تحریر: احمد خاں ندیم
کمیونسٹ مینی فیسٹو میں لکھا ہے کہ ہر سماج کی آج تک کی تمام تحریری تاریخ، طبقاتی جدوجہد کی تاریخ رہی ہے۔ آزاد آدمی اور غلام، پیٹریشین اور پلیبین، جاگیردار اور زرعی غلام، استاد اور شاگرد، مختصر یہ کہ ظالم اور مظلوم ہمیشہ ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے رہے ہیں۔ مارکس اور اینگلز نے جس یورپی بورژوا سماج کا نقشہ کھینچا، وہ اپنی جگہ ایک مخصوص تاریخی مرحلے کی تصویر ہے یعنی جاگیردارانہ کھنڈروں سے ابھرتا ہوا، عالمگیر منڈی قائم کرتا ہوا، اور اپنی ہی قبر کھودنے والا صنعتی سرمایہ دار طبقہ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ نقشہ من و عن پاکستان جیسے ملک پر چسپاں ہوتا ہے؟ تو جواب واضح ہے: نہیں۔ پاکستان، ہندوستان، فلپائن یا نیپال جیسے ممالک نے کبھی وہ کلاسیکی بورژوا انقلاب نہیں دیکھا جس نے یورپ میں جاگیردارانہ تعلقات کو مکمل طور پر توڑ کر ایک قومی، خودمختار صنعتی سرمایہ داری قائم کی ہو۔ اس کے برعکس، یہاں نوآبادیاتی نظام نے جاگیردارانہ تعلقات کو باقی رکھا، بلکہ انہیں اپنے مفاد میں محفوظ اور مضبوط کیا، اور اپنے ساتھ ایک ایسا کمزور، دلال اور انحصار پذیر سرمایہ دارانہ ڈھانچہ نتھی کر دیا جو نہ خالص جاگیردارانہ ہے نہ خالص بورژوا۔ یہی وہ سماجی صورت حال ہے جسے “نیم جاگیردارانہ، نیم نوآبادیاتی” (Semi-feudal, Semi-colonial) سماج کہا جاتا ہے۔ اس مضمون میں ہم اسی تناظر میں پاکستانی معاشرے کا جائزہ لیں گے، اور جہاں جہاں مناسب ہوا کیمونسٹ مینی فیسٹو کے متن سےبھی رجوع کریں گے تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ کلاسیکی مارکسی تصورات کس طرح پاکستانی زمینی حقیقتوں پر منطبق ہوتے ہیں اور کہاں ان میں اضافے درکار ہیں۔
نیم جاگیردارانہ، نیم نوآبادیاتی سماج کا تصور
مینی فیسٹو میں کہا گیا ہے کہ “جدید بورژوا سماج جو جاگیر دار سماج کے کھنڈروں سے ابھرا ہے اس نے طبقاتی اختلافات کو دور نہیں کیا۔ اس نے تو محض پرانے کی جگہ نئے ظلم کی نئی صورتیں اور جد و جہد کی نئی شکلیں پیدا کر دیں۔” یہ جملہ پاکستان کے تناظر میں ایک نئی معنویت اختیار کر لیتا ہے۔ 1947 میں انگریز نوآبادیاتی نظام سے سیاسی اقتدار کی منتقلی ہوئی، لیکن یہ منتقلی کسی انقلاب کے ذریعے نہیں بلکہ ایک سمجھوتے کے ذریعے ہوئی جس میں مقامی جاگیردار اشرافیہ، فوجی بیوروکریسی اور تجارتی سرمایہ دار طبقے نے برطانوی سامراج کی جگہ لے لی، مگر سامراجی تسلط کی معاشی بنیادیں برقرار رہیں۔ جو طاقتیں یورپ میں بورژوا انقلاب کی محرک بنیں، آزاد منڈی کی تخلیق، جاگیردارانہ زمینی تعلقات کا خاتمہ، قومی صنعت کی خودمختار نشوونما ، وہ پاکستان میں کبھی مکمل طور پر بروئے کار نہیں آ سکیں۔ اس کے برعکس یہاں تین بنیادی خصوصیات ایک ساتھ موجود ہیں:
