جاتا ہے۔ یوں عورت کو ایک آزاد اور خودمختار انسان کے بجائے ایک ایسے تبادلے کا حصہ بنا دیا جاتا ہے جہاں اس کی سماجی قدر اور اس کے ساتھ منسلک مادی وسائل کو ایک دوسرے سے الگ کر کے نہیں دیکھا جاتا۔  جہیز دراصل یہ پیغام دیتا ہے کہ عورت کی اپنی ذات، اس کی صلاحیت اور کردار کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ایک معاوضہ بھی درکار ہے تاکہ اسے “قبول” کیا جا سکے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں جاگیردارانہ منطق اور سرمایہ دارانہ منڈی کی منطق ایک دوسرے سے مکمل طور پر گتھم گتھا ہو جاتی ہیں، عورت بیک وقت خاندانی عزت کی امین بھی ہے اور ایک قابلِ تبادلہ جنس بھی۔

یہ اجناس کاری، جیسا کہ تاریخ اور موجودہ سماجی مشاہدات دونوں گواہی دیتے ہیں، محض علامتی نہیں رہتی بلکہ اکثر تشدد کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ جہیز کی طلب شادی کے موقع پر ہی ختم نہیں ہوتی، بلکہ کئی گھرانوں میں شادی کے بعد بھی جاری رہتی ہے، سسرال کی طرف سے مزید جہیز یا نقدی کے مطالبات، طعنے اور ذہنی دباؤ کی صورت میں۔ جنوبی ایشیا کے وسیع تر سماجی تناظر میں یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ جہیز سے جڑے تنازعات گھریلو تشدد، ذہنی اذیت اور بعض انتہائی افسوسناک واقعات میں عورت کی جان کے ضیاع تک لے جا چکے ہیں۔ اس تشدد کی نوعیت محض جسمانی نہیں، یہ طعنوں، تحقیر، معاشی محرومی اور جذباتی جبر کی شکل میں بھی موجود رہتا ہے، اور اکثر اسے “گھریلو معاملہ” کہہ کر خاموش کر دیا جاتا ہے۔  یہ تشدد کوئی انفرادی شوہر یا ساس کی ذاتی سفاکی نہیں بلکہ اسی جاگیردارانہ نظام کا منطقی تسلسل ہے جو عورت کو شوہر کے خاندان کی “ملکیت” یا “ذمہ داری” کے طور پر پیش کرتا ہے۔ جب عورت کو جہیز کے ذریعے ایک قیمت کے ساتھ منسلک کر دیا جائے، تو اس کے ساتھ برتاؤ بھی اسی معاشی منطق کے تابع ہو جاتا ہے، اگر “قیمت” کم پڑی، اگر جہیز ناکافی سمجھا جائے، تو عورت کو اس کمی کی سزا دی جاتی ہے، گویا وہ خود ایک ناقص جنس ہو۔ یہ وہی چوتھا اختیار ہے جس کی نشاندہی ماؤ نے کی تھی، شوہر اور اس کے خاندان کا اقتدار، جو قانون اور روایت دونوں کی پشت پناہی سے عورت کی جان، جسم اور وقار پر حاوی ہو جاتا ہے۔

