سال 2007 میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) کی نویں کانگریس، جسے یونٹی کانگریس بھی کہا جاتا ہے، منعقد ہوئی۔ اس کانگریس میں ایک نہایت اہم فیصلہ کیا گیا جو موجودہ عالمی حالات اور انقلابی تحریکوں کے تناظر میں تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ کانگریس میں اس بات کو شدت سے محسوس کیا کہ چین، جو ماضی میں سوشلسٹ تحریک کا مرکز رہا، آج ایک متضاد کردار اختیار کر چکا ہے۔ چنانچہ پارٹی نے فیصلہ کیا کہ چین میں سوشلسٹ انقلاب کے بعد پیدا ہونے والی معاشی، سیاسی، ثقافتی اور فوجی تبدیلیوں کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے، اور اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ آیا چین نے واقعی ایک سوشل سامراجی قوت (Social-Imperialist Power) کا روپ دھار لیا ہے یا نہیں۔یہ بھاری ذمہ داری پارٹی کی مرکزی کمیٹی کو سونپی گئی۔ مرکزی کمیٹی نے اس تحقیقاتی عمل کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا اور چین میں رونما ہونے والی اندرونی تبدیلیوں اور اس کی عالمی سطح پر سامراجی سرگرمیوں کا تجزیہ کیا۔ کمیٹی کی پانچویں میٹنگ میں اس پورے مطالعے پر غور و بحث کی گئی، اور نتیجہ اخذ کیا گیا کہ چین اب ایک نئی سوشلسٹ سامراجی قوت بن چکا ہے، جو کہ عالمی سرمایہ دارانہ-سامراجی نظام کا ناگزیر حصہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین اب دنیا کے محکوم عوام اور قوموں کا دشمن بن چکا ہے۔
پارٹی نے اس نتیجے کو بین الاقوامی انقلابی جدوجہد کے تناظر میں نہایت سنجیدہ قرار دیا۔ اس کے مطابق، اگر دنیا میں سوشلسٹ انقلاب کو کامیاب بنانا ہے تو یہ ضروری ہے کہ مارکسسٹ-لیننسٹ-ماؤسٹ پارٹیاں اور گروہ پوری دنیا میں مزدوروں، کسانوں، مظلوم قومیتوں اور عوام کو منظم کریں، اور سامراجیت، جدید رویژنزم اور خصوصاً چینی سوشلسٹ سامراجیت کے خلاف انقلابی تحریکوں کو آگے بڑھائیں۔
پارٹی اس امر پر زور دیتی ہے کہ موجودہ دور میں دو بنیادی فریضے انقلابی کمیونسٹ پارٹیوں کے لیے نہایت اہم ہیں:
- سامراجیت اور رویژنزم کا قلع قمع کرنا؛
- چینی سوشل سامراجیت اور موجودہ عالمی ردِ انقلاب کے خلاف مسلسل جدوجہد کرنا۔
ان دونوں فریضوں کی ادائیگی کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ چین کے حقیقی کردار کو عالمی محنت کش طبقے کے سامنے بے نقاب کیا جائے۔ چین کی سرمایہ دارانہ اور سامراجی صف بندی کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ عالمی سطح پر طبقاتی پولرائزیشن (class polarization) کی حقیقی صورتحال کو سمجھا جا سکے اور دوست و دشمن کی شناخت کی جا سکے۔مرکزی کمیٹی اس بات پر بھی زور دیتی ہے کہ جب تک چین کی موجودہ پوزیشن کا سائنسی تجزیہ نہ کیا جائے، اس وقت تک نہ تو جدید رویژنزم کو سمجھا جا سکتا ہے، نہ ہی سامراجی سیاست کو، اور نہ ہی آج کے عہد کی جنگوں اور بحرانوں کو۔ اس لیے کمیونسٹ انقلابی قوتوں کو چاہیے کہ وہ چین کی سامراجی حیثیت کو لینن کے بتائے ہوئے سامراج کے پانچ بنیادی اقتصادی خصائص اور تین مخصوص مراحل کی روشنی میں پرکھیں۔ اس طرح ہی ہم چین کی حقیقی نوعیت، عالمی سامراجی نظام میں اس کے کردار، اور موجودہ عالمی تضادات کو صحیح طور پر سمجھ سکیں گے۔
دستاویز کے آغاز میں ہی یہ اعلان کیا گیا ہے کہ آج بھی لینن کا نظریہ کہ “سامراجیت سرمایہ داری کا آخری مرحلہ ہے” پوری طرح صادق آتا ہے۔ سامراجیت کا مطلب ہے جنگ، لوٹ مار، استحصال، اور محنت کشوں و محکوم قوموں کے لیے قیامت خیز مظالم۔ جب تک سامراجی نظام باقی ہے، جنگیں ناگزیر رہیں گی۔ اس لیے اگر جنگوں کا خاتمہ مطلوب ہے تو ہمیں سامراجی سرمایہ دارانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔یہی بنیادی سیاسی بصیرت CPI (Maoist) کے اس مطالعے کی روح ہے، اور یہی اس دستاویز کی اشاعت کا مقصد بھی ہے۔ پارٹی اس دستاویز کے ذریعے بین الاقوامی کمیونسٹ تحریک کو یہ واضح پیغام دینا چاہتی ہے کہ چین اب ایک انقلابی یا سوشلسٹ ملک نہیں رہا بلکہ ایک مکمل رد انقلابی سامراجی قوت میں تبدیل ہو چکا ہے، اور ہمیں اس کے خلاف اسی طرح جدوجہد کرنی چاہیے جس طرح ہم امریکی یا یورپی سامراج کے خلاف کرتے ہیں۔
1949 میں چین میں ماؤ زے تنگ کی قیادت میں نیو ڈیموکریٹک انقلاب کامیاب ہوا، جس نے ایک نیم نوآبادیاتی اور نیم جاگیردارانہ معاشرے کو ختم کرتے ہوئے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ اس کامیابی کے بعد چین کی کمیونسٹ پارٹی نے سوشلسٹ معاشرے کی تعمیر کا بیڑا اٹھایا۔ ماؤ نے سوشلسٹ تعمیر و ترقی کے لیے ایک واضح پروگرام دیا جسے “تین سالہ تیاری” اور “دس سالہ منصوبہ بند اقتصادی تعمیر” کا نام دیا گیا۔ماؤ کی قیادت میں چین نے نجی ملکیت کا مکمل خاتمہ کیا۔ زراعت، صنعت، تجارت، دستکاری، اور دیگر پیداواری ذرائع کی نجی ملکیت کو ختم کرکے اجتماعی اور ریاستی ملکیت کو رائج کیا گیا۔ زرعی شعبے میں پورے ملک میں اجتماعی فارمز (communes) قائم کیے گئے، جن کی بنیاد پر کسانوں کی مشترکہ محنت سے پیداوار میں اضافہ کیا گیا اور فردِ واحد کی ملکیت کو ختم کیا گیا۔ 1956 تک سوشلسٹ معیشت بنیادی طور پر قائم ہو چکی تھی، اور چین ایک حقیقی سوشلسٹ ریاست میں تبدیل ہو گیا تھا۔
