ایران۔ انقلاب سے تھیوکریٹک سرمایہ داری تک 

تحریر: احمد خاں ندیم 

کسی بھی ریاست کا سائنسی تجزیہ کرنے کے لیے  سب سے بنیادی اصول یہ ہے کہ اس کے  اندرونی طبقاتی مواد کو دیکھا جائے۔ ماؤ نے “تضاد پر” میں واضح کیا تھا کہ ہر معاشرے میں ایک بنیادی تضاد کارفرما ہوتا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ کئی ثانوی تضادات بھی متحرک رہتے ہیں، جن میں سے بعض وقتی طور پر بنیادی تضاد کی جگہ لے سکتے ہیں۔ یہی اصول لاگو کرتے ہوئے جب ہم ایران کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں دو الگ الگ لیکن آپس میں جڑے ہوئے سوالات کا سامنا ہوتا ہے۔ پہلا یہ کہ آیا ایرانی ریاست کا امریکی و صیہونی سامراج سے تضاد حقیقی اور انقلابی نوعیت کا ہے، یا محض علاقائی بالادستی کے حصول کی دو سرمایہ دار طاقتوں کے درمیان کشمکش ہے؛ دوسرا یہ کہ ایرانی ریاست کا اپنے ہی محنت کش عوام، کسانوں، عورتوں اور قومی اقلیتوں سے کیا رشتہ ہے۔

کسی ریاست کو “سامراج مخالف” قرار دینے کے لیے محض سامراج سے تنازع کافی نہیں۔ خود ماؤ نے دوسری جنگ عظیم کے دوران “تین دنیاؤں” کے نظریے میں یہ فرق واضح کیا تھا کہ سامراجی طاقتوں کے آپسی تضادات سے فائدہ اٹھانا اور رد انقلابی، سرمایہ دار مگر سامراج مخالف رجیموں کے ساتھ حکمت عملی کے تحت وقتی محاذ بنانا الگ بات ہے، اور کسی ریاست کے اندرونی طبقاتی کردار کو سوشلسٹ یا انقلابی قرار دینا بالکل الگ بات ہے۔ لینن نے بھی سامراج کی تعریف میں واضح کیا تھا کہ نو آبادیاتی یا نیم نو آبادیاتی ممالک کی مقامی حکمران اشرافیہ اکثر سامراج کے ساتھ متضاد بھی ہوتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس سے جڑی بھی ہوتی ہے ۔  یہ “کمپرے دار بورژوازی” اور “قومی بورژوازی” کے مابین جدلیاتی رشتہ ہے۔

یہاں ایک تقابلی نکتہ بھی اہم ہے۔ ماؤ کی قیادت میں انقلابی چین نے جن تحریکوں کی حمایت کی   ویت نام کی مزاحمت، افریقہ کی نو آبادیاتی مخالف تحریکیں، فلسطینی مزاحمت کے ابتدائی دور   ان کی حمایت کا مقصد ان اقوام کو اپنے زیرِ اثر لانا یا کسی فرقہ وارانہ ملیشیا کے ذریعے مقامی آبادی پر کنٹرول قائم کرنا نہیں تھا، بلکہ خود انحصاری اور خود ارادیت کے اصول پر مبنی تھا۔ چین نے کبھی بھی کسی مزاحمتی تحریک کے اندر اپنے فرقہ وارانہ یا نظریاتی دھڑے مسلط نہیں کیے، نہ ہی کسی عوامی بغاوت کو محض اس لیے کچلوایا کہ وہ کسی اتحادی آمر کی بقا کے لیے خطرہ بنے۔ اس کے برعکس، جیسا کہ ذیل کے  مضمون میں  تفصیل سے دکھایا جائے گا، ایران کی علاقائی پالیسی بار بار اس اصول کی نفی کرتی ہے   یہ فرق ہی اس بات کا تعین کرتا ہے کہ ایک ریاست حقیقی طور پر بین الاقوامیت پسند اور سامراج مخالف ہے یا محض اپنے علاقائی مفادات کے لیے سامراج مخالف بیان بازی استعمال کر رہی ہے۔

اسی فریم ورک کے ساتھ ہم ایران کی اسلامی جمہوریہ کا جائزہ لیں گے۔ 1979 کے انقلاب کی طبقاتی اساس، اس کے بعد تعمیر ہونے والا اقتصادی و سیاسی ڈھانچہ، خطے میں اس کی پراکسی جنگیں، اور اپنے عوام کے ساتھ اس کا سلوک۔ ہمارا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ایرانی ریاست، اپنے سامراج مخالف بیانیے کے باوجود، ایک تھیوکریٹک، دلال اور بیوروکریٹک سرمایہ دارانہ ریاست ہے جس نے 1979 کے مزدور و عوامی انقلاب کو ہائی جیک کر کے اسے ایک نئی طبقاتی حاکمیت میں بدل دیا ۔  ایسی حاکمیت جو وقتاً فوقتاً سامراج سے متصادم بھی ہوتی ہے، مگر اپنے اندر اسی سرمایہ دارانہ منطق کی حامل ہے جس کے خلاف 1979 کے مزدوروں اور بائیں بازو کے کارکنوں نے شاہ کی حکومت کا تختہ الٹا تھا۔