اس پوری بحث میں عورت کی اپنی آواز اکثر غائب رہتی ہے، فیصلے اس کے حق میں یا اس کے خلاف کیے جاتے ہیں، مگر شاذ و نادر ہی اس سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ خود کیا چاہتی ہے۔ جہیز کی تیاری سے لے کر رشتہ طے ہونے تک، اور بسا اوقات شادی کے بعد کی زندگی میں بھی، عورت ایک ایسے عمل کا مرکز ہوتی ہے جس میں فیصلہ سازی کا اختیار اس کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ وہ اپنے والدین کی معاشی حیثیت کا بوجھ بھی اٹھاتی ہے، برادری کے طعنوں کا نشانہ بھی بنتی ہے، اور شادی کے بعد سسرال کی توقعات کا دباؤ بھی سہتی ہے، مگر اس پورے عمل میں اس کی اپنی خواہش، اس کا اپنا کیریئر، اس کی اپنی رائے، ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ عورت کی خاموشی کوئی فطری یا ثقافتی امر نہیں بلکہ اسی نظام کی پیداوار ہے جو اسے چھوٹی عمر سے یہ سکھاتا ہے کہ اس کی قدر دوسروں کی منظوری سے وابستہ ہے۔ حقیقی تبدیلی وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں عورتیں خود منظم ہو کر اپنی زبان میں اپنا مسئلہ بیان کریں، نہ کہ جہاں مرد، خواہ وہ کتنے ہی نیک نیت کیوں نہ ہوں، ان کی طرف سے فیصلہ سنائیں۔ جہیز کے خلاف مہم، گھریلو تشدد کے خلاف قانونی اور سماجی جدوجہد، اور شادی میں عورت کی مکمل رضامندی و آزادانہ فیصلے کا حق، یہ سب اسی وسیع تر جدوجہد کا حصہ ہیں جس کا مقصد عورت کو ایک اجناس کی حیثیت سے نکال کر ایک مکمل، خودمختار اور برابر انسان کی حیثیت دینا ہے۔ عورت کی گھریلو محنت سرمایہ داری کے لیے مفت محنت ہے۔ کھانا پکانا، بچوں کی پرورش، بیماروں کی دیکھ بھال، بوڑھوں کی خدمت اور اگلی نسل کی تیاری وہ محنت ہے جس کا کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا، حالانکہ یہی محنت سرمایہ داری کے لیے نئی محنت کش قوت پیدا کرتی ہے۔   اسی وجہ سے عورت دوہرے استحصال کا سامنا کرتی ہے ۔ ایک طرف وہ اجرتی محنت میں شامل ہو کر کم اجرت، غیر محفوظ روزگار اور عدم مساوات کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ دوسری طرف گھر میں غیر معاوضہ محنت کے ذریعے محنت کش قوت کی روزمرہ اور نسل در نسل دوبارہ پیداوار کرتی ہے۔ اس لیے عورت کی آزادی کے بارے میں مردوں کی طرف سے صرف نظریاتی گفتگو کافی نہیں، بلکہ خواتین کی اپنی تنظیم، قیادت اور تجربات کو مرکز میں رکھنا ضروری ہے۔ 

1950 کا میرج لاء۔ 

جب 1950 میں نئی عوامی جمہوریہ چین کی حکومت نے اپنا پہلا بڑا قانون، میرج لاء، نافذ کیا، تو اس کا مقصد جاگیردارانہ شادی کے نظام کی چاروں بنیادوں کو ایک ہی قانونی ضرب سے توڑنا تھا۔ اس قانون نے جبری شادی، بچپن کی منگنی، جہیز اور کابین کے لین دین، تعدد ازدواج، اور طلاق پر مرد کی یک طرفہ اجارہ داری کو غیر قانونی قرار دیا۔ اس نے شادی کو دو بالغ افراد کی آزادانہ رضامندی پر مبنی معاہدہ قرار دیا، جس میں دونوں فریقین کو طلاق کا مساوی حق حاصل تھا۔

مگر چینی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت خود اس بات سے بخوبی آگاہ تھی کہ محض قانون سازی جاگیردارانہ شعور اور رویوں کو ختم نہیں کر سکتی۔ دیہی علاقوں میں، خاص طور پر ابتدائی برسوں میں، اس قانون کو سخت مزاحمت کا سامنا رہا۔ بہت سی جگہوں پر مقامی کیڈرز، جو خود جاگیردارانہ رشتوں میں پلے بڑھے تھے، اس قانون کے نفاذ میں سستی یا مزاحمت دکھاتے رہے۔  قانونی اصلاح، اگرچہ ضروری ہے، مگر جب تک اسے زمینی اصلاحات، یعنی جاگیردارانہ زمینداری کے خاتمے اور پیداواری تعلقات کی تبدیلی کے ساتھ نہ جوڑا جائے، اس وقت تک وہ محض کاغذی رہ جاتی ہے۔ زمین جاگیردار سے چھین کر کسان کو دینا، اور خاندان کے اندر عورت کو معاشی حیثیت دینا، دونوں ایک ہی انقلابی عمل کے دو رخ تھے۔