ماؤ زے تنگ نے چین کو بیرونی قرضوں اور سامراجی نظام سے مکمل طور پر آزاد رکھنے پر زور دیا۔ خود انحصاری کی پالیسی کے تحت، “گریٹ لیپ فارورڈ” (Great Leap Forward) اور “گریب ریولوشن، پروموٹ پروڈکشن” (Grasp Revolution, Promote Production) جیسے بڑے اقدامات کیے گئے۔ ان پالیسیوں کا مقصد تھا کہ چین زرعی اور صنعتی میدانوں میں بیک وقت ترقی کرے، یعنی “دو ٹانگوں پر چلنا”۔ اس ترقی کا دارومدار مقامی ٹیکنالوجی، سائنسی تجربات، اور کسان و مزدور کی خودمختار محنت پر تھا۔ اس وقت نہ صرف صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوا بلکہ روزگار کی مکمل ضمانت دی گئی، بیروزگاری کا خاتمہ کیا گیا، اور عام عوام کو تعلیم، صحت، اور ثقافت تک رسائی حاصل ہوئی۔سن 1966 میں ماؤ نے عظیم ثقافتی انقلاب (Great Proletarian Cultural Revolution) کا آغاز کیا۔ اس انقلاب کا مقصد تھا سوشلسٹ سماج میں موجود بورژوا عناصر، یعنی “سرمایہ دارانہ راستے کے مسافر” (capitalist roaders)، کو بے نقاب کرنا اور انہیں عوامی طاقت کے ذریعے شکست دینا۔ اس دوران چین میں نہ صرف انقلابی کلچر کو فروغ ملا بلکہ فیکٹریوں، اسکولوں، ہسپتالوں، اور حکومتی اداروں میں مزدور، کسان، عورتیں، نوجوان، اور طلبہ عوامی کمیٹیوں کے ذریعے فیصلہ سازی میں شامل ہوئے۔ اس عمل نے سرمایہ دارانہ بحالی کو دس سال تک روکے رکھا۔تاہم، انقلابی کوششوں کے باوجود سماج میں چند بنیادی تضادات اپنی جگہ موجود رہے جیسے جسمانی و ذہنی محنت کا فرق، شہر اور دیہات کی ناہمواری، زراعت و صنعت کے درمیان خلیج، مرد و عورت کی برابری کا سوال، اور مختلف قومیتوں و علاقوں میں تفاوت۔ یہ تمام تضادات سوشلسٹ سماج کی داخلی پیچیدگیوں کی نشان دہی کرتے ہیں، اور ان کا وجود سرمایہ داری کی واپسی کا ایک ممکنہ راستہ بھی بن سکتا تھا۔ ماؤ بارہا اس بات پر زور دیتے رہے کہ سوشلسٹ سماج میں طبقاتی جدوجہد ختم نہیں ہوتی بلکہ اسے جاری رکھنا ضروری ہے تاکہ کسی نئی بورژوا طبقہ کو ابھرنے کا موقع نہ ملے۔
مگر ماؤ کی وفات کے بعد پارٹی میں موجود رد انقلابی عناصر خصوصاً دنگ شیاوپنگ، ہوا گو فنگ، لی شاؤچی اور دیگر نے دوبارہ طاقت حاصل کر لی۔ انہوں نے نہ صرف ثقافتی انقلاب کے نتائج کو پلٹ دیا بلکہ پیداواری قوتوں کے نظریہ جیسے رویژنزم کے پردے میں سوشلسٹ ریاست کو ایک سرمایہ دارانہ ریاست میں تبدیل کر دیا۔ دنگ شیاوپنگ کی قیادت میں اصلاحات کے نام پر جو پالیسیاں اپنائی گئیں، وہ درحقیقت سرمایہ داری کی بحالی تھیں۔چین میں سرمایہ دارانہ بحالی ایک نئے انداز کی سرمایہ داری تھی۔ یہ روایتی بورژوا انقلابات جیسی نہیں تھی بلکہ ایک سوشلسٹ ریاست کے اندر سے ہی اقتدار پر قبضہ کرکے نئے طرز کی ریاستی اجارہ دار سرمایہ داری (state monopoly capitalism) کو جنم دیا گیا۔ چونکہ سوشلسٹ مرحلہ بذات خود ایک عبوری مرحلہ ہے سرمایہ داری سے کمیونزم کی طرف لہٰذا اس میں پرانے سرمایہ دارانہ عناصر کے پنپنے کا امکان موجود رہتا ہے۔ ان عناصر نے ہی انقلاب کی کامیابیوں کو شکست میں بدلا اور چین کو ایک نیا سامراجی طاقت بنا دیا۔
ماؤ زے تنگ کی وفات کے بعد چین کے اندر انقلابی تحریک کو ایک شدید دھچکا پہنچا۔ ماؤ کی جدوجہد اور عظیم ثقافتی انقلاب کے ذریعے سرمایہ دارانہ رجحانات پر جو ضرب لگائی گئی تھی، وہ وقتی طور پر تو کامیاب رہی، لیکن پارٹی کے اندر موجود رد انقلابی عناصر خاص طور پر ہوا گو فنگ اور دنگ شیاوپنگ نے ماؤ کی وفات کے فوراً بعد اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے “اصلاحات” اور “کھلے پن” (reform and opening up) کے خوبصورت نعروں کی آڑ میں سوشلسٹ ریاست کی بنیادوں کو منہدم کر دیا اور سرمایہ دارانہ راستے پر قدم جما دیے۔سب سے پہلے انہوں نے زرعی کمیونز (communes) کو توڑا، جو سوشلسٹ زراعت کا بنیادی ستون تھیں۔ زمین کی اجتماعی ملکیت کو ختم کر کے انفرادی کاشتکاری کو دوبارہ متعارف کرایا گیا، اور یوں کسانوں کو ایک بار پھر ذاتی زمین کا مالک بننے کا موقع ملا۔ یہ عمل سوشلسٹ نظریہ کے بالکل برعکس تھا کیونکہ اس سے طبقاتی فرق اور زمین کی غیر مساوی تقسیم کو فروغ ملا۔ اسی کے ساتھ زرعی مصنوعات کی آزاد منڈی میں فروخت کی اجازت دی گئی، جس سے کسان منڈی کے اتار چڑھاؤ کے رحم و کرم پر آ گئے۔ان “اصلاحات” کے نام پر معیشت میں سرمایہ دارانہ رجحانات کو فروغ ملا، نجی ملکیت اور منافع کو ایک بار پھر جائز قرار دیا گیا، اور “چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم” (Socialism with Chinese Characteristics) کا مفہوم دراصل ایک ریاستی اجارہ دار سرمایہ داری (state monopoly capitalism) کی صورت میں سامنے آیا، جس کا اصل مقصد سرمایہ داری کی بحالی تھا۔1978 میں ڈینگ ژیاؤپنگ کی قیادت میں چین نے جس “اصلاحات اور کھلے پن” (Reform and Opening Up) کی پالیسی کا آغاز کیا، اس نے درحقیقت ملک کو سوشلسٹ راستے سے ہٹا کر سرمایہ دارانہ ڈھانچے کی طرف موڑنا شروع کر دیا۔ اس پہلے مرحلے میں، سب سے بنیادی تبدیلی زراعت کے شعبے میں کی گئی، جہاں اجتماعی ملکیت اور کمیون پیسہ داری کو ختم کرتے ہوئے “ہاؤس ہولڈ رسپانسبلٹی سسٹم” یا کنٹریکٹ سسٹم متعارف کرایا گیا۔ اس کے تحت زمین کی ملکیت ریاست کے پاس ہی رہی، لیکن اس کا استعمال انفرادی کسانوں کو ٹھیکے پر دیا گیا، جس سے اجتماعی محنت کی بنیاد پر قائم پیداواری نظام منہدم ہو گیا اور مارکیٹ پر مبنی نجی مفاد کی بنیاد رکھی گئی۔