1979 کا انقلاب ۔ 

1979 کا ایرانی انقلاب تاریخ کے چند بڑے عوامی ہیجانوں میں سے ایک تھا۔ لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ انقلاب کوئی “اسلامی” تحریک نہیں تھا جیسا کہ مغربی و رجعتی بیانیہ اسے پیش کرتا ہے۔ اس انقلاب کی اصل قوت تہران، آبادان اور اصفہان کے صنعتی مزدور تھے، خصوصاً تیل کی صنعت کے مزدور، جن کی ہڑتالوں نے شاہ کی معیشت کو مفلوج کر دیا۔ 1978 کے آخر میں تیل مزدوروں کی ہڑتال نے شاہی رجیم کی کمر توڑ دی ۔  یہ ایک پیور  کلاسیکی طبقاتی ایکشن تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ بایاں بازو ،  تودہ پارٹی (ایران کی روایتی کمیونسٹ پارٹی)، فدائیان خلق (گوریلا مارکسی تنظیم) اور مجاہدین خلق (جو اس وقت ایک اسلامی-مارکسی ترکیب کے طور پر ابھری تھی) ،  انقلاب کی صف اول میں شامل تھے۔ بازاری تاجر طبقہ، لبرل قوم پرست (نیشنل فرنٹ) اور روایتی شیعہ علما بھی اس اتحاد کا حصہ تھے، مگر مزدور طبقے کی متحرک قوت کے بغیر شاہ کی رجیم کبھی نہ گرتی۔

یہ ایک کلاسیکی مثال ہے اس بات کی کہ کس طرح ایک نیم جاگیردار، نیم نو آبادیاتی معاشرے میں محنت کش طبقے کی قربانیوں سے حاصل ہونے والا انقلاب ایک منظم، نظریاتی طور پر واضح اور مسلح انقلابی پارٹی کی غیر موجودگی میں مذہبی رجعت پسند قوتوں کے ہاتھ لگ جاتا ہے۔ خمینی اور ان کے حامی علما، جو انقلاب کے آغاز میں نسبتاً پس منظر میں تھے، نے فرانس میں جلاوطنی کے دوران ایک ماہرانہ حکمت عملی اپنائی۔ انہوں نے سوشلسٹ اور کمیونسٹ قوتوں کے ساتھ عارضی محاذ بنایا، مذہبی جذبات کو متحرک کیا، اور جیسے ہی شاہ کی رجیم گری، اقتدار پر تیزی سے قبضہ جما لیا۔ انقلاب کے فوراً بعد ہی طبقاتی کشمکش کا اصل رخ سامنے آنا شروع ہوا۔ 1979-1983 کے درمیان خمینی حکومت نے بائیں بازو کو دھیرے دھیرے کچلنا شروع کیا۔ ابتدا میں تودہ پارٹی نے خمینی حکومت کی “سامراج مخالف” پالیسیوں کی حمایت کی ۔  یہ ایک تاریخی غلطی تھی جس کی قیمت انہیں بعد میں چکانی پڑی۔ 1981 میں مجاہدین خلق پر مکمل کریک ڈاؤن شروع ہوا، ہزاروں کارکن گرفتار اور پھانسی چڑھائے گئے۔ 1983 میں تودہ پارٹی پر پابندی لگا دی گئی اور اس کی پوری قیادت گرفتار کر لی گئی۔ سب سے بھیانک باب 1988 کا ہے، جب ایران-عراق جنگ کے اختتام پر خمینی کے حکم پر ہزاروں سیاسی قیدیوں کی اجتماعی پھانسیاں دی گئیں ۔  جن میں بیشتر بایاں بازو کے کارکن، کمیونسٹ اور مجاہدین خلق کے حامی شامل تھے۔ عالمی سطح پر “1988 کے قتل عام” کے نام سے معروف اس واقعے میں چار سے تیس ہزار کے درمیان قیدی قتل کیے گئے۔یہ  اس بات کی علامت ہے کہ اسلامی جمہوریہ نے اپنے اقتدار کی بنیاد ہی محنت کش طبقے کی انقلابی قوتوں کی نسل کشی پر رکھی۔ کوئی بھی ریاست جو اپنے قیام کے ابتدائی برسوں میں کمیونسٹوں اور مزدور کارکنوں کا اس پیمانے پر قتل عام کرے کسی بھی صورت “عوامی” یا “انقلابی” ریاست تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