یہ سبق ہمارے سیاق میں بھی نہایت اہم ہے۔ اگر پاکستان میں بھی جہیز اور دیگر جاگیردارانہ رسومات کے خلاف قانون سازی کی جائے، جیسا کہ کئی صوبوں میں جزوی طور پر کی بھی گئی ہے، مگر زمین کی غیر منصفانہ تقسیم، دیہی طبقاتی جبر اور خواتین کی معاشی محرومی کو بغیر چھیڑے، تو ایسی قانون سازی محض علامتی رہ جائے گی۔ اکثر لوگ  مذہبی حوالہ دیتے  ہوئے کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ  “نکاح میں آسانی رکھو”  اگرچہ اپنی جگہ درست اور بابرکت ہے، مگر جب تک معاشی ڈھانچہ وہی رہے گا جو ہر خاندان کو غیر یقینی مستقبل کے خوف میں مبتلا رکھتا ہے، محض نصیحت سے رویے تبدیل نہیں ہوں گے۔   خیال اس وقت مادی طاقت بنتا ہے جب وہ عوام کو منظم کرے اور مادی حالات کو بدلنے کی جدوجہد میں شریک کرے، نہ کہ جب وہ صرف اخلاقی تلقین بن کر رہ جائے۔

ہمارے ہاں اکثر شادیاں سماجی تقریب کے بجائے نمائش کا ایک میدان بن چکی ہیں۔  بڑے شادی ہال، مہنگے ملبوسات، پُرتعیش ضیافتیں، سینکڑوں مہمان، اور سوشل میڈیا پر ان سب کی نمائش نے اس مقابلے کو مزید شدت دے دی ہے۔ سرمایہ دارانہ منڈی کی منطق میں ہر رشتہ، ہر تقریب، بلکہ خود انسانی جذبات بھی آہستہ آہستہ اجناس، یعنی خرید و فروخت کی چیزوں، میں تبدیل ہوتے جاتے ہیں۔ شادی، جو بنیادی طور پر ایک سماجی اور جذباتی رشتہ ہے، اشتہاری صنعت، شادی ہالوں کی معیشت، زیورات اور ملبوسات کی صنعت کے ہاتھوں ایک منافع بخش تقریب میں بدل جاتی ہے۔

سوشل میڈیا اس عمل کو مزید تیز کرتا ہے کیونکہ یہ ہر خاندان کی نجی تقریب کو ایک عوامی نمائش میں بدل دیتا ہے، جہاں برادری کی نظروں میں حیثیت کا تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ شادی کتنی “شاندار” تھی۔ یہ دراصل طبقاتی حیثیت کے اسی مقابلے کا تسلسل ہے جس کا ذکر پہلے کیا جا چکا، مگر اب یہ مقابلہ مرئی اور ڈیجیٹل شکل اختیار کر چکا ہے۔ غریب اور نچلا متوسط طبقہ اس نمائشی معیار کا مقابلہ کرنے کی کوشش میں قرض لینے، زمین بیچنے، یا برسوں کی جمع پونجی ایک تقریب پر لٹانے پر مجبور ہو جاتا ہے، اور یوں شادی، جو ایک نئے گھر کی مضبوط بنیاد ہونی چاہیے، معاشی بحران کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔ یہ نمائشی ثقافت کوئی اخلاقی زوال نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ منڈی کی منطق کا فطری نتیجہ ہے، جس میں ہر انسانی رشتہ بالآخر منافع کمانے کی صنعت کے تابع ہو جاتا ہے۔ اسی لیے اس کا حل بھی محض یہ نصیحت نہیں ہو سکتا کہ لوگ “سادگی اپنائیں”، بلکہ یہ ہے کہ اس نمائشی معیشت کو پیدا کرنے والے مادی حالات، یعنی طبقاتی عدم مساوات اور سرمائے کی منڈی میں بے لگام گردش، کو چیلنج کیا جائے۔