ساتھ ہی، چین نے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کرنا شروع کیے۔ پہلے مرحلے میں چین نے مغربی طاقتوں اور جاپان کے ساتھ تجارتی و سفارتی تعلقات کو وسعت دی، اور بعد ازاں International Monetary Fund (IMF) اور World Bank جیسے سامراجی مالیاتی اداروں کی رکنیت اختیار کی، جن کے بنیادی اصول سرمایہ دارانہ اصلاحات، نجکاری، اور آزاد منڈی کی معیشت پر مبنی ہیں۔ان اصلاحات کے تحت نجی کاروبار کو قانونی حیثیت دی گئی، جس کے نتیجے میں ایک نیا ابھرتا ہوا بورژوا طبقہ سامنے آیا، جو ریاستی سرپرستی میں دولت اور اختیارات حاصل کرنے لگا۔ سرمایہ دارانہ ترقی کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کو خوش آمدید کہا گیا، جس کے لیے خصوصی اقتصادی زونز (Special Economic Zones – SEZs) قائم کیے گئے۔ ان زونز میں مزدور قوانین کو نرم، ماحولیاتی ضوابط کو محدود، اور ٹیکس میں چھوٹ دے کر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ترغیب دی گئی۔ان پالیسیوں کا ایک بڑا سماجی نتیجہ یہ نکلا کہ لاکھوں دیہی کسان اپنی زمینوں سے محروم ہو کر بے روزگار ہو گئے اور انہیں شہروں میں سستے مزدور کے طور پر روزگار تلاش کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ مزدور طبقہ، جسے “فلوٹنگ پاپولیشن” بھی کہا جاتا ہے، چین کے صنعتی مراکز میں انتہائی کم اجرتوں اور خراب حالات کار کے تحت محنت کرتا رہا، جس سے سرمایہ دار طبقے کو زبردست منافع حاصل ہوا۔اس پورے عمل کو “سوشلسٹ تعمیر” کا نام دے کر عوام کو یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ یہ اقدامات معاشی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے ہیں، لیکن حقیقت یہ تھی کہ چین بتدریج سرمایہ دارانہ نظام میں ضم ہو رہا تھا۔ پرانی سوشلسٹ ریاست کی ظاہری علامات کو برقرار رکھتے ہوئے، اندرونی طور پر سرمایہ دارانہ رشتے مضبوط کیے جا رہے تھے، جن کا مقصد ریاستی کنٹرول میں ایک نیا قومی سرمایہ دار طبقہ پیدا کرنا اور اسے عالمی سرمایہ دار نظام میں ایک مضبوط شراکت دار بنانا تھا۔
1992 میں ڈینگ شیاوپنگ کے جنوبی چین کے مشہور دورے نے چینی معیشت میں سرمایہ دارانہ اصلاحات کے دوسرے اور فیصلہ کن مرحلے کی راہ ہموار کی۔ اس دورے میں ڈینگ نے سرمایہ دارانہ طرز کی پالیسیوں کو کھلے عام سراہا اور اشارہ دیا کہ چین کو “ترقی” کے راستے پر چلنے کے لیے اپنی معیشت کو عالمی منڈی کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ریاستی پالیسیوں میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کی گئیں جن کا مقصد نجی سرمائے، غیر ملکی سرمایہ کاری، اور برآمدی پیداوار کو مرکزی حیثیت دینا تھا۔
اس مرحلے میں سب سے نمایاں اقدام ریاستی اداروں، یعنی State-Owned Enterprises (SOEs) کی بڑے پیمانے پر نجکاری یا کارپوریٹائزیشن تھا۔ کئی اداروں کو مکمل طور پر فروخت کر دیا گیا، جبکہ دیگر کو مشترکہ اسٹاک کمپنیوں میں تبدیل کیا گیا جن میں نجی سرمایہ داروں کو حصے دار بنایا گیا۔ اس تبدیلی کا مقصد ان اداروں کو منافع بخش بنانا تھا، مگر اس کے نتیجے میں لاکھوں محنت کش اپنے روزگار سے محروم ہو گئے۔اسی عرصے میں چین نے بڑی بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری، یعنی Joint Ventures کا آغاز کیا۔ یہ جوائنٹ وینچرز بالخصوص ٹیکسٹائل، الیکٹرانکس، کھلونوں اور دیگر برآمدی صنعتوں میں قائم کیے گئے۔ غیر ملکی سرمایہ اور ٹیکنالوجی کے بدلے میں چینی ریاست نے مقامی مزدوروں کو انتہائی کم اجرت پر دستیاب کروایا، جس سے سرمایہ داروں کے لیے چین ایک پرکشش مرکز بن گیا۔
چین میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کا گویا سیلاب آ گیا۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے خصوصی اقتصادی زونز، برآمدی صنعتوں، اور شہری مراکز میں اپنی سرمایہ کاری کو وسعت دی۔ ریاست نے ان کے لیے مراعات، ٹیکس چھوٹ، اور سستے خام مال و مزدوری کی سہولیات فراہم کیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چین تیزی سے “دنیا کی فیکٹری” میں تبدیل ہونے لگا۔اس نئی معیشت کی تشکیل میں ایک اور بنیادی تبدیلی یہ تھی کہ روزگار کی زندگی بھر کی ضمانت، جو سوشلسٹ نظام کی ایک علامت تھی، ختم کر دی گئی۔ اس کی جگہ کنٹریکٹ سسٹم نافذ کیا گیا، جہاں محنت کشوں کو عارضی، کم تنخواہ اور غیر یقینی ملازمتوں میں رکھا جانے لگا۔ اجرت کا نظام بھی تبدیل ہو کر پیِس ریٹ یعنی پیداوار کی مقدار پر مبنی معاوضے میں بدل گیا، جس سے محنت کشوں پر زیادہ پیداوار کا دباؤ بڑھ گیا مگر ان کی فلاح و تحفظ کم ہوتا گیا۔
ان تمام پالیسیوں کا مجموعی نتیجہ یہ نکلا کہ لاکھوں مزدور، جو پہلے ریاستی فیکٹریوں میں برسرِ روزگار تھے، بے دخل کر دیے گئے۔ ان میں سے کئی افراد بے روزگار ہو گئے یا پھر غیر رسمی شعبے اور کچی آبادیوں میں منتقل ہو گئے، جہاں غربت، غیر یقینی اور محنت کا استحصال ان کا مقدر بن گیا۔سرمایہ دارانہ اصلاحات کے اس دوسرے مرحلے نے چینی معاشرے میں طبقاتی خلیج کو خطرناک حد تک وسیع کر دیا۔ شہروں اور دیہات کے درمیان فرق بڑھنے لگا، کیونکہ شہری علاقوں میں سرمایہ کاری اور ترقی کی رفتار تیز تھی، جبکہ دیہی علاقوں کو مسلسل نظرانداز کیا گیا۔ امیر اور غریب کے درمیان تفاوت، دولت اور مواقع کی نابرابری میں تبدیل ہو گئی۔ مزدوروں اور مینیجروں، یعنی محنت کرنے والوں اور حکم دینے والوں کے درمیان تضاد پہلے سے کہیں زیادہ گہرا اور نمایاں ہو گیا۔یہ سب کچھ “سوشلسٹ مارکیٹ اکانومی” کے نام پر کیا گیا، مگر اصل میں چین اب ایک نئی قسم کے ریاستی سرمایہ داری کی طرف بڑھ رہا تھا، جہاں “سوشلسٹ” ریاست اب خود ایک سرمایہ دار کے طور پر کام کر رہی تھی، اور مزدور محض سستے خام مال کی طرح استعمال ہو رہے تھے۔
