فرد، تنظیم اور اجتماعی جدوجہد

از: احمد خاں ندیم

جب کسی جدوجہد میں کوئی فرد واحد اپنے آپ کو رہنما تصور کرنے لگے، تو وہ جدوجہد عقیدت کا رنگ اختیار کر لیتی ہے  یا انفرادی مفادات کی نذر ہو جاتی ہے، اور پھر وہ عوامی نہیں رہتی۔ عوامی جدوجہد وہی ہوتی ہے جو اجتماعی مقاصد کے حصول کے لیے، اجتماعی طور پر، سب کے ساتھ مل کر کی جائے۔ یعنی عوامی و سماجی تبدیلی کے عمل میں، فرد واحد ایک اہم حصہ ضرور ہوتا ہے، لیکن کوئی بھی جدوجہد مختلف افراد کی مشترکہ کاوش اور ایک نظریے کے ساتھ منسوب ہوتی ہے۔

انقلابی سیاست کا ایک بنیادی ترین سوال یہ  ہے کہ  تاریخ کو کون بناتا ہے؟ کیا وہ عظیم شخصیات، رہنما اور ہیرو ہیں جن کے گرد جدوجہد کی تاریخ لکھی جاتی ہے، یا وہ کروڑوں گمنام انسان ہیں جو محنت، مزاحمت اور قربانی کے ذریعے تاریخ کا دھارا موڑتے ہیں؟ یہ  ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب براہِ راست اس بات کا تعین کرتا ہے کہ ایک انقلابی تنظیم کیسے تعمیر ہو، اس کی قیادت کا ڈھانچہ کیسا ہو، اور نئے شامل ہونے والے کارکنوں کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا جائے۔

 ماؤ زے تنگ نے اسے نہایت دو ٹوک انداز میں بیان کیاکہ  عوام، اور صرف عوام، وہ محرک قوت ہیں جو عالمی تاریخ تخلیق کرتے ہیں۔ یہ   ایک طریقہ کار (methodology) ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ انقلابی تنظیم کس بنیاد پر استوار ہو، قیادت کس اصول پر منتخب ہو، اور فیصلہ سازی کا عمل کس سمت میں بہے۔ اس مضمون میں ہم اسی سوال کو تین زاویوں سے دیکھیں گے۔ پہلا، فرد اور اجتماعیت کے مابین جدلیاتی رشتہ؛ دوسرا، تنظیم کا وہ کردار جو انفرادیت کو اجتماعی طاقت میں ڈھالتا ہے؛ اور تیسرا، پاکستانی بائیں بازو کی سیاست میں تجربے اور شعور کے نام پر نئے کارکنوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے اس رویے کا تنقیدی جائزہ جو صلاحیتوں کو پروان چڑھنے سے پہلے ہی کچل دیتا ہے۔

فرد اور تاریخ۔

مغربی لبرل روایت میں تاریخ کو اکثر عظیم شخصیات کی حکایت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ نپولین، سکندرِ اعظم، یا قائدینِ تحریکِ آزادی ۔  گویا تاریخ چند غیر معمولی افراد کے فیصلوں کا مجموعہ ہو۔ اسی طرزِ فکر کا اثر بائیں بازو کی سیاست میں بھی گاہے گاہے سرایت کر جاتا ہے، جہاں انقلابی تحریکوں کو ایک آدھ کرشماتی رہنما کے نام سے منسوب کر دیا جاتا ہے، گویا باقی سب محض پیروکار تھے۔

تاریخی مادیت خود  اس تصور کو مسترد کرتی ہے۔ مارکس اور اینگلز نے “جرمن نظریہ” میں واضح کیا کہ انسان اپنی تاریخ خود بناتے ہیں، مگر اپنی مرضی سے نہیں، بلکہ ان حالات کے تحت جو ماضی سے وراثت میں ملے ہیں۔ یعنی فرد تاریخ کا فاعل ضرور ہے، مگر وہ فاعل تنہا نہیں بلکہ سماجی رشتوں کے ایک جال کا حصہ ہے۔ پیداواری قوتوں اور پیداواری رشتوں کے مابین تضاد، طبقاتی جدوجہد کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، اور یہ جدوجہد طبقات کرتے ہیں، افراد نہیں۔ فرد اس جدوجہد میں ایک کردار ادا کرتا ہے، مگر وہ کردار ہمیشہ اجتماعی حرکیات کے اندر متعین ہوتا ہے۔

ماؤ زے تنگ نے اس اصول کو چینی انقلاب کے تناظر میں مزید ٹھوس کیا۔ ان کے نزدیک عوام تاریخ کے حقیقی معمار ہیں، اور پارٹی یا رہنما کا کردار یہ نہیں کہ وہ عوام کی جگہ لے لیں، بلکہ یہ کہ وہ عوام کے تجربات، خواہشات اور شعور کو منظم شکل دیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے “عوامی لائن” (Mass Line) کا تصور جنم لیتا ہے۔ عوام سے سیکھو، ان کے بکھرے ہوئے، غیر منظم خیالات کو اکٹھا کرو، انہیں سائنسی تجزیے کے ذریعے مربوط نظریے میں ڈھالو، پھر اسے دوبارہ عوام تک لے جاؤ تاکہ وہ اسے اپنا سمجھیں اور عمل میں لائیں۔ یہ ایک مسلسل، دائروی عمل ہے۔ “عوام سے، عوام تک”۔ اس عمل میں قیادت کا کام ایجاد کرنا نہیں بلکہ ترکیب کرنا (synthesize کرنا) ہے۔