ماؤ زے تنگ کی تحریر “تضاد کے بارے میں” ہمیں ایک اہم تجزیاتی اوزار دیتی ہے جو شادی کے مسئلے کو سمجھنے میں براہ راست مدد دیتا ہے۔ ماؤ کے مطابق ہر مظہر میں کئی تضادات بیک وقت موجود ہوتے ہیں، مگر ان میں سے ایک تضاد بنیادی یا اصل ہوتا ہے، جبکہ باقی ثانوی یا ضمنی۔ اگر ہم شادی کے مسئلے کو اسی عینک سے دیکھیں تو ہمیں کئی سطحوں پر تضاد نظر آتا ہے۔ ایک سطح پر یہ لڑکی کے خاندان اور لڑکے کے خاندان کے درمیان تضاد معلوم ہوتا ہے، دوسری سطح پر یہ فرد اور برادری کے درمیان تضاد ہے، تیسری سطح پر یہ روایت اور جدیدیت کے درمیان تضاد دکھائی دیتا ہے۔  یہ تمام تضادات دراصل ثانوی ہیں، اور بنیادی تضاد وہ ہے جو محنت کش طبقے اور اس نظام کے درمیان ہے جو اسے معاشی تحفظ اور خودمختاری سے محروم رکھتا ہے۔

 اگر ہم صرف ثانوی تضادات پر توجہ مرکوز رکھیں، مثلاً لڑکی کے والدین کو “سمجھانا” یا لڑکے کے والدین کو “قائل کرنا”، تو ہم بنیادی مسئلے کو حل کیے بغیر اسے ایک خاندان سے دوسرے خاندان کی طرف منتقل کرتے رہیں گے۔ ایک خاندان اگر اپنی توقعات کم کر بھی لے، تو جب تک بنیادی تضاد، یعنی محنت کش طبقے کی معاشی عدم تحفظ، برقرار رہے گا، دوسرا خاندان اسی خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہو کر وہی سخت شرائط دہرائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ انفرادی سطح پر نیک نیتی رکھنے والے والدین بھی، اپنی بیٹی یا بیٹے کی بھلائی کے خیال سے، وہی جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ منطق اپناتے ہیں جس کی وہ خود دل سے مخالفت کرتے ہیں۔ یہ تضاد کی جدلیاتی نوعیت کی بہترین مثال ہے، فرد کا انفرادی شعور نظام کے مجموعی دباؤ کے سامنے بے بس رہ جاتا ہے، جب تک نظام خود تبدیل نہ ہو۔

پاکستان میں شادی، خاندان اور برادری کے تعلقات کو سمجھنے کے لیے زمین کے سوال کو مرکز میں رکھنا ضروری ہے، کیونکہ دیہی معاشرے میں زمین صرف معاشی وسیلہ نہیں بلکہ سماجی طاقت، سیاسی اثر و رسوخ اور خاندانی حیثیت کا بنیادی ذریعہ رہی ہے۔ 1959 میں ایوب خان کے دور میں اور بعد ازاں 1972 اور 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں زمینی اصلاحات کی کوششیں کی گئیں، مگر یہ تمام اصلاحات جاگیردار طبقے کی سیاسی طاقت کے سامنے ادھوری اور کمزور ثابت ہوئیں۔ زمین کی ملکیت کی حد مقرر کی گئی، مگر جاگیرداروں نے اپنی زمینیں رشتہ داروں اور بے نامی افراد کے نام منتقل کر کے ان قوانین کو بے اثر کر دیا۔ نتیجتاً، آج بھی پاکستان کے دیہی علاقوں میں زمین کی ملکیت انتہائی غیر منصفانہ طور پر تقسیم ہے، اور یہی جاگیردارانہ زمین کا سوال دیہی خاندانی ڈھانچے، برادری کے نظام، اور شادی کے فیصلوں پر آج بھی گہرا اثر ڈالتا ہے۔

جن خاندانوں کے پاس زمین اور جائیداد کا تحفظ نہیں، وہ اپنی بقا کے لیے دوسرے ذرائع تلاش کرتے ہیں، سرکاری ملازمت کا حصول، بیرون ملک روزگار، یا رشتہ داری کے نیٹ ورک کے ذریعے معاشی تعاون۔ شادی، اس تناظر میں، ایک ایسا معاہدہ بن جاتی ہے جس کے ذریعے خاندان اپنے محدود وسائل کو جوڑ کر معاشی تحفظ کا ایک نیا حلقہ تشکیل دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب تک زمین اور دولت کی بنیادی نا انصافی برقرار رہے گی، شہری علاقوں میں بھی، جہاں زمین کی جگہ مکان اور جائیداد کی شکل بدل جاتی ہے، وہی منطق مختلف پیرائے میں دہرائی جاتی رہے گی۔