پہلی، دیہی علاقوں میں زمین کی ملکیت کا ارتکاز چند جاگیردار اور زمیندار خاندانوں کے ہاتھ میں ہے، جو محض معاشی طاقت ہی نہیں بلکہ سیاسی اور عدالتی اختیار بھی رکھتے ہیں یعنی جاگیردارانہ تعلقات محض معاشی نہیں بلکہ سیاسی و سماجی بھی ہیں۔ دوسری، ملکی معیشت کا صنعتی ڈھانچہ آزاد اور خودکفیل نہیں بلکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں، عالمی بینک، آئی ایم ایف اور بڑی سامراجی طاقتوں کے قرضوں، امداد اور تجارتی شرائط کا محتاج ہے۔ تیسری، حکمران طبقہ خود ایک جامد اور واحد بورژوا طبقہ نہیں بلکہ جاگیردار، بیوروکریٹ، فوجی اشرافیہ اور کمپرادور (دلال) سرمایہ دار طبقات کا ایک مرکب اتحاد ہے، جس کا باہمی مفاد سامراج کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ یہی وہ سہ فریقی گٹھ جوڑ ہے جسے “سامراج، جاگیرداری اور بیوروکریٹ کمپرادور سرمایہ داری” کہا جاتا ہے، اور یہی پاکستانی سماج کے تجزیے کی بنیادی چابی ہے۔
مینی فیسٹو کا وہ جملہ کہ بورژوا طبقے نے “بے دردی سے ان گونا گوں جاگیردار بندھنوں کو توڑ دیا جو انسان کو اس کے پیدائشی آقاؤں کا پابند کئے ہوئے تھے” پاکستان کے وسیع دیہی علاقوں جنوبی پنجاب، اندرون سندھ، بلوچستان کے میدانی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے کچھ حصوں میں ابھی تک ایک ادھورا خواب ہے۔ ہاری، مزارع اور بے زمین کسان آج بھی زمیندار کے قرض، بیگار اور روایتی وفاداری کے جال میں جکڑے ہوئے ہیں۔ جدید بینکاری نظام، عدالتی نظام اور انتخابی سیاست، سب اسی جاگیردارانہ ڈھانچے کے اندر جذب ہو کر اسے مزید مستحکم کر دیتے ہیں۔
دیہی طبقاتی ساخت
پاکستان کی تقریباً نصف آبادی آج بھی زراعت پر منحصر ہے، اور دیہی معیشت میں طبقاتی تفاوت انتہائی شدید ہے۔ چند ہزار خاندان لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی کے مالک ہیں، جبکہ کروڑوں دیہی خاندان مکمل طور پر بے زمین ہیں یا انتہائی چھوٹے رقبے پر گزارہ کرتے ہیں۔ زرعی اصلاحات کی تمام کوششیں چاہے وہ ایوب خان کے دور کی ہوں یا بھٹو دور کی بنیادی طور پر ناکام رہیں کیونکہ ریاستی مشینری خود جاگیردار اشرافیہ کے زیرِ اثر تھی۔ زمینداری کا یہ نظام محض معاشی استحصال کا ذریعہ نہیں بلکہ سیاسی کنٹرول کا بھی ایک آلہ ہے۔ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں جاگیردار خاندانوں کی نسل در نسل نمائندگی، عدالتی اور پولیس نظام پر ان کا اثر و رسوخ، اور مقامی سطح پر ثالثی و فیصلہ سازی کے روایتی نظام (جرگہ، پنچایت) سب اسی جاگیردارانہ اقتدار کے مظہر ہیں۔
مینی فیسٹو میں پرولتاریہ کی تشکیل کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ “آبادی کے ہر طبقے سے لوگ بھرتی ہو کر پرولتاریہ میں آتے رہتے ہیں۔” پاکستان میں یہ عمل دیہی سے شہری نقل مکانی کی شکل میں مسلسل جاری ہے۔ بے زمین ہاری، برباد ہونے والے چھوٹے کاشتکار اور دستکار شہروں کا رخ کرتے ہیں، لیکن یہاں انہیں مستحکم صنعتی روزگار نہیں بلکہ غیر رسمی معیشت (انفارمل اکانومی) کی غیر یقینی، بے ضمانت اور کم اجرت ملازمتیں ملتی ہیں ریڑھی بانی، دیہاڑی مزدوری، گھریلو ملازمت۔ یہ ایک ایسا “نیم پرولتاریہ” (semi-proletariat) تخلیق کرتا ہے جو نہ مکمل طور پر زمین سے جڑا ہے نہ صنعتی مزدور طبقے میں مستحکم طور پر ضم ہو پایا ہے۔ یہی وہ پرت ہے جو دیہی علاقوں میں کسان تحریک اور شہری مزدور تحریک کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کر سکتی ہے، بشرطیکہ اسے درست سیاسی قیادت میسر ہو۔
بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں سردار اور وڈیرہ نظام کی موجودگی اس تجزیے کو مزید تقویت دیتی ہے۔ یہاں محنت کش کسان اپنی پیداوار کا بڑا حصہ زمیندار کو بٹائی کی صورت میں دینے پر مجبور ہیں، قرض کے چکر میں نسل در نسل جکڑے رہتے ہیں، اور کسی متبادل ذریعہ معاش کی عدم موجودگی میں اسی ظالمانہ نظام میں زندہ رہنے پر مجبور ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے مینی فیسٹو میں کہا گیا ہے کہ “کسی طبقے پر ظلم کرنے کے لئے بھی ایسے حالات مہیا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جن میں طبقہ کم از کم اپنی غلامانہ زندگی کو برقرار رکھ سکے۔”
بیوروکریٹ کمپرادور بورژوازی
پاکستان میں سرمایہ دار طبقے کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے یورپی کلاسیکی بورژوازی کے تصور کو براہ راست منطبق نہیں کیا جا سکتا۔ مینی فیسٹو کا بورژوا طبقہ ایک ایسا طبقہ تھا جس نے آزاد منڈی مقابلے کے ذریعے، جاگیردارانہ رکاوٹوں کو ہٹا کر اور قومی پیداواری قوتوں کو آزاد کر کے اپنی طاقت حاصل کی۔ پاکستانی سرمایہ دار طبقے کا ایک اہم حصہ اس کے برعکس ایک “کمپرادور” (دلال) کردار ادا کرتا ہے۔ یہ طبقہ اپنی دولت خودمختار صنعتی پیداوار سے نہیں بلکہ بیرونی سرمائے، درآمد و برآمد کی دلالی، رئیل اسٹیٹ کی قیاس آرائی اور مالیاتی سٹے بازی سے کماتا ہے۔ اس طبقے کا مفاد قومی صنعت کی خودمختار ترقی سے نہیں بلکہ سامراجی مالیاتی اداروں اور کثیر القومی کارپوریشنوں کے ساتھ قریبی تعلقات سے وابستہ ہے۔
اس تصویر میں ایک اور کردار کا اضافہ ضروری ہے، جو یورپی کلاسیکی ماڈل میں موجود نہیں یعنی فوجی و سول بیوروکریسی۔ پاکستان میں ریاستی طاقت کا ایک بڑا حصہ منتخب سیاسی اداروں کے بجائے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں مرتکز ہے، جو نہ صرف دفاعی بلکہ معاشی میدان میں بھی ایک بڑی طاقت رکھتی ہے۔ فوجی فلاحی فاؤنڈیشنز، کاروباری ادارے اور زرعی و صنعتی اراضی کی ملکیت کے ذریعے۔ یہ فوجی-بیوروکریٹک اشرافیہ، جاگیردار طبقے اور کمپرادور سرمایہ داروں کے ساتھ مل کر ایک ایسا حکمران اتحاد تشکیل دیتی ہے جس کا بنیادی مفاد موجودہ نیم جاگیردارانہ، نیم نوآبادیاتی ڈھانچے کو برقرار رکھنے میں ہے، نہ کہ اسے انقلابی طور پر تبدیل کرنے میں۔
مینی فیسٹو کے مطابق بورژوا طبقے کی سیاسی مرکزیت کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ “صوبے جو آزاد تھے… اب مل کر ایک قوم بن گئے ہیں، جس کی ایک حکومت ہے، قانون کا ایک ہی ضابطہ ہے۔” پاکستان میں یہ قومی مرکزیت آج تک ایک متنازعہ اور نامکمل عمل ہے۔ ریاستی مرکزیت یہاں کسی نامیاتی سماجی و معاشی انضمام کے نتیجے میں نہیں بلکہ فوجی و بیوروکریٹک جبر کے ذریعے مسلط کی گئی ہے، جس نے مختلف قومیتوں بلوچ، پختون، سندھی، سرائیکی کے حقیقی سیاسی و معاشی انضمام کے بجائے ان کے ساتھ ایک نوآبادیاتی طرز کا تعلق قائم کیا ہے، جس پر ذیل میں تفصیل سے گفتگو ہو گی۔
سامراج کا کردار ۔