یہاں فرد کی اہمیت کو کم نہیں کیا جا رہا، بلکہ اسے درست تناظر میں رکھا جا رہا ہے۔ ایک باصلاحیت منتظم، ایک بہادر کارکن، ایک ذہین مفکر   یہ سب جدوجہد کے لیے ناگزیر ہیں۔ لیکن ان کی صلاحیت کی معراج یہ نہیں کہ وہ خود کو تحریک کا مرکز بنا لیں، بلکہ یہ کہ وہ اپنی صلاحیت کو اجتماعی عمل کے تابع کر دیں۔ فرد کی انفرادیت اور اجتماعیت کے مابین یہ رشتہ متضاد نہیں بلکہ جدلیاتی ہے۔ فرد کی نشوونما اجتماعیت کے اندر ہوتی ہے، اور اجتماعیت افراد کی متنوع صلاحیتوں سے مالا مال ہوتی ہے۔ ایک کو دوسرے پر قربان کرنا، دونوں کو کمزور کرتا ہے۔

عقیدت کا بحران۔

جب کوئی فرد اپنے آپ کو کسی جدوجہد کا رہنما تصور کرنے لگے، تو وہ جدوجہد عقیدت کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ یہ رجحان تاریخ میں بار بار دہرایا گیا ہے، اور اس کی قیمت ہمیشہ عوام نے چکائی ہے۔

عقیدت پرستی کی سیاست میں فیصلہ سازی کا معیار درست تجزیہ نہیں رہتا بلکہ رہنما کی ذاتی رائے بن جاتی ہے۔ اختلافِ رائے کو بے وفائی سمجھا جانے لگتا ہے۔ تنقید، جو کسی بھی صحت مند تنظیم کی جان ہوتی ہے، غداری کے مترادف قرار پاتی ہے۔ کارکن آہستہ آہستہ فعال شریکِ کار سے غیر فعال پیروکار میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جن کا کام سوچنا نہیں بلکہ صرف عمل کرنا رہ جاتا ہے۔ یہ عمل تنظیم کی اجتماعی دانش کو ایک فرد کی محدود بصیرت تک سکیڑ دیتا ہے، اور جب وہ فرد غلطی کرتا ہے   جو ہر انسان سے ممکن ہے   تو پوری تحریک اس غلطی کی قیمت چکاتی ہے، کیونکہ اصلاح کا کوئی اجتماعی طریقہ کار باقی نہیں رہتا۔

سوویت یونین میں سٹالن کے دور میں شخصیت پرستی (Cult of Personality) کا وہ عمل جس کی خروشچیف نے 1956 کی بیسویں کانگریس میں تنقید کی، اسی رجحان کی ایک تاریخی مثال ہے، اگرچہ اس کی تفصیلات پر مارکسی روایت کے اندر مختلف تجزیے موجود ہیں۔ چین میں خود ماؤ نے، خاص طور پر ثقافتی انقلاب کے ابتدائی مراحل میں، بیوروکریٹائزیشن اور پارٹی کے اندر ابھرتی ہوئی نئی مراعات یافتہ پرت کے خلاف آواز اٹھائی، لیکن یہی عمل بعد میں کچھ حلقوں کی جانب سے شخصیت پرستی کی نئی شکلوں کو جنم دینے کے لیے بھی استعمال ہوا ، جو اس بات کی دلیل ہے کہ عقیدت پرستی کا خطرہ کسی ایک نظام یا دور تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہر انقلابی تحریک کو مسلسل درپیش رہتا ہے، چاہے اس کے آغاز کے مقاصد کتنے ہی خالص کیوں نہ ہوں۔

لینن نے “کیا کِیا جائے؟” میں پارٹی کی مرکزیت پر جتنا زور دیا، اتنا ہی اصرار انہوں نے اس بات پر بھی کیا کہ یہ مرکزیت جمہوری بنیادوں پر استوار ہو، یعنی قیادت جوابدہ ہو، تنقید کی گنجائش موجود ہو، اور فیصلے اجتماعی بحث کے بعد کیے جائیں۔ “جمہوری مرکزیت” کا اصول دراصل اسی خطرے کا تدارک ہے۔ مرکزیت کے بغیر تنظیم بکھر جاتی ہے، اور جمہوریت کے بغیر مرکزیت شخصیت پرستی میں بدل جاتی ہے۔ دونوں کا امتزاج ہی وہ توازن ہے جو تحریک کو عقیدت کے بحران سے بچاتا ہے۔