اقتصادی ڈھانچہ 

اسلامی جمہوریہ کے اقتصادی ڈھانچے کو سمجھنا اس بحث کا مرکزی نکتہ ہے۔ انقلاب کے فوراً بعد شاہی خاندان اور بڑے صنعتکاروں کی جائیدادیں ضبط کر کے نام نہاد “بنیاد” (Bonyad) یعنی خیراتی بنیادوں کے حوالے کر دی گئیں ۔  جیسے بنیادِ مستضعفین و جانبازان۔ یہ ادارے بظاہر “غریبوں اور مظلوموں کے لیے” کام کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر عملی طور پر یہ بلا حساب و کتاب، ٹیکس سے مستثنیٰ، براہ راست ولی فقیہ کو جوابدہ معاشی سلطنتیں بن چکی ہیں۔ بنیاد مستضعفین آج ایران کی سب سے بڑی کارپوریٹ ہولڈنگز میں سے ایک ہے، جس کے ہوٹلوں، فیکٹریوں، زرعی زمینوں اور بینکوں پر پھیلے کاروبار کی مالیت اربوں ڈالر میں ہے، مگر اس کی آمدنی سے مزدوروں کے حالات کار میں کوئی بنیادی بہتری نہیں آئی۔ یہ کلریکل سرمایہ داری کی ایک نہایت واضح مثال ہے۔ مذہبی جواز کے پردے میں ایک نئی طبقاتی اشرافیہ کی تشکیل۔ اس کے متوازی، سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) نے 1990 کی دہائی سے اقتصادی میدان میں بے پناہ توسیع کی۔ ایران-عراق جنگ کے بعد رفسنجانی حکومت نے تعمیرِ نو کے نام پر آئی آر جی سی کو بڑے تعمیراتی، توانائی اور ٹیلی کمیونیکیشن منصوبے سونپے۔ آئی آر جی سی کا تعمیراتی بازو “خاتم الانبیاء” آج ایران کی سب سے بڑی تعمیراتی و انجینئرنگ کمپنی ہے، جو تیل و گیس پائپ لائنوں سے لے کر ڈیموں اور میٹرو منصوبوں تک ہر بڑے ٹھیکے میں شریک ہے۔ 2009 میں جب ایران کی سب سے بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کی نجکاری کی گئی تو یہ نجکاری بظاہر “نجی شعبے” کو منتقل ہوئی، مگر حقیقت میں یہ آئی آر جی سی سے وابستہ کنسورشیم نے خرید لی ۔  یہ صرف  ایک مثال ہے اس وسیع تر عمل کی جسے ایرانی معیشت دان “اصولِ 44” کی جعلی نجکاری کہتے ہیں، جہاں ریاستی اثاثے نجی سرمایہ داروں کے بجائے فوجی-مذہبی اشرافیہ کے قبضے میں چلے گئے۔

احمدی نژاد دور (2005-2013) میں “نجکاری” کی پالیسی کو مزید تیز کیا گیا، مگر اس کا حقیقی نتیجہ یہ نکلا کہ سرکاری اثاثے بنیادوں اور آئی آر جی سی سے وابستہ کمپنیوں کے ہاتھوں میں چلے گئے ۔  ایک ایسا عمل جسے مغربی معاشی جریدوں نے بھی “کرونی کیپیٹلزم” (Crony Capitalism) قرار دیا۔ آج ایرانی معیشت کا تخمینہ یہ ہے کہ آئی آر جی سی اور اس سے وابستہ ادارے کل جی ڈی پی کے ایک تہائی سے چالیس فیصد تک پر کنٹرول رکھتے ہیں ۔ بندرگاہوں، ٹیلی کام، آٹوموبائل، تعمیرات، بینکنگ اور یہاں تک کہ اسمگلنگ کے نیٹ ورکس تک۔ یہ کوئی سوشلسٹ منصوبہ بند معیشت نہیں بلکہ ایک عسکری-مذہبی اجارہ دار سرمایہ داری (Monopoly Capitalism) ہے جس میں پیداواری ذرائع کی ملکیت چند مراعات یافتہ اداروں کے ہاتھ میں مرتکز ہے۔ بین الاقوامی پابندیوں نے اس ڈھانچے کو مزید مضبوط کیا۔ چونکہ عالمی سرمایہ کاری اور تجارت پر پابندیاں تھیں، اس لیے وہی ادارے جو ریاستی طاقت کے قریب تھے ۔  بنیاد اور آئی آر جی سی  سمگلنگ اور متبادل تجارتی راستوں کے ذریعے دولت جمع کرتے رہے، جبکہ عام تاجر اور درمیانہ طبقہ پابندیوں کی مار سہتا رہا۔ یوں پابندیاں، بجائے اس کے کہ ریاست کو کمزور کریں، الٹا اس کی اندرونی اجارہ دار طبقاتی گرفت کو مزید مستحکم کرتی گئیں ۔،  یہ عمل روس اور دیگر پابندی زدہ ریاستوں میں بھی دیکھا گیا ہے۔

 مزدور، اساتذہ اور پنشنرز کی تحریکیں

اسلامی جمہوریہ کے “مستضعفین کے تحفظ” کے دعووں کے برعکس، ایران میں گزشتہ دو دہائیوں میں مزدور تحریکوں کی ایک مسلسل اور بھرپور تاریخ رہی ہے، جسے ریاست نے ہمیشہ طاقت سے کچلا ہے۔ ہفت تپہ شوگر کین کمپنی کے مزدوروں کی تحریک اس کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ خوزستان کے اس ادارے کی نجکاری کے بعد تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر مزدوروں نے 2018 سے مسلسل ہڑتالیں کیں، آزاد یونین بنانے کی کوشش کی، اور اپنے مطالبات کے حق میں سڑکوں پر آئے۔ ریاست کا ردعمل کیا تھا؟ مزدور رہنماؤں کی گرفتاری، تشدد اور طویل قید۔ اسماعیل بخشی، ایک مزدور رہنما، کو گرفتار کر کے حراست میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح تیل و پیٹروکیمیکل صنعت کے کنٹریکٹ مزدوروں نے 2020-2021 میں ملک گیر ہڑتالیں کیں، جو بلوچستان سے خوزستان تک پھیل گئیں، مگر ان کا نتیجہ بھی گرفتاریوں اور برطرفیوں کی صورت میں نکلا۔ اساتذہ کی تنظیمیں، جنہوں نے کم تنخواہوں اور نجکاری کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا، ان کے رہنماؤں کو بھی طویل قید کی سزائیں سنائی گئیں ۔ اسماعیل عبدی جیسے اساتذہ رہنما برسوں جیل میں گزار چکے ہیں۔ پنشنرز کی تحریکیں، جو سماجی تحفظ کے فنڈز کی مبینہ کرپشن اور بے قدری کے خلاف احتجاج کرتی ہیں، انہیں بھی مسلسل پولیس تشدد کا سامنا رہا ہے۔یہ تمام تحریکیں اس بنیادی سچائی کو بے نقاب کرتی ہیں۔ اسلامی جمہوریہ کا ریاستی ڈھانچہ مزدور طبقے کا نہیں بلکہ مزدور طبقے کے خلاف کھڑا ہے۔ آزاد ٹریڈ یونین بنانا غیر قانونی ہے؛ صرف حکومت کے زیرِ کنٹرول “اسلامی لیبر کونسلز” کو اجازت ہے، جو مزدوروں کے مفادات کے بجائے ریاستی و کارپوریٹ مفادات کی نگرانی کرتی ہیں۔ یہ بالکل وہی طرزِ عمل ہے جو کلاسیکی فسطائی و کارپوریٹسٹ ریاستیں محنت کش طبقے کو کنٹرول کرنے کے لیے اپناتی ہیں۔