مینی فیسٹو میں بورژوا طبقے کی عالمگیر پھیلاؤ کی جس تصویر کو “عالم گیر منڈی” کے نام سے بیان کیا گیا ہے، وہی عمل بیسویں صدی میں سامراجیت کی شکل اختیار کر گیا۔ ماؤ زے تنگ اور اس روایت کے دیگر مفکرین نے واضح کیا کہ نوآبادیاتی اور نیم نوآبادیاتی ممالک میں سامراج مقامی سماج کی خودمختار صنعتی ترقی کو جان بوجھ کر روکتا ہے، تاکہ یہ ممالک خام مال کی فراہمی اور تیار مال کی منڈی کے طور پر برقرار رہیں۔ پاکستان کی معاشی تاریخ اس مفروضے کی توثیق کرتی ہے۔ ملکی معیشت بار بار بیرونی قرضوں، آئی ایم ایف کے پروگراموں اور مشروط امداد پر انحصار کرتی رہی ہے، جس کے نتیجے میں پیداواری، مالیاتی اور تجارتی پالیسیاں اکثر مقامی ضروریات کے بجائے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط کے مطابق طے پاتی ہیں۔
یہ انحصار محض مالیاتی نہیں بلکہ تزویراتی بھی ہے۔ سرد جنگ کے دور میں امریکی عسکری و سیاسی سرپرستی، اور حالیہ دہائیوں میں چین کے ساتھ گہرے تزویراتی و مالیاتی تعلقات (جیسے سی پیک منصوبہ)، دونوں اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستانی حکمران طبقہ اپنی طاقت کے تسلسل کے لیے بیرونی سرپرستی کا محتاج رہا ہے۔ یہاں یہ سوال اہم ہے کہ آیا سی پیک جیسے منصوبے ملکی صنعتی خودمختاری کو مضبوط کرتے ہیں یا محض ایک نئی سامراجی طاقت کے ساتھ انحصار کے تعلق کو دوسری شکل میں دہراتے ہیں۔ قرضوں کے بوجھ، غیر مساوی تجارتی شرائط اور مقامی مزدور و ماحولیاتی حقوق کی قیمت پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر۔ اس بحث میں مختلف آراء موجود ہیں۔ کچھ تجزیہ کار اسے متبادل ترقیاتی راستہ قرار دیتے ہیں جو مغربی مالیاتی اداروں کی شرائط سے نجات دلاتا ہے، جبکہ دیگر اسے محض “قرض کے جال” (debt trap) کی ایک نئی صورت سمجھتے ہیں۔ مارکسسٹ تجزیہ عمومی طور پر دوسرے موقف کے قریب رہتا ہے، کیونکہ اس کے نزدیک کسی بھی بیرونی طاقت کے ساتھ انحصار کا تعلق چاہے وہ مغربی ہو یا مشرقی بنیادی طور پر قومی خودمختاری اور محنت کش عوام کے مفاد سے متصادم ہے۔
صنعتی مزدور طبقہ
پاکستان میں جدید صنعتی مزدور طبقے کی تشکیل کا عمل مینی فیسٹو میں بیان کردہ کلاسیکی ماڈل سے کئی پہلوؤں میں مختلف ہے۔ مینی فیسٹو کے مطابق “جدید صنعت نے اہل حرفہ کے چھوٹے کارخانے کو صنعتی سرمایہ دار کی بڑی فیکٹری میں بدل دیا ہے” اور مزدوروں کو “فوجی سپاہیوں کی طرح” منظم کر دیا ہے۔ پاکستان میں یہ عمل جزوی طور پر کراچی، فیصل آباد اور لاہور جیسے صنعتی مراکز میں ٹیکسٹائل، گارمنٹس اور بھاری صنعت میں رونما ہوا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک بڑا حصہ غیر رسمی، غیر منظم اور ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کرنے والا مزدور طبقہ بھی موجود ہے جس کے پاس نہ باقاعدہ ملازمت کا تحفظ ہے نہ ٹریڈ یونین بنانے کی مؤثر آزادی۔ پاکستانی صنعتی مزدور، خاص طور پر ٹیکسٹائل اور گارمنٹس سیکٹر میں، انتہائی کم اجرت، طویل اوقاتِ کار اور غیر محفوظ کام کے حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ 2012 کا بلدیہ ٹاؤن فیکٹری سانحہ، جس میں سینکڑوں مزدور آگ لگنے سے ہلاک ہوئے، اس نظام کی بہیمانہ حقیقت کی ایک المناک مثال ہے۔ ٹریڈ یونینوں پر ریاستی و انتظامی پابندیاں، کنٹریکٹ لیبر کا وسیع استعمال، اور مزدور قوانین کا کمزور نفاذ اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستانی حکمران طبقہ “مزدور طبقے کے انفرادی مفاد” کو تسلیم کرنے سے ہر ممکن گریز کرتا ہے۔ پھر بھی، صنعتی مرکزیت کا وہی عمل جو مینی فیسٹو میں بیان ہوا ہے، پاکستان میں بھی جاری ہے۔ بڑے صنعتی شہروں میں مزدوروں کا ارتکاز انہیں مشترکہ مفاد اور مشترکہ جدوجہد کی طرف مائل کرتا ہے۔ ماضی میں کراچی کی صنعتی ہڑتالیں، اور حالیہ برسوں میں مختلف شعبوں خاص طور پر بجلی کے لائن مینوں، نرسوں، اساتذہ اور نچلے درجے کے سرکاری ملازمین کی احتجاجی تحریکیں، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ طبقاتی شعور کی تشکیل کا عمل، اگرچہ سست اور مشکلات سے دوچار، مکمل طور پر ساکت نہیں ہے۔
قومی سوال ۔
ہم طبقاتی جدوجہد کے ساتھ ساتھ قومی جبر (national oppression) کے سوال کو بھی مرکزی مسئلہ سمجھتے ہیں ، خاص طور پر ایسے ممالک میں جہاں مختلف قومیتیں ایک مرکزی ریاست کے تحت جبری طور پر یکجا کی گئی ہوں۔ پاکستان اسی نوعیت کی ایک کثیر القومی ریاست ہے، جس میں پنجابی حکمران اشرافیہ (بشمول فوجی و بیوروکریٹک اسٹیبلشمنٹ) کا مرکزی کردار پنجابی محنت کشوں سمیت دیگر قومیتوں کے ساتھ ایک نوآبادیاتی طرز کے تعلق میں ڈھل جاتا ہے۔
بلوچستان کی صورتحال اس ضمن میں سب سے شدید ہے۔ صوبے کے قدرتی وسائل گیس، معدنیات، ساحلی علاقے کا استحصال مرکزی ریاست اور بیرونی سرمایہ کاروں کے مفاد میں ہوتا ہے، جبکہ مقامی آبادی کو ان وسائل کے منافع سے کم ترین حصہ ملتا ہے۔ گوادر بندرگاہ اور سی پیک سے وابستہ منصوبے اس تضاد کی ایک اہم مثال ہیں۔ یہ منصوبے مقامی بلوچ آبادی کی ملکیت، روزگار اور رہائش کے بجائے بیرونی و مرکزی مفادات کو ترجیح دیتے دکھائی دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بلوچ قوم پرست اور مسلح تحریکیں (جن میں مختلف نظریاتی رجحانات شامل ہیں) ایک طویل عرصے سے جاری ہیں۔ ریاستی ردعمل، جس میں جبری گمشدگیوں کی شکایات نمایاں ہیں، اس تضاد کو مزید گہرا کرتا ہے۔
خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں بھی ریاستی جبر اور فوجی آپریشنز کی تاریخ، مقامی آبادی کے حقوق اور خودمختاری کے سوال کو نمایاں کرتی ہے، جیسا کہ پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی حالیہ تحریک سے ظاہر ہوتا ہے، جو لاپتہ افراد، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور فوجی آپریشنز کے خلاف آواز اٹھاتی ہے۔ سندھ میں بھی، خاص طور پر پانی کی تقسیم، وسائل کے کنٹرول اور شہری بمقابلہ دیہی طبقاتی تضاد کے حوالے سے قوم پرست جذبات موجود ہیں۔
پاکستان کے زیرِ انتظام آزاد کشمیر (اور اسی سے جڑا گلگت بلتستان کا علاقہ) اس قومی سوال کی ایک مزید پیچیدہ اور حساس مثال پیش کرتا ہے، جسے مارکسی تجزیاتی فریم ورک میں تین الگ الگ سطحوں پر دیکھنا ضروری ہے۔ آئینی و سیاسی حیثیت کا سوال، معاشی استحصال کا سوال، اور وسیع تر بین الاقوامی تنازعے کا سوال۔ آئینی سطح پر، آزاد کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جو رسمی طور پر پاکستانی وفاق کا مکمل حصہ نہیں بلکہ ایک الگ نیم خودمختار حیثیت رکھتا ہے، جس کی اپنی صدارت، وزارتِ عظمیٰ اور مقننہ موجود ہے، مگر عملی طور پر اس کے حقیقی اختیارات انتہائی محدود ہیں۔ 1974 کے عبوری آئین اور بعد کی ترامیم کے تحت، وفاقی حکومت میں قائم “کشمیر کونسل” کے پاس مالیاتی، تجارتی اور انتظامی امور پر فیصلہ کن اختیار رہا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی منتخب ادارے اکثر علامتی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ رسمی خودمختاری اور حقیقی سیاسی و معاشی اختیار میں فرق ہونا، نوآبادیاتی طرز کے تعلق کی ایک اہم علامت ہے۔