 عقیدت پرستی کے علاوہ جدوجہد کے “انفرادی مفادات کی نذر” ہو جانے کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔ یہ وہ صورت حال ہے جہاں تحریک کے اندر ذاتی عناد، ذاتی رقابتیں، یا ذاتی عزائم نظریاتی اختلافات کا روپ دھار لیتے ہیں۔ ماؤ نے اپنی تحریر “لبرل ازم کے خلاف جنگ” (Combat Liberalism) میں اسی مسئلے کی نشاندہی کی۔ جب اصولی موقف کی بجائے ذاتی تعلقات، دوستی، یا رنجش فیصلوں کی بنیاد بن جائیں، تو تنظیم کے اندر ایک نرم، مبہم ماحول جنم لیتا ہے جہاں غلط رجحانات کو برداشت کیا جاتا رہتا ہے کیونکہ ان کا سامنا کرنا “تعلقات خراب” کر سکتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تنظیم اصولی بنیادوں کی بجائے ذاتی تعلقات کے گرد استوار ہونے لگتی ہے ۔  یہ بھی عقیدت پرستی ہی کی ایک ذیلی شکل ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اس کا مرکز نظریاتی رہنما کی بجائے چھوٹے گروہی مفادات ہوتے ہیں۔

اصل مسئلہ کی جڑ ایک ہی ہے۔ جب جدوجہد کا معیار “کیا درست ہے” کی بجائے “کون کہہ رہا ہے” بن جائے، تو وہ جدوجہد عوامی نوعیت کھو دیتی ہے۔

 انفرادی ہیروازم اور کمانڈ ازم

ماؤ زے تنگ کی تحریروں میں دو رجحانات کو بار بار ہدفِ تنقید بنایا گیا ہے۔ “انفرادی ہیروازم” (Individual Heroism) اور “کمانڈ ازم” (Commandism)۔ یہ دونوں رجحانات بظاہر مختلف نظر آتے ہیں مگر جڑ ایک ہی ہے۔ عوام کی اجتماعی دانش پر عدم اعتماد۔

انفرادی ہیروازم اس ذہنیت کا نام ہے جہاں ایک کارکن یا رہنما خود کو تحریک سے بلند تر سمجھنے لگتا ہے، جہاں کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھنا اور ناکامی کا الزام دوسروں پر ڈالنا معمول بن جاتا ہے۔ یہ رجحان اکثر نیک نیتی سے بھی جنم لے سکتا ہے ۔  ایک محنتی کارکن جو دیکھتا ہے کہ کام اس کے بغیر نہیں چل رہا، وہ لاشعوری طور پر خود کو ناگزیر سمجھنے لگتا ہے۔ لیکن یہی احساسِ ناگزیریت، اگر بروقت اصلاح نہ ہو، تنظیم کے اندر ایک ایسا مرکز بنا دیتا ہے جو اجتماعی جوابدہی سے بالاتر ہو جاتا ہے۔

کمانڈ ازم اس کی دوسری شکل ہے۔ اوپر سے حکم دینا، بغیر اس کے کہ نچلی سطح کے کارکنوں یا عوام کی رائے، تجربے اور حالات کو سمجھا جائے۔ ماؤ نے یانان دور کی تحریروں میں اس پر سخت تنقید کی کہ کچھ کیڈر عوام کو “کچے مال” کی طرح دیکھتے ہیں جسے اوپر سے دی گئی ہدایات کے مطابق ڈھالا جانا ہے، نہ کہ ایسے فعال شرکاء کی طرح جن کا اپنا تجربہ اور شعور بذاتِ خود قیمتی ہے۔ کمانڈ ازم دراصل عوامی لائن کی مکمل نفی ہے، کیونکہ یہ عمل کی سمت کا تعین “نیچے سے اوپر” کی بجائے صرف “اوپر سے نیچے” کرتا ہے۔

ان دونوں رجحانات کا تریاق ماؤ کے نزدیک ایک ہی تھا۔ تطہیر کی مسلسل مہم (Rectification Campaign)، خود تنقید (Self-Criticism) کا کلچر، اور یہ اصول کہ کیڈر عوام کے “شاگرد” پہلے ہیں اور “استاد” بعد میں۔ 1942 کی یانان تطہیر مہم، اپنی تمام تر تاریخی پیچیدگیوں اور بعد میں اس کے غلط استعمال کے باوجود، اصولی طور پر اسی مقصد کے لیے شروع کی گئی تھی۔ پارٹی کے اندر موجود ساپیکش ازم (Subjectivism)، سیکٹیرین ازم اور کاغذی رسمیت (Formalism) کا خاتمہ، اور کیڈر کو دوبارہ عوامی لائن کی طرف موڑنا۔

یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ خود تنقید کا کلچر کوئی رسمی یا علامتی عمل نہیں ہونا چاہیے۔ حقیقی خود تنقید وہ ہے جو تنظیم کے اندر خوف کی بجائے اعتماد کی فضا میں ہو ۔  جہاں ایک کارکن اپنی غلطی کا اعتراف اس ڈر سے نہ کرے کہ سزا ملے گی، بلکہ اس یقین سے کرے کہ تنظیم اسے بہتر بنانے میں مدد دے گی۔ جہاں خود تنقید سزا کا ذریعہ بن جائے، وہاں کارکن غلطیاں چھپانا سیکھ لیتے ہیں، اور تنظیم اپنی سب سے قیمتی صلاحیت  خود کو درست کرنے کی صلاحیت   کھو بیٹھتی ہے۔