  سامراج مخالفت یا علاقائی توسیع پسندی؟

ایرانی ریاست کا سب سے مضبوط نظریاتی ہتھیار اس کا “سامراج مخالف” اور “اسرائیل مخالف” بیانیہ ہے۔ اس بیانیے کی ایک تاریخی و مادی بنیاد بھی ہے ۔  امریکہ کی 1953 میں مصدق حکومت کے خلاف بغاوت، شاہ کی امریکہ نواز آمریت کی حمایت، اور آج تک فلسطینی کاز کی حمایت کے دعوے۔ مگر جب ہم “محورِ مزاحمت” (Axis of Resistance) کی عملی تاریخ کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں، تو ایک مختلف تصویر ابھرتی ہے۔ یہ محور علاقائی بالادستی، فرقہ وارانہ سیاست اور ایرانی ریاستی مفادات کے تحفظ کا ایک اوزار ہے، نہ کہ خطے کے مظلوم عوام کی انقلابی یکجہتی کا مظہر۔

حزب اللہ اور لبنان۔ حزب اللہ کو 1982 میں آئی آر جی سی نے اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت کے طور پر تشکیل دیا۔ ابتدائی برسوں میں اس کی مزاحمتی حیثیت میں کچھ حقیقت تھی۔ مگر وقت کے ساتھ حزب اللہ لبنان کے اندرونی سیاسی نظام کا حصہ بن گئی ۔  ایک ایسی طاقت جو لبنانی ریاستی اداروں کو کنٹرول کرتی ہے، اپنے فرقہ وارانہ مفادات کا تحفظ کرتی ہے، اور 2006 کے بعد شام کی خانہ جنگی میں بشار الاسد کی آمرانہ حکومت کے دفاع میں براہ راست جنگی کردار ادا کیا۔ حزب اللہ نے شامی مزاحمتی و انقلابی قوتوں کے خلاف ہزاروں جنگجو بھیجے ۔  یہ کسی سامراج مخالف جدوجہد کا حصہ نہیں بلکہ ایک آمر کی بقا کے لیے دی جانے والی عسکری امداد تھی۔ عراقی ملیشیاز۔ 2003 کے بعد امریکی قبضے کے خلاف عراق میں مزاحمت کا ایک حقیقی پہلو موجود تھا، مگر ایران نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی شیعہ ملیشیاز کو منظم و مسلح کیا ۔  بدر آرگنائزیشن، عصائب اہل الحق، کتائب حزب اللہ وغیرہ  جو “پاپولر موبلائزیشن فورسز” (حشد الشعبی) کے تحت جمع ہوئیں۔ یہ ملیشیاز نہ صرف امریکی افواج بلکہ عراقی سنی آبادی اور سیکولر و بائیں بازو کے کارکنوں کے خلاف بھی فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث رہی ہیں۔ 2019-2020 کے عراقی احتجاجی تحریک (تشرین انتفاضہ) میں، جس میں نوجوان بے روزگاری، کرپشن اور فرقہ وارانہ نظام کے خلاف سراپا احتجاج تھے، انہی ایران نواز ملیشیاز نے مظاہرین پر گولی چلائی، سینکڑوں کارکن قتل کیے اور کئی سیکولر و بائیں بازو کے کارکنوں کو اغوا کر کے قتل کیا۔ یہ عوامی تحریک، جو کرپٹ فرقہ وارانہ نظام کے خلاف تھی، اسے دبانے میں ایران کا کردار مرکزی تھا۔