حل۔

ماؤ کے نزدیک عورت کی حقیقی آزادی کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ سماجی پیداوار میں مرد کے شانہ بشانہ، مساوی حیثیت سے شریک ہو، اپنی آمدنی خود کمائے، اور معاشی طور پر شوہر یا باپ کے خاندان پر انحصار سے آزاد ہو جائے۔ جب تک عورت کی بقا کا انحصار شادی پر ہو، یعنی جب تک شادی اس کے لیے معاشی تحفظ کا واحد ذریعہ ہو، اس وقت تک شادی کی منڈی میں اس کی حیثیت ایک “خریدار” کی نہیں بلکہ ایک “شے” کی رہے گی جو دوسروں کی طلب پر منحصر ہے۔ نئے چین کی تعمیر میں ماؤ کی قیادت میں چلائی گئی خواتین کی محنت میں شمولیت کی مہمات، اجتماعی باورچی خانوں اور بچوں کی نگہداشت کے مراکز کا قیام، تاکہ عورت گھریلو کام کے بوجھ سے جزوی طور پر آزاد ہو کر پیداواری کام میں شامل ہو سکے، اسی نظریے کا عملی اظہار تھے۔ یہ اقدامات، اپنی تمام تر خامیوں اور تاریخی حدود کے باوجود، اس بنیادی اصول پر مبنی تھے کہ عورت کی آزادی محض قانونی حقوق دینے سے نہیں بلکہ اس کی معاشی خودمختاری قائم کیے بغیر ممکن نہیں۔

اگر ہم اس اصول کو اپنے معاشرے پر لاگو کریں تو نتیجہ واضح ہے۔ جب تک عورت کی تعلیم، روزگار اور معاشی خودمختاری کو ثانوی درجہ دیا جاتا رہے گا، اور اس کی بنیادی سماجی قدر و قیمت کا تعین شادی کے ذریعے ہوتا رہے گا، اس وقت تک شادی کی منڈی میں عورتیں انہی ظالمانہ حالات کا شکار رہیں گی حل صرف  یہ ہے کہ عورتوں کے لیے ایسے معاشی اور سماجی امکانات پیدا کیے جائیں کہ ان کی زندگی کا مرکز شادی کا انتظار نہ رہے۔

حقیقی اور پائیدار حل کے لیے کم از کم تین محاذوں پر جدوجہد ضروری ہے۔ پہلا، معاشی تحفظ کی جدوجہد، یعنی ریاست کو مجبور کرنا کہ وہ صحت، تعلیم، رہائش اور بڑھاپے کی کفالت کی ذمہ داری واپس اٹھائے، تاکہ خاندان پر یہ بوجھ نہ رہے کہ وہ شادی کو ایک “معاشی بیمہ” بنا کر پیش کرے۔ جب ریاست شہریوں کو کم از کم معاشی تحفظ فراہم کرے گی تو والدین کو اپنی بیٹیوں کی حفاظت کے لیے مکان کے مرلوں اور نوکری کے گریڈ کی ضمانت کی اتنی شدید ضرورت نہیں رہے گی۔ یہاں ریاست کے کردار کو سمجھنا ضروری ہے۔ ریاست صرف غیر جانبدار انتظامی ادارہ نہیں بلکہ طبقاتی تعلقات کا میدان بھی ہے۔ جب ریاست صحت، تعلیم، رہائش اور روزگار کے تحفظ سے دستبردار ہوتی ہے تو خاندان وہ معاشی بوجھ اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو اجتماعی ذمہ داری ہونا چاہیے۔