چین میں جب 1980 کی دہائی میں سرمایہ دارانہ اصلاحات کا آغاز ہوا، تو یہ عمل محض معاشی نوعیت کا نہیں تھا بلکہ اس کے سماجی و سیاسی اثرات بھی نہایت گہرے تھے۔ جیسے جیسے ریاستی ادارے نجی ہاتھوں میں دیے جا رہے تھے، کرپشن، بے روزگاری، مہنگائی، اور عدم مساوات میں شدید اضافہ ہونے لگا۔ اس کے خلاف محنت کش طبقہ، کسانوں، اور خصوصاً طلبہ کی جانب سے مختلف مراحل میں مزاحمت دیکھنے میں آئی۔ ان میں سب سے بڑا اور فیصلہ کن واقعہ 1989 کا تیانانمن اسکوائر قتل عام تھا، جو آج بھی دنیا بھر میں عوامی تحریکوں اور ریاستی جبر کے درمیان کشمکش کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
1989 میں ہزاروں طلبہ، محنت کش، اور عام شہری بیجنگ کے تیانانمن اسکوائر پر جمع ہوئے۔ ان کا مطالبہ محض معاشی ریلیف تک محدود نہیں تھا، بلکہ وہ سیاسی جمہوریت، سماجی انصاف، آزادیِ اظہار، اور کرپٹ ریاستی اشرافیہ کے خلاف ایک انقلابی موقف اختیار کر چکے تھے۔ یہ مظاہرے دراصل اس ریاستی ماڈل کے خلاف ایک وسیع پیمانے پر عوامی انکار (popular rejection) تھے جو “سوشلسٹ” ہونے کے دعوے کے باوجود سرمایہ دارانہ ڈھانچے کو نافذ کر رہا تھا۔
ریاست نے ان مظاہروں کو ایک حقیقی سیاسی چیلنج سمجھا اور اس کا جواب بے رحمانہ طاقت کے استعمال سے دیا۔ 3 اور 4 جون 1989 کی درمیانی رات، چینی فوج نے ٹینکوں اور مشین گنوں کے ساتھ نہتے مظاہرین پر حملہ کیا۔ ہزاروں افراد کو گولیوں سے بھون دیا گیا، بہت سے گرفتار ہوئے، اور کئی آج تک لاپتہ ہیں۔ یہ قتلِ عام اس بات کی کھلی علامت تھا کہ سرمایہ دارانہ راستے پر گامزن سوشلسٹ ریاست جب اپنے ہی عوام کی طرف سے احتساب اور انصاف کے مطالبے کا سامنا کرتی ہے، تو وہ محض سرمایہ دار نہیں بلکہ فاشسٹ کردار اختیار کر لیتی ہے۔
تیانانمن اسکوائر کا قتل عام یہ بتاتا ہے کہ سرمایہ دارانہ اصلاحات کا دفاع صرف معاشی استحکام کے نام پر نہیں کیا جاتا بلکہ جبر، تشدد، سنسرشپ، اور ریاستی دہشت کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ایک ریاست جو سوشلسٹ ہونے کی دعوے دار ہو، جب اپنے ہی عوام کو گولیوں سے جواب دیتی ہے، تو وہ اپنی سیاسی فطرت کو واضح کر دیتی ہے — کہ اس کی بنیاد اب مزدوروں کی طاقت پر نہیں بلکہ سرمایہ، منڈی، اور فوجی طاقت پر ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف چین بلکہ دنیا بھر کے انقلابیوں اور سوشلسٹ تحریکوں کے لیے ایک تاریخی سبق ہے کہ بغیر عوامی اختیار کے کوئی بھی “اصلاح” دراصل ردِ انقلاب (counter-revolution) ہوتی ہے، اور جو ریاست اس راستے پر چلتی ہے، وہ جلد یا بدیر اپنے عوام کی دشمن بن جاتی ہے۔1976 میں ماؤ زے تنگ کی وفات کے بعد چین میں جب سرمایہ دارانہ نظام کی بحالی کا عمل باضابطہ طور پر شروع ہوا، تو اس کے نتائج جلد ہی معاشی میدان میں نمایاں ہونے لگے۔ 1990 کی دہائی سے 2010 کے عشرے تک چین نے عالمی سطح پر ایک برق رفتار اور حیران کن ترقی کرتی ہوئی معیشت کے طور پر خود کو منوایا۔ یہ ترقی کسی اتفاقی یا فطری عمل کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی، ریاستی پالیسیوں اور سرمایہ دارانہ اصلاحات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔ اس پورے اقتصادی ابھار کی بنیاد تین مرکزی ستونوں پر رکھی گئی: ریاستی سرمایہ (State Capital)، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI)، اور برآمدات (Exports)۔
سب سے پہلے، ریاستی سرمایہ داری کے ماڈل کو فروغ دیا گیا۔ چین کی حکومت نے نہ صرف بڑے ریاستی اداروں کو باقی رکھا، بلکہ ان اداروں کو منافع بخش کاروباری اداروں میں تبدیل کیا جنہیں عالمی منڈی کے اصولوں پر چلایا جانے لگا۔ ان ریاستی اداروں کو “کارپوریٹائز” کیا گیا، یعنی انہیں نجی کمپنیوں کی طرح تنظیمی ڈھانچہ، مینجمنٹ اور مالیاتی منافع کے اصولوں کے تحت ڈھالا گیا۔ اس عمل کے تحت ریاست نے اپنے سرمائے کو عالمی سرمایہ دار طبقے کے ساتھ جوائنٹ وینچر کی شکل میں منسلک کیا، اور ملکی معیشت کو عالمی منڈی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ چین سرمایہ دار دنیا کے لیے ایک نفع بخش اور محفوظ سرمایہ کاری کا مرکز بنتا چلا گیا۔
دوسرا بڑا ستون براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری تھا۔ چین نے خصوصی اقتصادی زونز (Special Economic Zones) کے قیام کے ذریعے بین الاقوامی سرمایہ کو راغب کیا۔ ان زونز میں غیر ملکی کمپنیوں کو ٹیکس چھوٹ، سستی لیبر، زمینی رعایات، اور جدید انفرااسٹرکچر جیسی مراعات دی گئیں۔ ان پالیسیوں کا مقصد سرمایہ کاروں کے لیے چین کو ایک پرکشش منزل بنانا تھا، اور نتیجتاً ہزاروں ملٹی نیشنل کمپنیاں چین کا رُخ کرنے لگیں۔ یہ کمپنیاں چین کی سستی مزدوری اور ریاستی تعاون سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پیداوار میں مصروف ہو گئیں، جس سے چین عالمی معیشت میں ایک “فیکٹری ملک” (Factory of the World) بن گیا۔
تیسرا اور کلیدی ستون برآمدات تھیں۔ چین نے برآمدی صنعتوں کو ریاستی سطح پر مکمل تعاون، سبسڈی، اور سرمایہ مہیا کیا۔ ان صنعتوں نے بڑی تعداد میں صارفین کی مصنوعات تیار کیں جن میں موبائل فونز، کمپیوٹرز، ٹیلی ویژن، فریج، واشنگ مشینیں، اور دیگر الیکٹرانک اشیاء شامل تھیں۔ 2010 تک چین دنیا کے کل صارفین الیکٹرانکس کا 30 سے 50 فیصد پیدا کرنے والا ملک بن چکا تھا۔ اس قدر بڑی اور مربوط پیداوار نے چین کو عالمی برآمدی منڈی کا سب سے بڑا کھلاڑی بنا دیا۔
ان تین ستونوں پر کھڑی اس نئی چینی معیشت نے 2011 تک چین کو دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بنا دیا۔ صنعتی پیداوار کے میدان میں چین امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے بڑی صنعتی طاقت بن چکا تھا۔ ایک صدی سے زائد عرصے سے امریکہ جس نے صنعتی پیداوار میں اجارہ داری قائم کر رکھی تھی، اب چین کے مقابلے میں کمزور ہوتا جا رہا تھا۔