معاشی سطح پر، آزاد کشمیر کے قدرتی وسائل، خاص طور پر دریائے جہلم اور نیلم پر تعمیر شدہ آبی بجلی گھر (جیسے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ)، اس تضاد کی واضح مثال ہیں۔ بجلی کی پیداوار کا بڑا حصہ قومی گرڈ میں شامل ہو کر باقی ملک کو فراہم ہوتا ہے، جبکہ مقامی آبادی کو اکثر طویل لوڈشیڈنگ اور اپنے ہی وسائل سے پیدا ہونے والی بجلی کے جائز حصے کی عدم فراہمی کا سامنا رہتا ہے۔ حالیہ برسوں میں آزاد کشمیر میں آٹے، بجلی کی قیمتوں اور دیگر بنیادی ضروریات کے خلاف ہونے والے وسیع عوامی احتجاج (جن کی قیادت مقامی عوامی ایکشن کمیٹیوں نے کی) اسی معاشی محرومی کے اظہار کے طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ احتجاجی تحریکیں محض قیمتوں کے مسئلے تک محدود نہیں بلکہ ان کے پیچھے وہی ساختیاتی تضاد کارفرما ہے جو دیگر مظلوم قومیتوں کے معاملے میں نظر آتا ہے۔ مرکزی حکمران طبقے کا وسائل پر کنٹرول اور مقامی آبادی کی محرومی۔
تیسری سطح، یعنی بین الاقوامی تنازعے کا پہلو، سب سے زیادہ حساس اور متنازعہ ہے۔ کشمیر کا مجموعی مسئلہ جس میں پاکستان کے زیرِ انتظام آزاد کشمیر و گلگت بلتستان، بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر، اور چین کے زیرِ انتظام اکسائی چن شامل ہیں، دہائیوں سے ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے، جس پر اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی موجود ہیں۔ اس سوال پر مختلف نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔ پاکستانی ریاست کا موقف ہے کہ پورے خطے کو حقِ خودارادیت کے تحت رائے شماری کا موقع ملنا چاہیے؛ بھارتی موقف پورے خطے کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے؛ جبکہ کشمیری قوم پرست حلقوں کے اندر بھی مکمل آزادی، پاکستان سے الحاق، یا خودمختار حیثیت جیسے مختلف مؤقف موجود ہیں۔ مارکسی روایت کے اندر بھی اس معاملے پر کوئی واحد متفقہ لائن نہیں ہے۔ کچھ تجزیہ کار اسے خالصتاً سامراجی تقسیم (تقسیم ہند کے نوآبادیاتی ورثے) کا نتیجہ سمجھتے ہوئے مکمل کشمیری خودارادیت کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ دیگر اسے علاقائی و مقامی طبقاتی جدوجہد کے تناظر میں ثانوی حیثیت دیتے ہیں۔ اس مضمون کا مقصد اس بین الاقوامی تنازعے میں کسی ایک ریاستی موقف کی حمایت یا مخالفت کرنا نہیں بلکہ صرف اتنا اشارہ کرنا ہے کہ آزاد کشمیر کی آبادی کو درپیش معاشی و سیاسی اختیار کی محرومی، طبقاتی تجزیے کے اسی فریم ورک میں سمجھی جا سکتی ہے جو مضمون کے دیگر حصوں میں بلوچستان، پختونخوا اور سندھ کے حوالے سے پیش کیا گیا۔
