National Students Federation

تحریکوں کی حقیقت اور سازشی فریم

ہمارے سماج میں ایک عمومی مگر خطرناک رجحان یہ ہے کہ ہر وہ تحریک جو ہمارے مخصوص نظریاتی یا جغرافیائی دائرے سے باہر ہو، خواہ وہ کتنی ہی عوامی، انقلابی یا تاریخی محرومیوں پر مبنی ہو، اسے مشکوک بنا دیا جاتا ہے۔ تحریکوں کو رد کرنے کے لیے تین بنیادی الزامات بار بار دہرائے جاتے ہیں: “غداری”، “لادینیت” اور “غیرملکی فنڈنگ”۔ اس رویے کے پیچھے صرف لاعلمی نہیں بلکہ ایک (structural) سیاسی نفسیات کام کرتی ہے، جو خود نوآبادیاتی (postcolonial) ریاستی بیانیے سے تشکیل پاتی ہے۔ اس بیانیے کا مقصد عوامی خودارادیت، طبقاتی شعور، اور انقلابی مزاحمت کو متنازعہ بنا کر اسے عوام کی نظروں سے اوجھل رکھنا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی یہ تمام تحریکیں خالص اور عوامی ہوتی ہیں؟ یا ان میں سازشی شکوک و شبہات کی کوئی بنیاد بھی ہوتی ہے؟  میرے خیال میں اس سوال کا جواب سادہ “ہاں” یا “نہیں” میں نہیں دیا جا سکتا۔ ہمیں ہر تحریک کے مادی حالات، تاریخی سیاق، طبقاتی ساخت، اور نظریاتی سمت کا تجزیہ سائنسی طریقے سے کرنا پڑتا ہے۔ یہی ماؤاسٹ فلسفے  کی اصل روح ہے مخصوص حالات کامخصوص تجزیہ، (Concrete Analysis of Concrete Conditions)۔

جب ہم پنجاب میں پنجابی زبان کی تحریک کو دیکھتے ہیں یا بلوچستان و سندھ میں قومی آزادی کی تحریکوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے پیچھے عوامی جبر، معاشی استحصال، اور شناخت کی نفی جیسے حقیقی مسائل کارفرما ہیں۔ لیکن ریاستی بیانیہ نہ صرف ان تحریکوں کو مشکوک بنانے کی کوشش کرتا ہے بلکہ بائیں بازو کے کئی حلقے بھی بغیر کسی سائنسی مطالعے کے انہیں “رجعتی”، “قوم پرستانہ”، یا “فنڈڈ” قرار دے دیتے ہیں۔ یہی رجحان خود مارکسی تحریکوں کو بھی غیرمحتاط بناتا ہے۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو سامراجی قوتیں ہمیشہ سے انقلابی یا قومی تحریکوں کو ہائی جیک کرنے، co-opt کرنے، یا داخلی سطح پر تقسیم کرنے کی کوشش کرتی آئی ہیں۔ چاہے وہ تبت میں CIA کا کردار ہو، یا فلسطینی مزاحمت میں NGO-ائزیشن کا زہر، یا پھر افریقہ میں انقلابی لیڈروں کے قتل کے بعد تحریکوں کی NGO میں تحلیل ،  ہر جگہ سامراج نے مزاحمت کو یا تو فنا کیا یا اسے اپنے اندر جذب کر لیا۔

پاکستان کے تناظر میں ہمیں یہی  سچائی سمجھنے کی ضرورت ہے: کوئی بھی تحریک ،  خواہ قومی ہو یا صنفی، لسانی ہو یا مذہبی ،  جب تک وہ اپنے بنیادی تضادات کو سائنسی طریقے سے نہیں سمجھتی، جب تک وہ اپنی تنظیم کو مرکزیت (centralism) اور جمہوریت(democracy) کی جدلیات کے ساتھ نہیں چلاتی، اور جب تک وہ طبقاتی سیاست کو نظریاتی اساس نہیں بناتی، تب تک وہ نہ صرف co-opt ہونے کے خطرے میں رہتی ہے بلکہ کئی بار خود بھی غیر شعوری طور پر غیرافراد کو تقویت دینے لگتی ہے۔ اس وقت دنیا بھر کے وسائل عالمی مالیاتی سرمائے، سامراجی بلاکس، اور مقامی گماشتہ ریاستوں کے کنٹرول میں ہیں۔ ایسے میں کوئی بھی جدوجہد ،  خواہ وہ کسان تحریک ہو یا مزدور تنظیم، خواہ وہ عورتوں کا حقوق کا مطالبہ ہو یا زبان و ثقافت کی بازیافت ،  اگر وہ بغیر نظریاتی تربیت، سائنسی تنظیمی ڈھانچے اور انقلابی حکمت عملی کے آگے بڑھے، تو بہت جلد یا تو مضمحل ہو جائے گی، یا NGO-ائزیشن کا شکار بن جائے گی، یا پھر کسی سامراجی ایجنڈے کا جزو بن کر رہ جائے گی۔ پاکستان میں بائیں بازو کی تحریکوں کا زوال اس حقیقت کا گواہ ہے۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جو مزدور کسان تحریکیں ریاست کو چیلنج کر رہی تھیں، آج وہ یا تو این جی او کے پروجیکٹس میں ڈھل چکی ہیں یا پھر ان کے نام سے صرف یادگاریں باقی رہ گئی ہیں۔ اس زوال کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ بائیں بازو نے اپنی جدوجہد کو مارکسی-لیننی-ماؤسٹ خطوط پر نظریاتی استقامت کے ساتھ آگے نہیں بڑھایا، بلکہ جلد بازی، سیاسی ایڈونچرازم، یا محض روشن خیالی کی خواہش نے اس کی سمت گم کر دی۔