یہ ترقی صرف اندرونی پالیسیوں اور ریاستی سرمائے پر منحصر نہ تھی، بلکہ ایک مرحلے پر چین نے خود کو عالمی قرض دہندہ (net lender) کے طور پر منوایا۔ امریکہ اور یورپی یونین جیسے ممالک جب 2008 کے مالیاتی بحران میں پھنسے ہوئے تھے، چین کے پاس دنیا کے سب سے بڑے زرِ مبادلہ کے ذخائر موجود تھے۔ چین نے ان ممالک کو قرض دینا شروع کیا، اور ایک ایسی طاقت کے طور پر ابھرا جو اب خود عالمی مالیاتی نظام پر اثرانداز ہو سکتی تھی۔
یہ تمام حقائق اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ چین محض ایک ترقی پذیر ملک کی سطح پر نہیں رکا بلکہ وہ خود ایک نئی سامراجی طاقت(Social-Imperialist Power) کے طور پر عالمی اسٹیج پر نمودار ہوا ہے۔ وہ اب نہ تو کسی مغربی سامراج کے سائے میں ہے، اور نہ ہی خود کو صرف اندرونی ترقی تک محدود رکھتا ہے۔ بلکہ وہ عالمی سطح پر سیاسی، معاشی اور عسکری اثرورسوخ کے لیے ان سامراجی طرز عمل کی پیروی کر رہا ہے جن کا مظاہرہ ہم امریکہ، یورپی یونین یا جاپان جیسے ممالک میں دیکھتے ہیں۔
1976 کے بعد کی اصلاحات کے نتیجے میں چین میں ایک ایسا نیا سرمایہ دار طبقہ پیدا ہوا جو صرف محنت کشوں کا استحصال ہی نہیں کرتا بلکہ ریاستی طاقت کا استعمال کر کے پوری معیشت پر غلبہ حاصل کرتا ہے۔ اس طبقے کے دو اہم حصے ہیں: بیوروکریٹک اجارہ دار سرمایہ دار طبقہ اور نجی اجارہ دار سرمایہ دار طبقہ۔ دونوں طبقے باہم مربوط ہو کر چین کے معاشی ڈھانچے پر قابض ہو چکے ہیں۔ ان کے درمیان نہ صرف مالی مفادات کی ہم آہنگی ہے بلکہ سیاسی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی بھی بہت گہری ہے۔چین میں جو ریاستی ادارے(SOEs) کبھی عوام کی ملکیت تصور کیے جاتے تھے، آج وہ مکمل طور پر سرمایہ دارانہ طرز پر کارپوریٹ ادارے بن چکے ہیں۔ یہ کمپنیاں منڈی کے اصولوں پر کام کرتی ہیں، منافع کو اولین ترجیح دیتی ہیں، اور مزدوروں کی فلاح و بہبود کو کم سے کم کرتی ہیں۔ ان ریاستی کمپنیوں کو ملٹی نیشنل کارپوریشنز (MNCs) کے طرز پر چلایا جا رہا ہے، جن کا مقصد صرف عالمی منڈی میں مقابلہ کر کے منافع حاصل کرنا ہے، نہ کہ عوامی ضروریات پوری کرنا۔اس اجارہ داری نظام کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2012 تک چین کی 121 کمپنیاں “فوربز گلوبل 2000“ کی فہرست میں شامل ہو چکی تھیں اور ان میں سے 3 کمپنیاں “فورچون گلوبل 500“ کی ٹاپ 10 کمپنیوں میں شامل تھیں۔ ان کمپنیوں میں سائنوپیک، چائنا نیشنل پیٹرولیم، اور اسٹیٹ گرڈ جیسی کمپنیاں شامل تھیں جو دنیا کے سب سے بڑے اجارہ دار اداروں میں سے ہیں۔ یہ کمپنیاں توانائی، مالیات، مواصلات، اور بنیادی ڈھانچے جیسے شعبوں میں راج کر رہی ہیں۔ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ چین کی برآمدات پر اب غیر ملکی MNCs کا غلبہ نہیں رہا۔ ابتدا میں FDI کے ذریعے غیر ملکی کمپنیاں چین کی برآمدات میں نمایاں حصہ رکھتی تھیں، لیکن وقت کے ساتھ چینی کمپنیاں جن میں نجی اور ریاستی دونوں شامل ہیں اس میدان میں آگے نکل گئیں۔ اب چین کی برآمدی منڈی پر مقامی کمپنیوں کا غلبہ ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ چین نہ صرف خود مختار سرمایہ دار طاقت بن چکا ہے بلکہ وہ اب عالمی منڈی پر اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس سارے عمل کے نتیجے میں چین میں ایک نیا سپر امیر سرمایہ دار طبقہ پیدا ہوا ہے، جس کی دولت اربوں ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ یہ “ریڈ کیپٹلسٹ” طبقہ یعنی وہ سرمایہ دار جو کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (CPC) کے رکن بھی ہیں سیاست، بیوروکریسی، اور تجارت کے گٹھ جوڑ سے ابھرا ہے۔ ان میں سے اکثر پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں کے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ CPC کی قیادت اور یہ نیا سرمایہ دار طبقہ اب معاشی و سیاسی طاقت کا مرکز بن چکے ہیں، اور ریاستی مشینری کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
چین میں سرمایہ دارانہ بحالی اور اجارہ دار سرمایہ دارانہ نظام کے استحکام کے ساتھ ساتھ ایک ایسا مرحلہ بھی آیا جب صنعتی سرمایہ اور بینک سرمایہ آپس میں ضم ہو گئے۔ یہ انضمام وہ بنیادی مرحلہ ہے جسے لینن نے سامراجیت کی معیشت کی کلیدی خصوصیت قرار دیا تھا۔ اس انضمام کے نتیجے میں جو نئی طاقت ابھری وہ مالیاتی سرمایہ (Finance Capital) کہلاتی ہے ایک ایسی طاقت جو پورے معیشتی ڈھانچے، پیداواری شعبے، مالیاتی اداروں، اور ریاستی پالیسیوں پر غالب آ جاتی ہے۔آج چین کی معیشت میں مالیاتی سرمایہ ایک فیصلہ کن قوت بن چکی ہے۔ بینکنگ سیکٹر پر ریاستی کنٹرول کے باوجود، وہ دراصل کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (CPC) کی اعلیٰ قیادت سے جڑے افراد اور اشرافیہ کے قبضے میں ہے۔ دنیا کے دس سب سے بڑے بینکوں میں سے چار بینک چینی ہیں، جیسے کہ:
- Industrial and Commercial Bank of China (ICBC)
- China Construction Bank
- Agricultural Bank of China
- Bank of China