حوثی تحریک، یمن۔ حوثی تحریک اپنی ابتدا میں یمن کے صعدہ کے علاقے کی زیدی برادری کے حقوق کی ایک مقامی تحریک تھی۔ ایران نے سعودی-اماراتی جارحیت کے تناظر میں اسے اسلحہ و مالی امداد فراہم کر کے اپنے علاقائی اثر و رسوخ کے ایک ذریعے میں بدل دیا۔ یہ سچ ہے کہ سعودی اتحاد کی یمن پر جارحیت ایک سامراجی و رجعتی جنگ ہے جس میں لاکھوں یمنی شہری بھوک اور بمباری سے مارے گئے، اور اس تناظر میں حوثیوں کی مزاحمت کا ایک دفاعی پہلو موجود ہے۔ مگر حوثی حکومت خود بھی اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں سخت آمرانہ، قبائلی و فرقہ وارانہ حکمرانی چلاتی ہے، صحافیوں اور مخالفین کو قید و تشدد کا نشانہ بناتی ہے، اور بچوں کی جبری بھرتی جیسے جرائم میں ملوث رہی ہے۔ ایران کا حوثیوں کی حمایت کا مقصد یمنی عوام کی آزادی نہیں بلکہ بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب پر اسٹریٹجک اثر و رسوخ کا حصول ہے۔

شام اور بشار الاسد۔ یہ محورِ مزاحمت کی سب سے واضح مثال ہے کہ ایرانی پالیسی “عوام کی حمایت” نہیں بلکہ “رجیم کی بقا” پر مبنی ہے۔ 2011 میں جب شامی عوام نے، عرب بہار کی لہر میں، اسد خاندان کی نصف صدی پرانی آمریت کے خلاف پرامن مظاہرے شروع کیے، تو ایران نے فوری طور پر اسد حکومت کی مدد کے لیے آئی آر جی سی کے جنرل قاسم سلیمانی کی قیادت میں فوجی، مالی اور مشاورتی امداد بھیجی۔ حزب اللہ کے ہزاروں جنگجو، افغان و پاکستانی شیعہ جنگجوؤں پر مشتمل “فاطمیون” اور “زینبیون” بریگیڈز ، یہ سب ایران کی سرپرستی میں شامی انقلاب کو کچلنے کے لیے استعمال ہوئے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد اموات، لاکھوں مہاجرین، اور ایک ملک کی مکمل تباہی ،  محض اس لیے کہ ایک آمرانہ رجیم، جو ایران کے علاقائی مفادات (حزب اللہ تک اسلحے کی ترسیل کا زمینی راستہ) کے لیے ناگزیر تھی، برقرار رہے۔ یہ کسی بھی صورت “سامراج مخالف” پالیسی نہیں بلکہ ایک عوامی انقلاب کی خونی سرکوبی تھی جس میں ایرانی ملائیت براہ راست شریک تھی۔

فلسطین۔ ایران کی حماس اور اسلامی جہاد کی حمایت کا اسٹریٹجک پہلو واضح ہے ۔  فلسطینی مزاحمت کی حمایت ایران کو خطے میں “سامراج مخالف” ساکھ فراہم کرتی ہے، جس کی قیمت نسبتاً کم ہے (بنیادی طور پر اسلحہ و فنڈنگ)، جبکہ اس کا سیاسی فائدہ بہت زیادہ۔ فلسطینی عوام کی حقیقی جدوجہد، جو صیہونی نوآبادیاتی قبضے کے خلاف ایک جائز قومی آزادی کی تحریک ہے، اسے ایران فرقہ وارانہ و جغرافیائی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ حماس کی قیادت خود بارہا اس بات کا اظہار کر چکی ہے کہ ایران کی حمایت مشروط اور اپنے مفادات سے جڑی ہوتی ہے ۔ 2011 میں جب حماس نے شامی عوام کی حمایت میں اسد رجیم سے فاصلہ اختیار کیا تو ایران نے فوری طور پر حماس کی فنڈنگ روک دی، یہاں تک کہ حماس کی قیادت کو دمشق سے نکلنا پڑا۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ ایران کے لیے فلسطین کاز نظریاتی وابستگی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک آلہ ہے۔ حاصل کل خلاصہ یہ ہے کہ “محورِ مزاحمت” کوئی انقلابی بین الاقوامیت پرستی نہیں بلکہ ایک علاقائی سلطنت کی تعمیر کا منصوبہ ہے  جس میں ایرانی ریاست اپنے مفادات کی خاطر بعض اوقات حقیقی مظلوم اقوام (فلسطین، یمن کا کچھ حصہ) کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، اور بعض اوقات عوامی انقلابات (شام، عراق) کو خونریزی سے کچلتی ہے۔ لینن کے الفاظ میں، یہ سامراج کے خلاف مظلوم اقوام کی حمایت نہیں بلکہ ایک “علاقائی ذیلی سامراج” (Sub-imperialism) کا نمونہ ہے۔

 خواتین، قومی اقلیتیں اور ریاستی جبر

اسلامی جمہوریہ کے عوام دشمن کردار کا سب سے واضح مظہر اس کی صنفی پالیسیاں ہیں۔ انقلاب کے فوراً بعد ہی خواتین کے حقوق پر شدید حملے شروع ہو گئے ۔  لازمی حجاب، فیملی پروٹیکشن لاء کی منسوخی، خواتین ججوں کی برطرفی، اور عوامی زندگی میں خواتین کی شرکت پر متعدد پابندیاں۔ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں بلکہ ریاست کی جانب سے نصف آبادی پر جبر کا ادارہ جاتی نظام ہے، جسے “اخلاقی پولیس” (گشت ارشاد) کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے۔ ستمبر 2022 میں مہسا امینی نامی نوجوان کرد خاتون کی اخلاقی پولیس کی حراست میں ہلاکت نے “زن، زندگی، آزادی” (Woman, Life, Freedom) کے نعرے کے تحت ایک بے مثال عوامی بغاوت کو جنم دیا۔ حجاب کے پہلو پر شروع ہونے والی یہ تحریک دراصل  پورے تھیوکریٹک ڈھانچے کے خلاف ایک وسیع تر عوامی غصے کا اظہار تھی، جس میں طلبہ، مزدور، نوجوان اور قومی اقلیتیں سب شامل ہوئیں۔ ریاست کا ردعمل بہیمانہ تھا   انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق سیکڑوں مظاہرین قتل کیے گئے، ہزاروں گرفتار ہوئے، اور کئی نوجوانوں کو سرعام پھانسیاں دی گئیں تاکہ خوف پھیلایا جا سکے۔