 جمہوری مرکزیت اور اجتماعی قیادت

اگر فرد کی انفرادیت خطرناک حد تک عقیدت یا انفرادی مفاد میں بدل سکتی ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا تدارک کیسے کیا جائے؟ جواب تنظیم کے ڈھانچے میں پوشیدہ ہے۔ ایک درست تنظیمی ڈھانچہ وہ ہے جو انفرادی صلاحیتوں کو ضم کرے، مگر انہیں کسی ایک مرکز کے گرد جامد نہ ہونے دے۔

جمہوری مرکزیت کا اصول اسی مقصد کے لیے وضع کیا گیا تھا۔ اس کے دو ستون ہیں۔ پہلا، جمہوریت   یعنی فیصلے سے پہلے آزادانہ بحث، اختلافِ رائے کا حق، نچلی سطح سے تجاویز کا اوپر جانا، قیادت کا انتخاب اور جوابدہی۔ دوسرا، مرکزیت   یعنی ایک بار فیصلہ ہو جانے کے بعد، اجتماعی نظم و ضبط کے ساتھ اس پر عمل درآمد، تاکہ تنظیم انتشار کا شکار نہ ہو۔ یہ دونوں ستون ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں۔ جمہوریت کے بغیر مرکزیت آمریت بن جاتی ہے، اور مرکزیت کے بغیر جمہوریت انتشار میں بدل جاتی ہے۔

تنظیم کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ انفرادی صلاحیتوں کو پہچانے، انہیں مواقع دے، اور ساتھ ہی ساتھ ان صلاحیتوں کو اجتماعی جوابدہی کے فریم ورک میں پروئے۔ ایک باصلاحیت مقرر، ایک ذہین لکھاری، ایک بہادر منتظم  ان سب کی صلاحیتیں تنظیم کا اثاثہ ہیں، مگر اس شرط پر کہ یہ صلاحیتیں اجتماعی نظم کے تابع رہیں، نہ کہ اجتماعی نظم ان کے تابع ہو جائے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں قیادت کا حقیقی امتحان ہوتا ہے۔ ایک اچھی قیادت وہ ہے جو خود کو ناگزیر بنانے کی بجائے، مسلسل نئی قیادت پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ لینن نے اسی اصول کی بنیاد پر پارٹی کو “پیشہ ور انقلابیوں” کی ایک ایسی تنظیم قرار دیا جو خودساختہ رہنماؤں کی بجائے، منظم اجتماعی عمل کے ذریعے کام کرے۔

اجتماعی قیادت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر فیصلہ ہر فرد کی رائے کا مجموعہ ہو، یا یہ کہ قیادت کمزور اور غیر فیصلہ کن ہو۔ اجتماعی قیادت کا مطلب ہے کہ فیصلہ سازی کا عمل شفاف ہو، اجتماعی بحث سے گزرے، اور اس کی جوابدہی طے شدہ ہو۔ ایک انقلابی تنظیم میں قیادت کمیٹیوں کی صورت میں کام کرتی ہے، نہ کہ افراد کی صورت میں۔ کمیٹی کے اندر ہر رکن کی رائے کو وزن دیا جاتا ہے، فیصلہ اکثریت کی بنیاد پر ہوتا ہے، اور ایک بار فیصلہ ہو جانے کے بعد سب اس پر عمل درآمد کے پابند ہوتے ہیں  چاہے انفرادی طور پر ان کی رائے مختلف رہی ہو۔ یہی وہ طریقہ کار ہے جو تنظیم کو کسی ایک فرد کی خودسری سے بچاتا ہے۔

یہاں یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ تنظیمی ڈھانچہ محض ایک انتظامی سہولت نہیں بلکہ خود ایک نظریاتی موقف ہے۔ یہ اس یقین کا اظہار ہے کہ درست خیالات کسی ایک ذہن کی ملکیت نہیں بلکہ اجتماعی تجربے اور بحث کے ذریعے ابھرتے ہیں۔ ماؤ نے “عملیت پر” (On Practice) میں یہی بات کی۔ علم کا سرچشمہ عمل ہے، اور چونکہ عمل ہمیشہ اجتماعی نوعیت کا ہوتا ہے، اس لیے علم بھی اجتماعی ملکیت ہے۔ کوئی بھی فرد، چاہے وہ کتنا ہی ذہین کیوں نہ ہو، حقیقت کے ہر پہلو کو تنہا نہیں سمجھ سکتا۔ یہی وہ فلسفیانہ بنیاد ہے جس پر جمہوری مرکزیت استوار ہے۔

 پاکستانی بائیں بازو کا مسئلہ

پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست میں اکثر نئے لوگوں کو کم تجربہ کار یا “بے شعور” کہہ کر پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے، ان کی رائے کو ناقص سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے، جس سے ان کی رائے ہمیشہ کے لیے ناقص رہ جاتی ہے، اور ان میں لیڈرشپ کی صلاحیتیں ابھرنے کی بجائے دب کر رہ جاتی ہیں۔ اس رجحان کی جڑیں کئی جگہ پیوست ہیں۔ پہلی جڑ یہ ہے کہ “تجربہ” کو اکثر “درستی” کا مترادف سمجھ لیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں تجربہ اور درستی دو الگ چیزیں ہیں۔ ایک پرانا کارکن جو برسوں سے تحریک میں ہے، اپنے تجربے کی بنیاد پر بہت کچھ جانتا ہے، مگر اس کا تجربہ بھی محدود، مخصوص حالات کا نتیجہ ہے۔ نئے شامل ہونے والے کارکن، خاص طور پر وہ جو مختلف پس منظر   محنت کش طبقے، طالبات، دیہی علاقوں، یا مختلف قومیتوں   سے آتے ہیں، اپنے ساتھ ایسے تجربات اور بصیرتیں لاتے ہیں جو پرانی قیادت کے پاس نہیں ہوتیں۔ جب ان کی رائے کو محض “کم تجربہ کاری” کی بنیاد پر مسترد کیا جاتا ہے، تو تنظیم دراصل اپنی سب سے قیمتی دولت   تنوع   کو ضائع کر رہی ہوتی ہے۔