یہ تمام بینک ایسے نہیں کہ صرف ریاستی ملکیت میں ہوں بلکہ انہیں سیاسی اشرافیہ، بیوروکریسی، اور کارپوریٹ طبقے کا گٹھ جوڑ چلاتا ہے۔ CPC کے اعلیٰ عہدیداران اور ان کے خاندان ان اداروں کو کنٹرول کرتے ہیں، ان میں سرمایہ لگاتے ہیں، اور ان کے ذریعے ملکی و بین الاقوامی مالیاتی پالیسیوں کو اپنی مرضی سے چلاتے ہیں۔یوں چین میں ایک بیوروکریٹک-سرمایہ دار اشرافیہ (Oligarchy) ابھر کر سامنے آ چکی ہے۔ یہ اشرافیہ نہ صرف مالیاتی سرمایہ پر قابض ہے بلکہ ریاستی طاقت کا بھی استعمال کرتی ہے۔ لینن کے مطابق، جب مالیاتی سرمایہ اور سیاسی طاقت مخصوص ہاتھوں میں مرکوز ہو جائے، تو وہ سامراجی اشرافیہ کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور یہی صورت حال آج کے چین میں پوری طرح موجود ہے۔
اس پورے عمل کا سب سے خطرناک اور تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ چینی کمیونسٹ پارٹی (CPC) کی وہ قیادت، جو آج بھی اپنے آپ کو “کمیونسٹ”، “سوشلسٹ”، اور “عوامی جمہوری” کہتی ہے، دراصل اب خود سرمایہ دار طبقے کا حصہ بن چکی ہے۔ آج پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور ریاستی مشینری کی صفوں سے ارب پتی سرمایہ دار جنم لے چکے ہیں، جن کے مفادات براہِ راست مزدور طبقے کے استحصال سے وابستہ ہیں۔ اس کی ایک واضح مثال ون جیا باؤ (Wen Jiabao) ہیں، جو ایک عرصے تک چین کے وزیرِاعظم رہے۔ ان کا خاندان اربوں ڈالر کی دولت کا مالک بن چکا ہے، جس کا انکشاف بین الاقوامی مالیاتی رپورٹس اور تحقیقاتی صحافت کے ذریعے ہو چکا ہے۔ صرف وہی نہیں، بلکہ پارٹی کے درجنوں دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے بیٹے، بیٹیاں، داماد، اور قریبی عزیز آج چین کی سب سے بڑی نجی اور نیم سرکاری کمپنیوں کے مالکان یا شیئر ہولڈرز ہیں۔یہ نئی اشرافیہ دراصل پارٹی اور ریاستی ڈھانچے کو بطور آلہ استعمال کر کے قومی وسائل، ریاستی بینکوں، سرمایہ کاری کے اداروں، اور سرکاری منصوبوں کو اپنے ذاتی و طبقاتی مفادات کے لیے استعمال کرتی ہے۔ یہ طبقہ مزدوروں کی محنت کو انتہائی کم اجرت پر خریدتا ہے، زرعی زمینوں کو ہتھیا کر انہیں مہنگے داموں بیچتا ہے یا صنعتی زونز میں منتقل کر کے بھاری منافع کماتا ہے، اور نجی و ریاستی گٹھ جوڑ کے ذریعے قومی معیشت پر قابض ہو چکا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ نئی چینی بورژوازی اب براہِ راست عالمی سرمایہ دار طاقتوں، جیسے امریکی یا یورپی کمپنیوں، بینکوں، اور مالیاتی اداروں کے ساتھ اتحاد کر کے عالمی منڈی میں غلبہ حاصل کرنے کے خواب بھی دیکھ رہی ہے۔اس پورے عمل کو محض سرمایہ دارانہ ارتقا کا نتیجہ کہہ دینا کافی نہیں ہوگا۔ اس کی اصل سنگینی اس بات میں ہے کہ یہ استحصال اور اجارہ داری اس لبادے میں چھپی ہوئی ہے جو سوشلسٹ نعروں، عوامی جمہوریت، اور “چینی خصوصیات کا سوشلزم” جیسے خوشنما مگر فریب دہ تصورات سے آراستہ کیا گیا ہے۔ جب کوئی سرمایہ دار ریاست کھلے عام خود کو سرمایہ دار کہتی ہے، تو اس کے خلاف عوامی بیداری نسبتاً آسان ہوتی ہے؛ مگر جب استحصال وہ ریاست کرے جو خود کو “عوام کی نمائندہ” اور “انقلاب کی وارث” قرار دیتی ہو، تو یہ استحصال کئی گنا زیادہ خطرناک، پائیدار اور ذہنی الجھاؤ پیدا کرنے والا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج چین کا سوشلسٹ لبادہ، اس کی اصل سرمایہ دارانہ و سامراجی فطرت کو چھپانے کا سب سے بڑا ہتھیار بن چکا ہے اور یہی چیز اسے عالمی مزدور تحریک کے لیے ایک پیچیدہ، مگر ناگزیر چیلنج بناتی ہے۔
چین کی معیشت نے جب ملکی سطح پر اپنی طاقت کو مستحکم کر لیا اور داخلی سطح پر صنعت، مالیاتی ادارے، اور اجارہ دار کاروباری ڈھانچے مستحکم ہو گئے، تو اگلا منطقی قدم عالمی سطح پر توسیع تھا یعنی وہی سامراجی حکمت عملی جسے لینن نے اپنی مشہور زمانہ کتاب “امپیریلزم: سرمایہ داری کا اعلیٰ مرحلہ“ میں بیان کیا تھا۔اس مرحلے پر چین نے صرف مصنوعات برآمد کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ وہ خود سرمایہ برآمد (export of capital) کرنے لگا جو کہ سامراجیت کی ایک بنیادی پہچان ہے۔ چین کی سرمایہ برآمد کی یہ پالیسی نہ صرف ریاستی سطح پر بلکہ چینی ملٹی نیشنل کمپنیوں، سرکاری بینکوں، اور مالیاتی اداروں کے ذریعے منظم انداز میں آگے بڑھائی گئی۔
چین سرمایہ برآمدی عمل کو دو بنیادی ذرائع سے آگے بڑھاتا ہے:
- براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI)
چین نے دنیا کے مختلف خطوں میں بڑی مقدار میں براہ راست سرمایہ کاری شروع کی خاص طور پر فیکٹریوں، توانائی کے منصوبوں، سڑکوں، بندرگاہوں، ریل نیٹ ورکس، اور دیگر بنیادی ڈھانچے (infrastructure) میں۔ ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کا مقصد صرف منافع کمانا نہیں بلکہ سیاسی اثرورسوخ اور جغرافیائی تسلط قائم کرنا بھی ہے۔ - وسائل، زمین، اور انفراسٹرکچر کا حصول
چین نے افریقہ، لاطینی امریکہ، اور ایشیا میں معدنیات، تیل، قدرتی گیس، زرعی زمین اور پانی کے ذخائر پر بڑے پیمانے پر قبضہ کیا۔ ان وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے چین نے میزبان حکومتوں کے ساتھ طویل المدتی معاہدے کیے، قرضے دیے، اور کئی بار براہِ راست زمین خریدی یا لیز پر لی۔ ان سرگرمیوں کا مقصد ان وسائل کو چینی صنعتوں کے لیے محفوظ کرنا اور مقامی معیشتوں کو چین کے مالیاتی جال میں جکڑنا ہے۔
چین کی یہ سامراجی سرگرمیاں صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی شکل میں دنیا کے کئی حصوں میں واضح نظر آتی ہیں,افریقہ میں چین نے کان کنی، تعمیرات، اور زراعت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہاں چینی کمپنیاں نہ صرف قدرتی وسائل پر قابض ہیں بلکہ سستے مزدوروں کا بے دریغ استحصال بھی کر رہی ہیں۔لاطینی امریکہ میں چین نے تیل، لوہا، اور دیگر وسائل کے شعبوں میں سرمایہ لگایا ہے اور کئی حکومتوں کو بڑے قرضے دیے ہیں جو چین کی شرائط پر لوٹے جاتے ہیں۔جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں چین کے بڑے انفراسٹرکچر منصوبے، جیسے بندرگاہیں، ریلوے، سڑکیں اور بجلی گھر، نہ صرف معیشت پر کنٹرول حاصل کرتے ہیں بلکہ جغرافیائی اثرورسوخ کو بھی وسیع کرتے ہیں۔