ایران دنیا میں سزائے موت دینے والے ممالک کی فہرست میں سرفہرست ہے ۔  انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق سالانہ سینکڑوں افراد کو پھانسی دی جاتی ہے، جن میں سیاسی کارکن، صحافی، مزدور رہنما اور قومی اقلیتوں کے کارکن نمایاں ہیں۔ دسمبر 2025 کے آخر اور جنوری 2026 کے اوائل میں، جب معاشی زوال کے باعث ملک گیر احتجاجی تحریک پھوٹ پڑی، ریاست نے ایک بار پھر وحشیانہ کریک ڈاؤن کیا جسے متعدد ذرائع نے “جنوری 2026 کا قتل عام” قرار دیا ۔ یہ سلسلہ 1988 کی اجتماعی پھانسیوں سے لے کر 2019، 2022 اور 2025-2026 تک ایک تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ جب بھی عوام روزی روٹی یا آزادی کے لیے سڑکوں پر آتے ہیں، ریاست گولی اور پھانسی کے ذریعے جواب دیتی ہے۔

قومی اقلیتوں کے ساتھ ریاستی سلوک بھی نہایت جابرانہ رہا ہے۔ ایرانی کرد، بلوچ اور اہوازی عرب آبادیاں   جو ملک کے پسماندہ ترین اور غریب ترین علاقوں میں آباد ہیں ،  کو زبان، ثقافت اور سیاسی نمائندگی کے میدان میں شدید امتیاز کا سامنا ہے۔ بلوچستان، جو ایران کے غریب ترین صوبوں میں شمار ہوتا ہے، وہاں اقتصادی محرومی کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ (سنی مخالف) امتیاز بھی روا رکھا جاتا ہے۔ 2022 کی تحریک کے دوران زاہدان میں “خونی جمعہ” کے نام سے معروف واقعے میں سکیورٹی فورسز نے درجنوں بلوچ مظاہرین کو ہلاک کیا۔ کرد سیاسی کارکنوں کو، جو اکثر بائیں بازو کی جماعتوں (کومالہ، کردستان ڈیموکریٹک پارٹی) سے وابستہ ہوتے ہیں، سرحد پار سے میزائل حملوں کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا ہے۔ یہ تمام حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایک کثیر القومی جبر پر مبنی مرکزیت زدہ ریاست ہے، جو فارسی-شیعہ اکثریت کے مفادات کو باقی قومیتوں پر مسلط کرتی ہے   بالکل اسی طرز کا قومی جبر جس کی ماؤ نواز روایت ہمیشہ مخالفت کرتی رہی ہے۔

“خونی نومبر” اور ریاست کا اصل چہرہ

نومبر 2019 میں جب حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں راتوں رات پچاس فیصد سے زائد اضافہ کیا، تو پورے ایران میں، بلوچستان سے آذربائیجان تک، ایک بے مثال عوامی بغاوت پھوٹ پڑی۔ یہ تحریک خالصتاً معاشی مطالبات پر مبنی تھی ۔  غریب اور محنت کش طبقے کے خلاف نیو لبرل نوعیت کی سبسڈی کٹوتیوں کے خلاف ردعمل   اور اس میں مذہبی یا فرقہ وارانہ رنگ شامل نہیں تھا۔ درجنوں شہروں میں بینکوں، پیٹرول پمپوں اور حکومتی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، جو اس بات کی علامت تھی کہ عوام کا غصہ کسی بیرونی دشمن کے خلاف نہیں بلکہ اپنی ہی ریاست کے اقتصادی استحصال کے خلاف تھا۔

ریاست کا ردعمل تاریخ کی بدترین ریاستی سرکوبیوں میں سے ایک تھا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر عالمی تنظیموں کے مطابق صرف چند دنوں میں پندرہ سو سے زائد مظاہرین کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا ۔  سکیورٹی فورسز نے براہ راست ہجوم پر فائرنگ کی، کئی مقامات پر چھتوں سے مشین گنوں کے ذریعے مظاہرین کو نشانہ بنایا گیا۔ حکومت نے پورے ملک میں انٹرنیٹ بند کر دیا تاکہ سرکوبی کی خبریں باہر نہ جا سکیں ۔  یہ اپنی نوعیت کی سب سے بڑی انٹرنیٹ بندش تھی جو اس وقت تک کسی ملک میں دیکھی گئی۔ ہزاروں افراد گرفتار ہوئے، جن میں سے متعدد پر تشدد کیا گیا اور کئی کو سزائے موت سنائی گئی۔ یہ واقعہ اس بحث کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں کوئی بیرونی سازش، کوئی صیہونی مداخلت، یا مغربی فنڈنگ کا کوئی معتبر ثبوت نہیں ملتا ۔  یہ خالصتاً ایک نیو لبرل اقتصادی پالیسی کے خلاف محنت کش عوام کی بغاوت تھی، جسے ریاست نے اسی بے رحمی سے کچلا جس طرح کوئی بھی سرمایہ دار پولیس ریاست اپنے مزدوروں کی بغاوت کو کچلتی ہے۔ نومبر 2019 کا سانحہ اس مفروضے کی نفی کرتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کسی طرح “غریبوں کی ریاست” ہے  ۔  درحقیقت یہ ثابت کرتا ہے کہ جب بھی غریب طبقے کے مفادات اور ریاستی-کارپوریٹ مفادات میں تصادم ہوتا ہے، ریاست بلا تامل گولی چلاتی ہے۔