دوسرا، خواتین کی معاشی خودمختاری کی جدوجہد، یعنی تعلیم اور روزگار کے مساوی مواقع، خواتین کے کام کی جگہوں پر تحفظ، اور گھریلو کام کے بوجھ کو سماجی سطح پر بانٹنے کے انتظامات، جیسے کہ سستے اور قابل رسائی بچوں کی نگہداشت کے مراکز، تاکہ عورت کی زندگی کا مرکز محض شادی کا انتظار نہ رہے بلکہ وہ خود ایک خودمختار پیداواری قوت کے طور پر اپنی شناخت بنا سکے۔  لیکن معاشی خودمختاری صرف پالیسی سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ خواتین کی اجتماعی تنظیم، مزدور تحریکوں، کمیٹیوں اور سماجی جدوجہد کے ذریعے مضبوط ہوتی ہے۔ محنت کش طبقے کی خواتین کی کمیٹیاں، جو کام کی جگہوں پر مساوی اجرت اور تحفظ کا مطالبہ کریں، طلبہ اور نوجوانوں کی تنظیمیں، جو تعلیم اور روزگار کے مساوی مواقع کے لیے آواز اٹھائیں، اور بے زمین کاشتکاروں اور کچی آبادیوں کے رہائشیوں کی انجمنیں، جو زمین اور رہائش کے حق کے لیے منظم ہوں، یہ سب دراصل اسی جدوجہد کی مختلف صورتیں ہیں جو بالآخر شادی جیسے “نجی” معاملے کی مادی بنیادوں کو بھی تبدیل کر سکتی ہیں۔ ایک محنت کش خاندان کی بیٹی جب اپنی برادری کی خواتین کمیٹی کے ذریعے اجرت اور تحفظ کے لیے آواز اٹھانا سیکھتی ہے، تو وہی شعور اسے یہ سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے کہ اس کی قدر و قیمت کسی مرد کی طلب سے نہیں بلکہ اس کی اپنی محنت اور شعور سے متعین ہوتی ہے۔

تیسرا، طبقاتی جدوجہد کے ذریعے دولت اور وسائل کی زیادہ منصفانہ تقسیم، تاکہ سرکاری گریڈ اور بھاری تنخواہ والی چند ملازمتوں پر پورے سماج کی معاشی بقا کا انحصار نہ رہے۔ جب معاشی مواقع وسیع تر پیمانے پر منصفانہ طور پر دستیاب ہوں گے، تو شادی کی منڈی میں چند “قیمتی” نوجوانوں کے گرد وہ غیر منصفانہ مقابلہ ختم ہو جائے گا جس کا ذکر پہلے کیا جا چکا۔  نظریہ اسی وقت طاقت پکڑتا ہے جب وہ عوام کو منظم کرے، ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ یہ تینوں محاذ خودبخود، صرف حکومتی پالیسی کے ذریعے، حل نہیں ہوں گے، بلکہ ان کے لیے تنظیم اور جدوجہد ضروری ہے۔ یہی وہ رابطہ ہے جو روزمرہ کی جدوجہد کو طبقاتی جدوجہد کے وسیع تر تناظر سے جوڑتا ہے، اور جسے نظر انداز کر کے کوئی بھی اصلاحی کوشش، خواہ کتنی ہی نیک نیتی پر مبنی ہو، ادھوری اور عارضی رہے گی۔