کسی بھی تحریک، خواہ وہ قومی ہو، صنفی ہو یا طبقاتی، اس کی جڑیں محض نظریاتی دعووں یا جذباتی نعروں میں نہیں بلکہ اس کے مادی حالات میں پیوست ہوتی ہیں۔ ایک سچی انقلابی نگاہ ہمیشہ تضادات کو سطحی بیانیوں میں نہیں بلکہ ان تضادات کی مادی بنیادوں میں تلاش کرتی ہے۔ تحریک اگر عوام کے اندر سے ابھری ہے، اگر اس کا رشتہ استحصال، جبر، محرومی، یا تاریخی انکار سے ہے، تو وہ اپنی اصل میں ایک حقیقی تحریک ہے، چاہے اس پر بعد میں کوئی لیبل لگا دیا جائے یا اسے ہائی جیک کرنے کی کوشش کی جائے۔ ہمیں کسی بھی تحریک کو اس کے خارجی سیاسی کردار یا موجودہ قیادت کی بنیاد پر یکسر مسترد کر تے ہوئے  ہر جدوجہد کی مادی بنیادوں کا جائزہ لینا ہوگا ، اور یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کس طبقے، کس خطے، اور کس تاریخ سے جنم لے رہی ہے۔

اسی کے علاوہ  ہر قوم، ہر طبقہ، اور ہر صنف کی جدوجہد کو اُس کے مخصوص تاریخی و سماجی سیاق میں سمجھا جائے۔ نہ تو کسی قومی تحریک کو صرف اس بنیاد پر رد کیا جائے کہ وہ طبقاتی نعرے نہیں لگا رہی، اور نہ ہی کسی مزدور یا کسان تحریک کو اس لیے کمتر سمجھا جائے کہ وہ ابھی قومی آزادی یا صنفی مساوات کی بات نہیں کر رہی۔ ہم یہ سمجھتے ہیں  کہ ہر مخصوص مظلوم گروہ کی جدوجہد، اگر وہ استحصالی نظام کے کسی پہلو کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے، تو اسے عمومی انقلابی جدوجہد سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ یعنی کسی بھی مخصوص مظلومیت کو عمومی انقلابی پروگرام میں ضم کرنے کا عمل صرف نعرہ بازی سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان مخصوص حالات کو سمجھیں جن میں وہ مظلومیت پیدا ہوئی، پنپی، اور مزاحمت کی شکل میں ظاہر ہوئی۔

اس کے علاوہ یاد رکھیں کوئی بھی تحریک جب تک انقلابی قیادت، نظریاتی تربیت، اور سائنسی تنظیمی مرکزیت کے بغیر چلتی رہے گی، وہ خود کو co-opt ہونے یا ہائی جیک ہونے کے خطرے سے محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ بائیں بازو کی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ جہاں بھی قیادت نے انقلابی وژن کو ترک کیا، تنظیم کو ڈھیلا چھوڑا، یا نظریاتی تسلسل برقرار نہ رکھا، وہاں یا تو تحریک عوام سے کٹ کر رہ گئی، یا اسے سامراجی اور ریاستی قوتوں نے absorb کر لیا۔ اس لیے مستقل جدوجہد کے لیے تنظیمی ڈسپلن، قیادت کا سیاسی نظریاتی پختہ ہونا، اور پارٹی یا تنظیم کے اندر جمہوری مرکزیت جیسے اصول محض انتظامی ڈھانچے نہیں بلکہ بقا اور ترقی کی شرط ہیں۔

آخری بات یہ کہ  اگر کوئی تحریک وقت کے ساتھ سامراجی قوتوں کے ہاتھوں ہائی جیک ہو بھی جائے، تو اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ وہ مسئلہ، وہ تضاد یا وہ محرومی سرے سے موجود ہی نہ تھی، ایک تاریخی اور انقلابی غلطی ہے۔ تضاد کی موجودگی اپنی جگہ ایک objective حقیقت ہوتی ہے، اور اس پر سیاست کی ہئیت بدلنے سے اس کی مادی حقیقت ختم نہیں ہو جاتی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سامراجی co-optation خود اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب کوئی تحریک مادی بنیاد پر طاقتور ہو چکی ہو، لیکن اس میں نظریاتی وضاحت، تنظیمی ڈھانچہ یا انقلابی سمت موجود نہ ہو۔ چنانچہ کسی تحریک کا ہائی جیک ہونا اس کے جواز کو رد کرنے کی دلیل نہیں، بلکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اسے بروقت انقلابی بنیادوں پر استوار نہ کیا گیا، یا اسے اس کی نظریاتی پختگی فراہم نہ کی گئی۔ یہی وہ انقلابی بصیرت ہے جو ہمیں ہر جدوجہد کا تجزیہ کرنے، اس کے تضادات کو سمجھنے، اور اسے انقلابی دائرہ عمل میں لانے کی اہلیت عطا کرتی ہے۔

لہٰذا ایک انقلابی طالب علم، دانشور یا کارکن کا فرض یہ ہے کہ وہ ہر تحریک کو اس کے internal contradictions کے ساتھ سائنسی بنیادوں پر پرکھے۔ محض غداری یا فنڈڈ ہونے کا الزام لگا کر جدوجہد کو رد کرنا دراصل اپنی سیاسی ناپختگی، نظریاتی سستی اور سامراجی بیانیے کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے مترادف ہے۔ ہمیں آج اپنے طبقاتی، قومی، لسانی اور صنفی تضادات کو ایک مشترکہ انقلابی دائرے میں لا کر سمجھنا ہوگا۔ ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ سچائی کی کسوٹی صرف نعرے یا فنڈنگ نہیں، بلکہ مادی تضاد، عوامی حمایت، اور تنظیمی استقامت ہے۔

Scroll to Top