2025-2026 کی جنگ اور نظام کا بحران

فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر “آپریشن ایپک فیوری” کے نام سے ایران پر بڑے پیمانے کی فضائی کارروائی کی، جس میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت متعدد اعلیٰ فوجی و سیاسی رہنما ہلاک ہوئے۔ یہ حملہ 2025 کی “بارہ روزہ جنگ” کے بعد ایک تسلسل تھا اور اس نے پورے خطے کو ایک وسیع تر تنازع میں دھکیل دیا ۔  لبنان میں حزب اللہ کی مداخلت، خلیجی ریاستوں پر ایرانی میزائل حملے، آبنائے ہرمز کی بندش، اور عالمی سطح پر تیل و گیس کی قیمتوں میں بے مثال اضافہ۔ اس جنگ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ ایک ایسی معیشت اور معاشرے پر مسلط ہوئی جو پہلے ہی شدید بحران کا شکار تھا۔ 2025 کے آخر تک ایران میں افراطِ زر پچاس فیصد سے تجاوز کر چکی تھی، کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی، بینکنگ نظام کا انہدام اور تاجروں کی ہڑتالیں ہو چکی تھیں۔ دسمبر 2025 میں شروع ہونے والے احتجاج، جو معاشی زوال کے خلاف تھے، جنوری 2026 میں ریاستی تشدد کے ذریعے کچلے گئے ۔  یہی وہ تناظر ہے جس میں امریکہ و اسرائیل نے حملے کا فیصلہ کیا، ایران کو کمزور ترین حالت میں پا کر۔ جنگ کے دوران جنوبی پارس پیٹروکیمیکل کمپلیکس، مبارکہ اسٹیل اور خوزستان اسٹیل جیسی اہم صنعتی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا، بیس ہزار سے زائد فیکٹریاں متاثر ہوئیں، اور لاکھوں مزدور بے روزگار ہو گئے۔ افراطِ زر مزید بڑھ کر ماہانہ سطح پر ریکارڈ توڑنے لگی، روٹی اور بنیادی خوراک کی قیمتیں دگنی سے زائد ہو گئیں۔

خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران کی مذہبی-عسکری اسٹیبلشمنٹ نے، عوامی جمہوری عمل کے بجائے، اسمبلی آف ایکسپرٹس کے ذریعے ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا ۔  ایک ایسا اقدام جس نے مذہبی جمہوریہ کے اس دعوے کی نفی کر دی کہ یہ نظام موروثی بادشاہت سے مختلف ہے۔ آئی آر جی سی کی بھرپور حمایت سے ہونے والا یہ انتخاب صاف ظاہر کرتا ہے کہ اقتدار کا اصل مرکز فوجی-مذہبی بیوروکریسی ہے، نہ کہ عوام۔ اس پورے بحران نے یہ ثابت کر دیا کہ اسلامی جمہوریہ کا نظام، چاہے وہ کتنا ہی “سامراج مخالف” بیانیہ اپنائے، اپنے عوام کو معاشی تباہی اور جنگی بربادی کی بھٹی میں جھونکنے سے دریغ نہیں کرتا   تاکہ ایک مذہبی-عسکری اشرافیہ کا اقتدار برقرار رہے۔

ایک جائزہ 

مندرجہ بالا تمام حقائق کی روشنی میں، ایک  تجزیہ نگار کے طور پر ہم درج ذیل نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔

پہلا، ایران کوئی سوشلسٹ یا عوامی جمہوری ریاست نہیں۔ پیداواری ذرائع کی ملکیت مٹھی بھر بنیادوں اور آئی آر جی سی سے وابستہ اجارہ دار کارپوریشنز کے ہاتھ میں مرتکز ہے۔ مزدور طبقے کو آزاد تنظیم سازی کا کوئی حق حاصل نہیں۔ فیصلہ سازی کا اختیار ایک غیر منتخب مذہبی اشرافیہ (ولی فقیہ، گارڈین کونسل) کے پاس ہے جو عملاً موروثی طرز پر منتقل ہو رہا ہے۔ کوئی مرکزی منصوبہ بندی، کوئی اجتماعی زرعی نظام، کوئی مزدور کنٹرول موجود نہیں ۔  الٹا نجکاری، مہنگائی اور بیروزگاری کی وہی کلاسیکی سرمایہ دارانہ علامات ایران میں بھی حاوی ہیں جو کسی بھی نیم نو آبادیاتی ملک میں پائی جاتی ہیں۔