قومی جبر کے شکار عوام کو نہ صرف طبقاتی بلکہ قومی خودارادیت کا بھی حق حاصل ہے، اور کسی بھی حقیقی انقلابی حکمت عملی کو ان دونوں جہتوں طبقاتی استحصال اور قومی جبر کو ایک ساتھ حل کرنا ہوگا۔ یہ نکتہ اہم ہے کہ اس تناظر میں مختلف نظریاتی دھارے موجود ہیں۔ کچھ قوم پرست تحریکیں طبقاتی تجزیے کے بجائے محض قومی خودمختاری پر زور دیتی ہیں، جبکہ مارکسی روایت ان دونوں کو باہم مربوط دیکھتی ہے، یعنی قومی جبر کے خاتمے کو طبقاتی ۔
ریاستی جبر اور طبقاتی مزاحمت کی موجودہ صورتحال
مینی فیسٹو میں کہا گیا ہے کہ “بورژوا طبقے کے رو برو اس وقت جتنے طبقے کھڑے ہیں ان سب میں ایک پرولتاریہ ہی حقیقت میں انقلابی ہے۔” پاکستانی تناظر میں یہ سوال زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے، کیونکہ یہاں صرف صنعتی مزدور طبقہ ہی نہیں بلکہ بے زمین کسان، نیم پرولتاریہ اور مظلوم قومیتیں بھی انقلابی صلاحیت رکھنے والی قوتیں ہیں۔ ماؤسٹ حکمت عملی میں دیہی علاقوں میں کسان طبقے کو خاص اہمیت دی جاتی ہے، کیونکہ نیم جاگیردارانہ سماج میں دیہی آبادی کی اکثریت اور زمین کے سوال کی مرکزیت اسے انقلابی تبدیلی کی ایک بنیادی قوت بناتی ہے، جبکہ شہری صنعتی مزدور طبقہ نظریاتی و تنظیمی قیادت کا کردار ادا کرتا ہے۔
پاکستان میں بائیں بازو کی تحریکوں کی تاریخ چاہے وہ 1970 کی دہائی کی مزدور و طلبہ تحریکیں ہوں یا حالیہ دہائیوں کی مختلف کسان و مزدور تنظیمیں ، اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ طبقاتی شعور کی تعمیر کا عمل انتہائی مشکلات کا شکار رہا ہے۔ اس کی وجوہات میں فوجی آمریتوں کا طویل تسلط، مذہبی و قوم پرست بیانیوں کا غلبہ، بائیں بازو کی تنظیموں کے اندرونی انتشار، اور سرد جنگ کے دوران امریکی سرپرستی میں چلائی گئی کمیونسٹ مخالف مہمات شامل ہیں۔ اس کے نتیجے میں، جہاں دیگر جنوبی ایشیائی ممالک (بھارت، نیپال، فلپائن) میں ماؤسٹ مسلح تحریکیں کسی نہ کسی سطح پر منظم ہوئیں، وہاں پاکستان میں ایسی کوئی منظم اور وسیع البنیاد ماؤسٹ تحریک قائم نہیں ہو سکی، اگرچہ چھوٹے نظریاتی حلقے اور کسان و مزدور تنظیمیں موجود رہی ہیں۔ اس تناظر میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خود ماؤسٹ فکر کے اندر مسلح جدوجہد (پیپلز وار) کے راستے پر شدید تنقیدی بحثیں موجود ہیں ۔یہ ایک متنازعہ اور کھلا سوال ہے جس پر ماوسٹ تنظیموں کے اندر بھی اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔
نیم جاگیردارانہ نیم نوآبادیاتی ممالک کے لیے تجویز کردہ حکمت عملی کو “نئی جمہوری انقلاب” (New Democratic Revolution) کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق، ایسے ممالک میں فوری ہدف سوشلسٹ انقلاب نہیں بلکہ ایک ایسا انقلاب ہے جو سامراج، جاگیرداری اور بیوروکریٹ کمپرادور سرمایہ داری کا خاتمہ کر کے زمین کو کسانوں میں تقسیم کرے، قومی صنعت کو خودمختار بنیادوں پر استوار کرے اور قومی خودارادیت کو یقینی بنائے اور یہ سب مزدور طبقے کی قیادت میں، کسانوں، محنت کش عوام اور محب وطن قوتوں کے وسیع اتحاد کے ذریعے انجام پائے۔