 تاریخی مادیت اس بات کا انکار نہیں کرتی کہ مذہبی روایات میں انصاف اور سادگی کی اقدار موجود ہو سکتی ہیں، بلکہ وہ صرف اس بات پر اصرار کرتی ہے کہ محض اخلاقی نصیحت، بغیر مادی جدوجہد کے، ان اقدار کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتی۔ سادگی کی تعلیم اسی وقت مؤثر ہو گی جب اسے اس جدوجہد سے جوڑا جائے جو دکھاوے کی معیشت اور طبقاتی عدم مساوات کو پیدا کرنے والے مادی حالات کو چیلنج کرتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، دین کی نصیحت اور مادی جدوجہد ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ دینی اقدار میں موجود انصاف، سادگی اور اجتماعی بھلائی کے تصورات کو سماجی انصاف کی جدوجہد کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے، تاہم تاریخی مادیت اس بات پر زور دیتی ہے کہ مستقل تبدیلی کے لیے ان اقدار کو مادی حالات کی تبدیلی سے وابستہ کرنا ضروری ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ماؤ اور چینی انقلاب کی تاریخ نے یہ بھی سکھایا کہ عوامی جذبات اور مقامی روایات کو یکسر نظر انداز کر کے، صرف اوپر سے مسلط کیے گئے نظریاتی احکامات کے ذریعے سماجی تبدیلی لانے کی کوشش اکثر ناکام رہتی ہے یا شدید مزاحمت کو جنم دیتی ہے۔ اسی لیے ثقافتی انقلاب کے دوران بھی، اور اس سے پہلے دیہی اصلاحات کے دوران بھی، پارٹی کیڈرز کو یہ ہدایت دی جاتی رہی کہ وہ عوام کے درمیان جا کر ان کے حقیقی مسائل سنیں، ان کی زبان میں بات کریں، اور تبدیلی کو مقامی ثقافت اور اقدار کے اندر سے ہی، نہ کہ اس کے خلاف کھڑے ہو کر، برپا کریں۔   محنت کش طبقے کی مذہبی حساسیت کو نظرانداز کرنے کے بجائے، اسے طبقاتی شعور کے ساتھ جوڑنا کہیں زیادہ مؤثر حکمت عملی ہے، تاکہ عام آدمی یہ محسوس نہ کرے کہ اس سے اس کی مذہبی و ثقافتی شناخت چھینی جا رہی ہے، بلکہ یہ سمجھے کہ انصاف کی جدوجہد اسی شناخت کی گہری اقدار، مثلاً سادگی، رحم اور اجتماعی بھلائی، کی تکمیل ہے۔

جب تک جاگیردارانہ باقیات، یعنی برادری، ذات اور خاندانی حیثیت کی سختی، اور نو لبرل سرمایہ داری کی بے یقینی، یعنی روزگار کی غیر یقینی اور ریاستی تحفظ کی عدم موجودگی، دونوں ایک ساتھ مل کر محنت کش خاندانوں پر مسلط رہیں گی، اس وقت تک شادی ایک ایسی جنگ بنی رہے گی جس میں ہر خاندان کو زندگی کی ہر آزمائش سے پہلے گزرنا پڑے گا۔ حقیقی حل انفرادی صبر یا رویے کی تبدیلی میں نہیں بلکہ اس نظام کی تبدیلی میں ہے جو انسانی رشتوں کو جائیداد اور طبقاتی حیثیت کے تابع بنا دیتا ہے۔ ماؤ زے تنگ کے الفاظ میں، عورتیں آدھا آسمان اٹھاتی ہیں، اور جب تک وہ آسمان، یعنی معاشی خودمختاری اور سماجی برابری، ان سے چھینا جاتا رہے گا، تب تک شادی کی منڈی میں انصاف کا خواب ادھورا رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسئلہ محض ایک سماجی برائی نہیں بلکہ طبقاتی جدوجہد کا ایک اہم میدان ہے، جسے حل کرنے کے لیے انفرادی نصیحت سے کہیں بڑھ کر، محنت کش طبقے کی اجتماعی تنظیم اور جدوجہد درکار ہے۔ جب تک انسانی رشتوں کی بنیاد منافع، نجی ملکیت اور طبقاتی تفاخر پر قائم رہے گی، شادی حقیقی انسانی رفاقت کے بجائے سماجی و معاشی سودے بازی کا میدان بنی رہے گی۔ عورت اور مرد دونوں کی آزادی اسی وقت ممکن ہے جب وہ اس سماجی نظام کو بدلنے کی اجتماعی جدوجہد کا حصہ بنیں جو محبت، خاندان اور انسان کو بھی منڈی کے تابع کر دیتا ہے۔

مارکسی تنقید کا مقصد محبت یا خاندان کی نفی نہیں بلکہ ان مادی حالات کی تنقید ہے جو انسانی تعلقات کو معاشی ضرورت، جائیداد اور طبقاتی حساب کتاب کے تابع بنا دیتے ہیں۔ حقیقی آزادی وہ سماجی حالت پیدا کرنا ہے جہاں شادی ضرورت، مجبوری یا سودا نہیں بلکہ برابر انسانوں کا آزادانہ انتخاب بن سکے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top