دوسرا، ایران کی “سامراج مخالفت” منتخب اور مشروط ہے۔ یہ صرف اس وقت متحرک ہوتی ہے جب اس سے ایران کی علاقائی بالادستی اور اسٹریٹجک گہرائی (Strategic Depth) کو تقویت ملے۔ جہاں سامراج مخالفت ایران کی اپنی اسٹیبلشمنٹ کے مفادات سے متصادم ہو ،  جیسے چین کے ساتھ 25 سالہ معاہدے میں ایرانی وسائل کی طویل مدتی رعایتیں، یا روس کے ساتھ اتحاد جس میں ایران عملاً ایک ماتحت شراکت دار کا کردار ادا کرتا ہے — وہاں یہ “سامراج مخالفت” فوراً پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ ایران کا امریکہ و اسرائیل سے تصادم بنیادی طور پر دو علاقائی طاقتوں کی بالادستی کی کشمکش ہے، نہ کہ مظلوم اقوام کی سامراج کے خلاف انقلابی جدوجہد۔

تیسرا، جہاں ایران واقعی سامراج مخالف کردار ادا کرتا نظر آتا ہے (جیسے فلسطینی مزاحمت کی حمایت)، وہاں بھی اس کا مقصد نظریاتی بین الاقوامیت پرستی نہیں بلکہ اسٹریٹجک سرمایہ کاری ہے، جس کی حمایت اس وقت واپس لی جا سکتی ہے جب مفادات تبدیل ہوں  جیسا کہ شام کے معاملے میں دیکھا گیا۔ چوتھا، ایرانی ریاست کا اپنے عوام سے رشتہ بنیادی طور پر جابرانہ اور طبقاتی ہے۔ مزدور تحریکوں کی سرکوبی، خواتین پر جبر، قومی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک، اور سیاسی مخالفین کی پھانسیاں ۔  یہ سب اس بات کے ثبوت ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایک عوام دشمن ریاستی ڈھانچہ ہے۔

پانچواں، ایران کی حالیہ جنگ اور معاشی تباہی نے یہ بھی ثابت کیا کہ یہ نظام نہ صرف عوام دشمن ہے بلکہ اپنی بقا کی خاطر پوری قوم کو تباہی کی طرف دھکیلنے پر بھی آمادہ ہے۔ ایک ایسا نظام جو اپنی ہی عوام کی معاشی بدحالی سے بے نیاز رہ کر علاقائی سلطنت کی تعمیر پر وسائل خرچ کرتا رہا، اور جب سامراج نے حملہ کیا تو اس کا سب سے بڑا بوجھ بھی محنت کش عوام پر ہی پڑا ۔ یہ کسی بھی صورت مظلوم قوم کی سامراج کے خلاف مزاحمت کی مثال نہیں۔

ماؤ زے تنگ نے کہا تھا کہ انقلابی تحریکوں کا اصل امتحان یہ ہے کہ آیا وہ محنت کش عوام کو طاقت میں لاتی ہیں یا نہیں۔ 1979 کا ایرانی انقلاب، جسے تیل مزدوروں، طلبہ اور بائیں بازو کے کارکنوں کی قربانیوں نے ممکن بنایا، ایک تھیوکریٹک اشرافیہ کے ہاتھوں ہائی جیک کر لیا گیا۔ اس کے بعد تعمیر ہونے والا نظام   چاہے وہ سامراج کے خلاف کتنے ہی بلند و بانگ نعرے لگائے ۔ درحقیقت ایک نئی طبقاتی حاکمیت ہے، جو کلریکل-عسکری سرمایہ داری، علاقائی توسیع پسندی اور اندرونی جبر کی بنیادوں پر کھڑی ہے۔

اس تجزیے کا عملی سبق پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے انقلابی کارکنوں کے لیے بھی اہم ہے۔ بہت سے بائیں بازو کے حلقوں میں، خاص طور پر جنوبی ایشیا میں، ایران کو محض اس لیے “سامراج مخالف بلاک” کا حصہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ امریکہ و اسرائیل کا مخالف ہے۔ یہ ایک سطحی اور غیر جدلیاتی نقطہ نظر ہے۔ کسی بھی ریاست، تحریک یا رجیم کا تجزیہ کرتے وقت انقلابیوں کو ہمیشہ یہ سوال پوچھنا چاہیے۔ اس کا اپنے محنت کش عوام، عورتوں اور مظلوم قومیتوں سے کیا رشتہ ہے؟ کیا یہ آزاد مزدور تنظیم سازی کی اجازت دیتی ہے؟ کیا یہ اپنے پڑوسی ممالک کی عوامی جدوجہد کی حمایت کرتی ہے یا اسے کچلتی ہے؟ ایران کے معاملے میں ان تمام سوالوں کے جوابات اس نظریے کی نفی کرتے ہیں کہ یہ ریاست کسی طرح ترقی پسند یا انقلابی کیمپ کا حصہ ہے۔

پاکستانی طلبہ اور مزدور تحریک کے لیے یہ سبق خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ہمارے اپنے ملک میں بھی فرقہ وارانہ سیاست اور بیرونی سرپرستی کے نیٹ ورک، چاہے وہ کسی بھی سمت سے ہوں، محنت کش طبقے کی آزاد اور خودمختار تنظیم سازی کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ حقیقی انقلابی سیاست کبھی بھی کسی بیرونی ریاست کی سرپرستی یا اس کے علاقائی ایجنڈے سے مشروط نہیں ہوتی، بلکہ ہمیشہ محنت کش طبقے کی آزاد، خودمختار اور جمہوری تنظیم سازی پر استوار ہوتی  ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top