پاکستان کے تناظر میں اس تصور کا اطلاق کئی سوالات اٹھاتا ہے۔ کیا موجودہ سیاسی جماعتیں چاہے وہ روایتی جاگیردار بنیاد پر قائم ہوں یا شہری متوسط طبقے کی نمائندہ ہوں ، اس انقلابی منصوبے کی نمائندگی کر سکتی ہیں؟ طبقاتی تجزیہ عمومی طور پر اس کا جواب نفی میں دیتا ہے، کیونکہ موجودہ جماعتیں کسی نہ کسی سطح پر اسی حکمران طبقاتی اتحاد کا حصہ ہیں جس کا اوپر ذکر ہوا۔ اس کے بجائے ایک آزاد، مزدور و کسان بنیاد پر قائم انقلابی جماعت اور تنظیم کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے۔
تضادات اور امکانات ۔
مینی فیسٹو کا آخری اور سب سے طاقتور دعویٰ یہ ہے کہ بورژوا نظام اپنے اندر ہی وہ تضادات پیدا کرتا ہے جو بالآخر اس کی اپنی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ “بورژوا طبقے نے سب سے بڑھ کر جن کو پیدا کیا وہ اس کی اپنی قبر کھودنے والے ہیں۔” پاکستانی تناظر میں یہ سوال پوچھنا ضروری ہے کہ آیا موجودہ نیم جاگیردارانہ، نیم نوآبادیاتی نظام میں بھی ایسے تضادات پروان چڑھ رہے ہیں جو بنیادی تبدیلی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
کئی اشارے اس جانب اشارہ کرتے ہیں۔ بار بار آنے والے معاشی بحران، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیروزگاری، دیہی سے شہری نقل مکانی کا بڑھتا ہوا دباؤ، موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ زرعی پیداوار (جیسا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے واضح کیا)، اور نوجوان آبادی کی بڑھتی ہوئی بے چینی۔ ان تمام عوامل نے پاکستانی سماج کے اندر ایک گہری بے اطمینانی پیدا کی ہے، جو کبھی سیاسی تحریکوں، کبھی مذہبی رجحانات اور کبھی قوم پرست جذبات کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ لیکن یہ بے اطمینانی خود بخود کسی منظم طبقاتی شعور یا انقلابی تنظیم میں تبدیل نہیں ہو جاتی ۔ اس کے لیے شعوری سیاسی و نظریاتی کام، تنظیم سازی اور طویل المدتی جدوجہد درکار ہے، جیسا کہ مینی فیسٹو خود واضح کرتا ہے کہ مزدور طبقے کی سیاسی تنظیم کا عمل بتدریج اور کئی مراحل سے گزرتا ہے۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ پاکستانی سماج میں مذہبی، قوم پرستانہ اور ریاستی بیانیے طبقاتی شعور کی تشکیل کے عمل پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ چنانچہ کوئی بھی طبقاتی تجزیہ، جو ان نظریاتی و سیاسی عوامل کو نظرانداز کرے، پاکستانی سماج کی پیچیدگیوں کو پوری طرح نہیں سمجھ سکتا۔ اسی طرح فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ریاستی ڈھانچے، معیشت اور سیاسی عمل میں گہرا اور دیرپا کردار، سماجی و سیاسی تبدیلی کے تجزیے میں ایک بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتا ہے، جسے نظرانداز کرنا حقیقت پسندانہ مطالعے کے منافی ہوگا۔
اسی لیے پاکستان کا مطالعہ نہ صرف مارکس اور اینگلز کے پیش کردہ بنیادی تصورات کی تخلیقی تعبیر کا تقاضا کرتا ہے بلکہ اس امر کا بھی کہ ہر سماج کو اس کی اپنی تاریخی، معاشی، سیاسی اور سماجی مخصوصیت کے تناظر میں سمجھا جائے۔ یہی جدلیاتی اور سائنسی نقطۂ نظر ہمیں جامد نظریاتی اطلاق کے بجائے ٹھوس مادی حالات، طبقاتی تعلقات اور تاریخی ارتقا کے باہمی ربط کا تجزیہ کرنے کی دعوت دیتا ہے، تاکہ سماج کے موجودہ تضادات اور اس کے ممکنہ تاریخی امکانات کو زیادہ گہرائی اور معروضیت کے ساتھ سمجھا جا سکے۔