دوسری جڑ زیادہ سنگین ہے۔ “شعور” کے تصور کو ایک درجہ بندی کے آلے کے طور پر استعمال کرنا۔ لینن کے “کیا کِیا جائے؟” سے اکثر یہ نکتہ اخذ کیا جاتا ہے کہ طبقاتی شعور باہر سے پارٹی کے ذریعے متعارف کرایا جاتا ہے، اور اس تشریح کو بسا اوقات اس انداز میں غلط استعمال کیا جاتا ہے کہ پرانے کیڈر خود کو شعور کے محافظ اور نئے آنے والوں کو شعور کے فقدان کا شکار سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ ایک تدریسی رشتہ (pedagogical relationship) کو ایک درجہ بندی کے رشتے (hierarchical relationship) میں بدل دیتا ہے۔ حالانکہ ماؤ کی عوامی لائن کا پورا فلسفہ اس کے برعکس ہے۔ عوام کے پاس، بشمول نئے کارکنوں کے پاس، پہلے سے ہی بکھرا ہوا مگر قیمتی شعور موجود ہوتا ہے، اور پارٹی کا کام اسے مسترد کرنا نہیں بلکہ اسے سائنسی طریقے سے مربوط کرنا ہے۔

یہ مسئلہ پاکستان کے سیاسی و سماجی تناظر میں مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ ملک کا نیم جاگیردارانہ، نیم نوآبادیاتی سماجی کردار تنظیموں کے اندر بھی سرایت کر جاتا ہے۔ عمر، جنس، برادری، طبقاتی پس منظر، اور تعلیمی رسائی جیسے عوامل اکثر لاشعوری طور پر یہ طے کرتے ہیں کہ کس کی بات سنی جائے گی اور کس کی نہیں۔ ایک نوجوان طالب علم کارکن، ایک خاتون کارکن، یا محنت کش پس منظر سے آنے والا رفیق، اکثر ایسے تعصبات کا سامنا کرتا ہے جو خود کو “انقلابی نظم و ضبط” یا “نظریاتی سختی” کے پردے میں چھپا لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تنظیم، جو بذاتِ خود جاگیردارانہ اور روایتی درجہ بندیوں کو توڑنے کے لیے قائم ہوئی تھی، خود انہی درجہ بندیوں کی چھوٹی نقل بن جاتی ہے۔

اس رویے کے دو براہِ راست نقصانات ہیں۔ پہلا یہ کہ نئے کارکنوں کی رائے،  “ہمیشہ کے لیے ناقص رہ جاتی ہے”۔   صلاحیت کوئی جامد چیز نہیں، یہ عمل اور تربیت کے ذریعے پروان چڑھتی ہے۔ جب کسی نئے کارکن کو ابتدائی مرحلے میں ہی یہ باور کرا دیا جائے کہ اس کی رائے ناپختہ ہے، اور اسے اس رائے کو بہتر بنانے کا موقع، رہنمائی یا حوصلہ افزائی نہ دی جائے، تو وہ کارکن آہستہ آہستہ بولنا چھوڑ دیتا ہے۔ یہ خاموشی، تجربے کی کمی کا نتیجہ نہیں رہتی بلکہ ادارہ جاتی خاموشی (institutional silencing) کا نتیجہ بن جاتی ہے، جسے بعد میں غلطی سے “نا اہلی” کا نام دے دیا جاتا ہے۔ یوں ایک ایسا شیطانی چکر (vicious cycle) جنم لیتا ہے جس میں تنظیم خود اپنے فیصلے کی درستی کا “ثبوت” پیدا کرتی رہتی ہے۔

دوسرا نقصان اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ لیڈرشپ کی صلاحیتیں ابھرنے کی بجائے دب کر رہ جاتی ہیں۔ کوئی بھی انقلابی تحریک، اگر وہ طویل المدتی جدوجہد کے لیے سنجیدہ ہے، تو اسے مسلسل نئی قیادت پیدا کرنی ہوتی ہے۔ قیادت کوئی مستقل عہدہ نہیں بلکہ ایک صلاحیت ہے جو مشق، ذمہ داری اور تجربے سے پروان چڑھتی ہے۔ جب تنظیم نئے کارکنوں کو ذمہ داریاں دینے سے گریز کرتی ہے   اس خوف سے کہ وہ ابھی “تیار نہیں”   تو وہ دراصل ان صلاحیتوں کے پروان چڑھنے کا واحد ذریعہ ہی بند کر دیتی ہے۔ کوئی بھی تیراکی کتاب پڑھ کر نہیں سیکھتا، پانی میں اتر کر سیکھتا ہے۔ اسی طرح قیادت کی صلاحیت صرف ذمہ داری اٹھانے، غلطیاں کرنے، اور ان سے سیکھنے کے عمل سے پیدا ہوتی ہے۔

تجربے اور شعور کا متبادل تصور۔

اگر تجربے اور شعور کو درجہ بندی کے آلے کے طور پر استعمال کرنا غلط ہے، تو صحیح طریقہ کار کیا ہو؟ عوامی لائن کا فلسفہ اس کا ایک واضح جواب فراہم کرتا ہے۔

سب سے پہلے، تنظیم کو تجربے کو ایک وسیلہ سمجھنا چاہیے، نہ کہ استحقاق۔ ایک تجربہ کار کارکن کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنا تجربہ نئے کارکنوں تک منتقل کرے، ان کی رہنمائی کرے، مگر یہ رہنمائی مساوی حیثیت کے ساتھ ہو، بالادستی کے ساتھ نہیں۔ استاد اور شاگرد کا رشتہ یک طرفہ نہیں ہونا چاہیے۔ تجربہ کار کارکن جتنا نئے کارکن کو سکھاتا ہے، اسے اتنا ہی نئے کارکن سے سیکھنا بھی چاہیے ۔  خاص طور پر ان تازہ تجربات اور بصیرتوں سے جو نیا کارکن ایک مختلف زاویۂ نگاہ سے تنظیم میں لاتا ہے۔

دوسرا، تنظیم کو باقاعدہ تربیتی نظام تشکیل دینا چاہیے جو محض نظریاتی تعلیم تک محدود نہ ہو بلکہ عملی مہارتوں   تقریر، تحریر، تنظیم سازی، مالی انتظام، ابلاغ   کی تربیت بھی فراہم کرے۔ صلاحیتیں پیدائشی نہیں ہوتیں، یہ سکھائی جاتی ہیں۔ اگر تنظیم نئے کارکنوں کو یہ تربیت فراہم کرنے میں سرمایہ کاری نہیں کرتی، تو “کم تجربہ کاری” کا الزام دراصل تنظیم کی اپنی ناکامی کا اعتراف بن جاتا ہے، نہ کہ کارکن کی خامی۔

تیسرا، تنظیم کو ذمہ داریوں کی بتدریج مگر حقیقی منتقلی کا طریقہ کار وضع کرنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نئے کارکن کو فوراً بڑی ذمہ داری دے دی جائے بغیر کسی نگرانی کے، بلکہ یہ کہ اسے چھوٹی ذمہ داریوں سے شروع کر کے، رہنمائی کے ساتھ، بتدریج بڑی ذمہ داریوں کی طرف بڑھایا جائے۔ اس عمل میں غلطیوں کی گنجائش ہونی چاہیے۔ ایک تنظیم جو غلطی کی مطلق عدم برداشت کا کلچر رکھتی ہے، دراصل نئی قیادت کی پیدائش کا راستہ بند کر دیتی ہے، کیونکہ کوئی بھی انسان بغیر غلطی کیے سیکھ نہیں سکتا۔

چوتھا، اور شاید سب سے اہم، تنظیم کو اپنے اندر تنقید اور خود تنقید کے کلچر کو ادارہ جاتی شکل دینی چاہیے، جس میں نئے کارکنوں کی رائے کو باقاعدہ طور پر سنجیدگی سے لیا جائے۔ یہ محض علامتی نہیں ہونا چاہیے   یعنی صرف رائے سننا اور پھر نظر انداز کر دینا   بلکہ حقیقی معنوں میں فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ ہونا چاہیے۔ اگر کسی نئے کارکن کی تجویز رد کی جائے، تو اس کی وجہ واضح طور پر بیان کی جانی چاہیے، نہ کہ محض یہ کہہ کر ٹال دیا جائے کہ “ابھی تمہیں سمجھ نہیں آئے گا”۔

فرد اور اجتماعیت

اب تک کی بحث سے یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط ہو گا کہ فرد کی کوئی اہمیت نہیں، یا انفرادیت بذاتِ خود کوئی منفی چیز ہے۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ جدلیاتی ہے۔ مارکسی روایت انفرادیت کی نفی نہیں کرتی، بلکہ اسے ایک مخصوص، بورژوا تصورِ انفرادیت کی نفی کرتی ہے   وہ تصور جو فرد کو سماج سے کٹا ہوا، خودمختار اور تنہا تصور کرتا ہے۔ مارکس نے “گرنڈرسے” میں لکھا کہ انسان کی حقیقی فطرت اس کے سماجی رشتوں کا مجموعہ ہے۔ فرد کی مکمل نشوونما سماج سے علیحدگی میں نہیں بلکہ سماج کے اندر، سماج کے ساتھ، ممکن ہے۔

یہی اصول انقلابی تنظیم پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ایک صحت مند تنظیم وہ نہیں جو تمام افراد کو یکساں، بے چہرہ اکائیوں میں بدل دے، بلکہ وہ ہے جو ہر فرد کی منفرد صلاحیت کو پہچانے، اسے پروان چڑھنے کا موقع دے، اور اسے اجتماعی مقصد کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔ فرد کی صلاحیت اور اجتماعی جوابدہی کے مابین کوئی تضاد نہیں، بلکہ ایک تخلیقی رشتہ ہونا چاہیے۔ فرد اجتماعیت کو مالا مال کرتا ہے، اور اجتماعیت فرد کو تحفظ، سمت اور معنی فراہم کرتی ہے۔

اس جدلیاتی ترکیب کو سمجھنے کے لیے ایک مفید تشبیہ آرکسٹرا کی ہے۔ ایک آرکسٹرا میں ہر ساز نواز اپنی جگہ منفرد مہارت رکھتا ہے، اور اس مہارت کے بغیر آرکسٹرا کی موسیقی نامکمل رہے گی۔ مگر اگر ہر ساز نواز اپنی مرضی سے، بغیر ہم آہنگی کے بجانا شروع کر دے، تو نتیجہ موسیقی نہیں بلکہ شور ہو گا۔ ہم آہنگی   یعنی وہ تنظیمی ڈھانچہ جو انفرادی مہارتوں کو ایک مشترکہ سُر میں پروتا ہے   انفرادیت کی نفی نہیں بلکہ اس کی تکمیل ہے۔ کنڈکٹر کا کردار بھی یہاں اہم ہے، مگر کنڈکٹر خود موسیقی پیدا نہیں کرتا، وہ صرف ساز نوازوں کی اجتماعی صلاحیت کو منظم شکل دیتا ہے   بالکل اسی طرح جیسے انقلابی قیادت کا کردار عوام کی جگہ لینا نہیں بلکہ ان کی صلاحیتوں کو مربوط کرنا ہے۔

یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ اجتماعیت کا مطلب یکسانیت نہیں۔ ایک صحت مند تنظیم کے اندر نظریاتی بحث، اختلافِ رائے، اور کبھی کبھار تلخ مباحثے بھی ہونے چاہیں ۔  یہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے درست خیالات، غلط خیالات کے مقابلے میں تراش خراش پا کر نکھرتے ہیں۔ ماؤ نے “تضاد پر” (On Contradiction) میں یہ اصول بیان کیا کہ ہر شے کے اندر تضادات ہوتے ہیں، اور یہ تضادات ہی ترقی کا محرک ہیں۔ ایک تنظیم جو اندرونی تضاد اور بحث کو دبانے کی کوشش کرتی ہے، دراصل اپنی نشوونما کا راستہ خود بند کر لیتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ تضاد ہو یا نہ ہو، بلکہ یہ کہ تضاد کو کیسے حل کیا جائے ۔ جبر کے ذریعے، یا جمہوری بحث اور اجتماعی فیصلے کے ذریعے۔

تنظیم سازی کے کچھ اصول

مندرجہ بالا نظریاتی بحث سے کچھ عملی اصول اخذ کیے جا سکتے ہیں جو کسی بھی انقلابی تنظیم، خاص طور پر پاکستان کے تناظر میں طلبہ اور محنت کش تحریکوں کے لیے، رہنما اصول کا کام دے سکتے ہیں۔

پہلا اصول یہ ہے کہ قیادت کا تعین کارکردگی، جوابدہی اور اجتماعی اعتماد سے ہونا چاہیے، نہ کہ سنیارٹی، ذاتی کرشمے، یا خاندانی و طبقاتی پس منظر سے۔ باقاعدہ، شفاف انتخابی عمل، جس میں قیادت وقتاً فوقتاً جوابدہ ہو اور تبدیل بھی ہو سکے، اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کوئی بھی فرد یا گروہ تنظیم کو ذاتی ملکیت نہ سمجھ لے۔

دوسرا اصول یہ ہے کہ نئے کارکنوں کے لیے واضح، بامعنی راستے موجود ہوں جن کے ذریعے وہ تربیت حاصل کریں، ذمہ داریاں اٹھائیں، اور بتدریج قیادت کی سطح تک پہنچیں۔ یہ راستے کاغذی نہیں بلکہ عملی ہونے چاہدیں، اور ان پر عمل درآمد کی نگرانی ہونی چاہیے۔

تیسرا اصول یہ ہے کہ تنقید اور خود تنقید کا کلچر ایک باقاعدہ، متواتر عمل ہو، نہ کہ کسی بحران کے موقع پر اپنایا جانے والا ہنگامی اقدام۔ یونٹ کی سطح پر، کمیٹی کی سطح پر، اور تنظیم کی سطح پر، وقتاً فوقتاً اجتماعی جائزہ ہونا چاہیے جس میں غلطیوں کو تسلیم کیا جائے، ان کے اسباب کا تجزیہ ہو، اور اصلاح کا لائحہ عمل طے ہو۔

چوتھا اصول یہ ہے کہ تنظیم کو اپنے اندر موجود سماجی تعصبات   جنس، عمر، طبقاتی پس منظر، قومیت   کے اثرات کا شعوری طور پر جائزہ لینا چاہیے۔ یہ تعصبات خودبخود ختم نہیں ہوتے؛ انہیں پہچاننا اور ان کا مقابلہ کرنا ایک شعوری، مسلسل عمل ہے۔ محض یہ کہہ دینا کہ “ہماری تنظیم مساوات پر یقین رکھتی ہے” کافی نہیں، بلکہ اس مساوات کو عملی طور پر یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات، جیسے قیادت میں تنوع کے لیے واضح اہداف، ضروری ہیں۔

پانچواں اصول یہ ہے کہ رائے کے اظہار اور فیصلہ سازی کے مابین فرق کو سمجھا جائے۔ ہر رائے کو قبول کیا جانا ضروری نہیں، مگر ہر رائے کو سنجیدگی سے سنا جانا اور اس کا مدلل جواب دیا جانا ضروری ہے۔ “تمہیں ابھی سمجھ نہیں آئے گی” ایک عذر ہے، دلیل نہیں۔ اگر کوئی تجویز غلط ہے، تو تنظیم کی ذمہ داری ہے کہ وہ سمجھائے کیوں غلط ہے، نہ کہ محض اتھارٹی کے بل پر اسے رد کر دے۔

پاکستان کا بایاں بازو، اپنی تاریخ کے مختلف ادوار میں، ریاستی جبر، نظریاتی تقسیم، اور محدود وسائل جیسے شدید چیلنجوں سے دوچار رہا ہے۔ ان حالات میں چھوٹی، قریبی حلقوں پر مشتمل تنظیمیں اکثر بقا کی جنگ لڑتی ہیں، اور بقا کی اسی جنگ میں بعض اوقات وہ اندرونی جمہوریت اور کھلے پن کو نظر انداز کر دیتی ہیں ۔  گویا سختی اور مرکزیت ہی بقا کی ضمانت ہو۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جو تنظیمیں اندرونی طور پر بند، غیر جمہوری اور فرد پرست ہو جاتی ہیں، وہ بیرونی دباؤ کے سامنے زیادہ کمزور ثابت ہوتی ہیں، کیونکہ ان کے پاس نئی قیادت پیدا کرنے، غلطیوں سے سیکھنے، اور بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت محدود ہو چکی ہوتی ہے۔

نیم جاگیردارانہ، نیم نوآبادیاتی سماج میں، جہاں روایتی درجہ بندیاں  سن، جنس، برادری، زبان  پہلے سے ہی گہری جڑیں رکھتی ہیں، انقلابی تنظیم کا سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ وہ ان درجہ بندیوں کو دہرانے کی بجائے ان کو چیلنج کرے۔ طلبہ سیاست، جو اکثر نوجوانوں کی سیاسی تربیت کا پہلا مرحلہ ہوتی ہے، اس امتحان میں خاص طور پر اہم ہے۔ اگر طلبہ تنظیموں کے اندر ہی نئے آنے والوں کو خاموش کر دیا جائے، تو وہ نسل کبھی پختہ، خود اعتماد قیادت میں تبدیل نہیں ہو پائے گی جو آگے چل کر وسیع تر محنت کش تحریک کی رہنمائی کر سکے۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ حیدر بخش جتوئی جیسے رہنما، جو کسان تحریک کی قیادت زمین سے جڑے، عام لوگوں کے ساتھ مل کر کرتے رہے، اس بات کی مثال ہیں کہ حقیقی قیادت وہ نہیں جو عوام سے بلند ہو، بلکہ وہ ہے جو عوام کے اندر رہ کر، ان کے تجربے سے سیکھتے ہوئے، انہیں منظم کرے۔ ایسی قیادت کبھی خود کو ناگزیر نہیں سمجھتی، بلکہ اپنے اردگرد نئی قیادت پیدا کرنے کو اپنی سب سے بڑی کامیابی سمجھتی ہے۔ تنظیموں کا فرض ہے کہ وہ آنے والے افراد کی صلاحیتوں کو پہچانیں، انہیں مزید پالش کریں، اور انہیں اس قابل بنائیں کہ وہ معاشرے کے اجتماعی مسائل کی جدوجہد میں شامل ہو کر اجتماعیت کا حصہ بن سکیں۔ تنظیم کوئی خود غرض ادارہ نہیں جو اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے قائم ہو، بلکہ ایک ایسا آلہ ہے جس کا مقصد بکھری ہوئی انفرادی توانائیوں کو منظم اجتماعی طاقت میں بدلنا ہے۔ وہ تحریکیں جو طویل عرصے تک زندہ رہیں اور حقیقی تبدیلی لانے میں کامیاب ہوئیں، وہ نہ تو کسی ایک کرشماتی رہنما کے کندھوں پر کھڑی تھیں، اور نہ ہی انہوں نے اپنے کارکنوں کی صلاحیتوں کو دبایا۔ بلکہ انہوں نے مسلسل، صبر کے ساتھ، نئی قیادت پیدا کی، تنقید اور خود تنقید کے کلچر کو اپنایا، اور ہر فرد کو یہ باور کرایا کہ وہ اجتماعی جدوجہد کا برابر کا حصہ دار ہے، تماشائی نہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر جدوجہد اپنی عوامی نوعیت برقرار رکھ سکتی ہے، اور صرف ایسی ہی جدوجہد حقیقی، پائیدار سماجی تبدیلی کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی وہ سبق ہے جو ہر انقلابی تنظیم کو، ہر نسل میں، نئے سرے سے سیکھنا اور اپنانا پڑتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top