لینن نے کہا تھا کہ جب سرمایہ دارانہ نظام داخلی طور پر زائد سرمایہ پیدا کرتا ہے اور منافع کی شرح گرنے لگتی ہے، تو سرمایہ دار طبقہ بیرونی منڈیوں کی طرف رخ کرتا ہے۔ وہ سرمایہ کو برآمد کر کے نہ صرف بیرونی مزدوروں کا استحصال کرتا ہے بلکہ وہاں کے وسائل، ریاستی پالیسیاں، اور معیشت کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔چین کا موجودہ کردار اس تعریف پر پورا اترتا ہے۔ اب وہ ملک جو کبھی سامراجی طاقتوں کے خلاف عالمی انقلابی قوتوں کی علامت تھا، خود ایک ایسی طاقت میں بدل چکا ہے جو دنیا بھر کے محنت کشوں اور محکوم اقوام کا استحصال کر رہا ہے۔
چین نے حالیہ دہائیوں میں اپنے سامراجی مفادات کو فروغ دینے کے لیے کئی بین الاقوامی اقتصادی و فوجی بلاکس تشکیل دیے یا ان میں سرگرم شمولیت اختیار کی۔ BRICS، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO)، ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB) اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) جیسے پلیٹ فارمز چین کی سامراجی حکمت عملی کے مرکزی اوزار ہیں۔ ان بلاکس کا بنیادی مقصد نئے منڈیوں تک رسائی حاصل کرنا، قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا، اور جغرافیائی و سیاسی اثر و رسوخ قائم کرنا ہے۔چین، جو ماضی میں خود سامراجی قوتوں کا شکار رہا، اب نوآبادیاتی طرز پر اثراندازی کر رہا ہے۔ یہ وہی طرز عمل ہے جو ماضی میں امریکہ، یورپی یونین اور جاپان جیسے سامراجی ممالک نے اختیار کیا تھا۔ افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے غریب اور ترقی پذیر ممالک میں چین سرمایہ کاری، قرضے، انفراسٹرکچر منصوبوں اور فوجی تعاون کے ذریعے اپنا اثر بڑھا رہا ہے۔ دستاویز کے مطابق، یہ تمام اقدامات سوشلسٹ نعروں کی آڑ میں سامراجی مقاصد کا حصول ہیں۔بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ذریعے چین نہ صرف اقتصادی رسائی حاصل کر رہا ہے بلکہ میزبان ممالک کو قرضوں کے جال میں جکڑ کر ان کے وسائل اور خودمختاری پر قبضہ بھی جما رہا ہے۔ ایسے معاہدے، جو ابتدائی طور پر ترقی و تعاون کے نام پر کیے جاتے ہیں، درحقیقت چین کو عالمی سطح پر سوشلسٹ سامراجی طاقت بنانے کی سمت لے جا رہے ہیں۔شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اور BRICS جیسے پلیٹ فارمز چین کو علاقائی و عالمی طاقتوں کے ساتھ فوجی، اقتصادی اور سیاسی اتحاد قائم کرنے کا موقع دیتے ہیں، تاکہ وہ امریکی اور مغربی سامراج کا مقابلہ کر سکے لیکن نہ تو ان مقاصد میں عوامی فلاح مقصود ہے، نہ ہی سوشلسٹ اقدار کی پاسداری۔نتیجتاً، چین کا کردار محض ایک ترقی پذیر ملک سے آگے بڑھ کر ایک مکمل سامراجی قوت کے طور پر سامنے آیا ہے، جو عالمی سطح پر سرمایہ داری و استحصال کو فروغ دینے میں دیگر سامراجی طاقتوں کا مقابلہ اور بعض صورتوں میں ان سے بڑھ کر کردار ادا کر رہا ہے۔
چینی سوشل سامراجیت کی تعریف اور اس کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے “سوشل سامراجیت” کے مفہوم کو تاریخی اور نظریاتی سیاق و سباق میں دیکھنا ہوگا۔ سوشل سامراجیت ایک ایسی اصطلاح ہے جو اس ریاست کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو بظاہر خود کو سوشلسٹ کہتی ہے، مگر اس کے عملی اقدامات اور پالیسیز ایک خالص سامراجی ریاست سے مختلف نہیں ہوتے۔ اس ریاست کی سیاست، معیشت، خارجہ پالیسی اور عالمی کردار مکمل طور پر سامراجی ہوتا ہے، لیکن وہ اپنے آپ کو “سوشلسٹ” کے لیبل سے سجاتی ہے تاکہ دنیا کے عوام اور ترقی پذیر ممالک کو دھوکہ دیا جا سکے۔چین کی موجودہ حیثیت اسی زمرے میں آتی ہے۔ چین آج وہ ملک ہے جو رسمی طور پر کمیونسٹ پارٹی کی قیادت میں ہے اور اپنی خارجہ و داخلی پالیسیوں کو سوشلسٹ نعروں میں ملفوف رکھتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ چین کی ریاست ایک جدید سامراجی طاقت بن چکی ہے جس نے سرمایہ دارانہ اصولوں کو اپناتے ہوئے اجارہ داری سرمایہ داری، فائنانس کیپٹل، سرمایہ کی برآمد، مزدور طبقے کے بدترین استحصال، اور عالمی منڈیوں پر غلبے کو اپنی پالیسیوں کا مرکز بنا لیا ہے۔ چین آج اپنے اندر ایسی تمام خصوصیات رکھتا ہے جو لینن نے سامراجیت کی تعریف میں بیان کی تھیں۔چینی سوشلسٹ سامراجیت کا آغاز اس وقت ہوا جب ماؤزے تنگ کی وفات کے بعد ڈینگ شیاو پنگ اور ان کے ساتھیوں نے چین میں سرمایہ دارانہ اصلاحات کا آغاز کیا۔ انہوں نے “اصلاحات اور کھلنے کی پالیسی” کے نام پر اجتماعی زراعت کو ختم کیا، ریاستی صنعتوں کو منافع پر مبنی اداروں میں تبدیل کیا، مزدوروں کے حقوق محدود کیے، اور معیشت کو عالمی سرمایہ دار منڈی کے ساتھ جوڑ دیا۔ ان تمام اقدامات کے نتیجے میں چین میں سرمایہ داری نے قدم جما لیے اور ایک نئی ابھرتی ہوئی اجارہ دار سرمایہ دار طبقہ پیدا ہوا جو براہ راست چینی کمیونسٹ پارٹی کی صفوں سے نکلا۔چین اب نہ صرف دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے بلکہ وہ بڑے پیمانے پر بیرونی ممالک میں سرمایہ برآمد کر رہا ہے۔ چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ذریعے درجنوں ممالک کو قرضوں، انفراسٹرکچر کے معاہدوں اور مالی انحصار کے جال میں جکڑا ہے۔ یہ وہی طریقۂ کار ہے جو روایتی سامراجی طاقتیں، مثلاً امریکہ، برطانیہ اور فرانس استعمال کرتی رہی ہیں۔ چین بھی اب ان سامراجی طرز عمل کا مکمل حصہ بن چکا ہے۔ افریقہ، ایشیا، اور لاطینی امریکہ میں چینی سرمایہ کاری محض “ترقی” کے نام پر نہیں ہو رہی بلکہ ان کے پیچھے واضح سامراجی مفادات کارفرما ہیں: خام مال کا حصول، نئی منڈیوں پر قبضہ، اور جغرافیائی و سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ۔چین کے اندرونی حالات بھی اس کے سامراجی کردار کی تصدیق کرتے ہیں۔ مزدور طبقے، خاص طور پر دیہی علاقوں سے آنے والے مہاجر مزدوروں، کو نہایت کم اجرت پر، طویل اوقات میں، بغیر کسی بنیادی سہولت کے کام پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ان مزدوروں کو نہ سوشل سیکورٹی حاصل ہے، نہ تنظیم سازی کا حق۔ ان کا استحصال صرف ملکی سرمایہ دار ہی نہیں بلکہ وہ غیر ملکی کمپنیاں بھی کرتی ہیں جو چینی ریاست کے تعاون سے منافع کماتی ہیں۔ اس طریقے سے چین نے اپنے مزدوروں کی محنت کو سستا ترین ذریعہ پیداوار بنا کر عالمی منڈیوں پر غلبہ حاصل کیا ہے، اور یہ عمل کسی بھی سامراجی طاقت کی بنیادی خصوصیت ہے۔چین کا عالمی کردار صرف اقتصادی حد تک محدود نہیں، بلکہ وہ عسکری اور سیاسی میدانوں میں بھی سامراجی عزائم رکھتا ہے۔ وہ ان حکومتوں کی حمایت کرتا ہے جو اس کے سامراجی مفادات کو تحفظ دیتی ہیں، چاہے وہ حکومتیں آمرانہ ہوں، عوام دشمن ہوں یا انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کرتی ہوں۔ چین نے مختلف ممالک میں فوجی معاہدے کیے ہیں، ہتھیار فروخت کیے ہیں، اور کئی جگہوں پر اپنے اسٹریٹجک مفادات کے لیے مقامی حکومتوں کی سرپرستی کی ہے۔ یہ تمام اقدامات سرمایہ دارانہ منافع اور عالمی اثر و رسوخ کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں، نہ کہ کسی انقلابی یا سوشلسٹ مقصد کے لیے۔
جنگ، سامراجیت کی فطرت کا لازمی جزو ہے یہ کوئی حادثاتی یا وقتی رجحان نہیں، بلکہ خود سرمایہ دارانہ نظام کے ترقی یافتہ مرحلے، یعنی سامراجیت، کی ایک بنیادی خصوصیت ہے۔ ولادیمیر لینن نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف “سامراجیت: سرمایہ داری کا اعلیٰ مرحلہ“ میں واضح کیا تھا کہ سامراجی قوتیں اپنی منڈیوں، وسائل اور جغرافیائی اثر و رسوخ کے لیے نہ صرف مسلسل تصادم میں رہتی ہیں، بلکہ وہ باقاعدہ جنگوں کو جنم دیتی ہیں تاکہ دنیا کی ازسرنو تقسیم کی جا سکے۔اسی اصول کے مطابق آج چین کی ریاست، جو ایک سوشلسٹ لیبل کے ساتھ عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں سرایت کر چکی ہے، خود ایک سامراجی طاقت کے طور پر جنگی تیاریوں اور فوجی حکمت عملیوں میں مصروف ہے۔ چین، صرف اپنی داخلی استحکام یا دفاع کے لیے نہیں، بلکہ عالمی سطح پر غلبے، منڈیوں کے تحفظ، اور سامراجی مفادات کی وسعت کے لیے عسکری منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
دستاویز “چین ایک نیا سوشلسٹ سامراجی طاقت” کے مطابق، چین نے حالیہ دہائیوں میں نہ صرف اپنے فوجی بجٹ میں مسلسل اضافہ کیا بلکہ جدید ہتھیاروں، جنگی ٹیکنالوجی، میزائل ڈیفنس سسٹمز، نیول پاور، اور سائبر جنگی استعداد میں بھی زبردست ترقی کی ہے۔ چینی فوج پیپلز لبریشن آرمی (PLA) دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے، اور یہ نہ صرف سرحدی تحفظ بلکہ بحری راستوں، اسٹریٹیجک بندرگاہوں، اور بیرونی فوجی اڈوں کے قیام میں بھی مصروف ہے۔چین کی خارجہ پالیسی میں عسکری اتحادوں کا کردار بھی ابھرتا جا رہا ہے۔ وہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) جیسے فوجی-علاقائی بلاکس کا سرگرم رکن ہے، جس کا مقصد نہ صرف وسطی ایشیا میں سیاسی و عسکری اثر بڑھانا ہے، بلکہ امریکی و نیٹو اثرات کا مقابلہ بھی ہے۔ چین نے پاکستان، میانمار، ایران، اور افریقی ممالک کے ساتھ بھی ایسے معاہدے کیے ہیں جن میں اسلحہ کی فراہمی، فوجی مشقیں، اور اسٹریٹیجک تعاون شامل ہیں۔ ان تمام اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ چین ایک ایسی علاقائی اور عالمی عسکری طاقت کے طور پر خود کو منوائے، جو اپنے سامراجی مفادات کی تکمیل کے لیے ہر قسم کی جارحیت یا ٹکراؤ کے لیے تیار ہو۔یہ بات بھی واضح ہے کہ چین بین الاقوامی سطح پر جنگ کے ماحول سے فائدہ اٹھا کر اپنے تجارتی و جغرافیائی مقاصد حاصل کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، بحیرہ جنوبی چین میں چین نے کئی مصنوعی جزیرے تعمیر کیے ہیں اور ان پر فوجی اڈے قائم کیے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی اور عسکری تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ یہ وہی عمل ہے جو امریکہ نے خلیج فارس اور یورپ میں کیا یعنی اپنے تجارتی راستوں کے تحفظ کے نام پر دوسری ریاستوں کی خودمختاری کو چیلنج کرنا۔
دستاویز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سامراجیت خود ایک “بحران کا نظام” ہے وہ بحران پیدا کرتا ہے، اور ان بحرانوں کو جنگ کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ جنگیں کبھی براہِ راست ہوتی ہیں، کبھی پراکسی کے ذریعے۔ آج دنیا میں جتنی بھی مقامی جنگیں، خانہ جنگیاں، اور بغاوتیں ہیں ان میں یا تو امریکہ، روس یا چین جیسے سامراجی ممالک کا ہاتھ ہوتا ہے یا وہ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔چین کی سامراجی پالیسی یہ ظاہر کرتی ہے کہ جیسے جیسے اس کی اقتصادی قوت بڑھی، ویسے ویسے اس نے جنگ اور عسکری دباؤ کو اپنے سامراجی ایجنڈے کے لیے ایک آلہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔ وہ اب روایتی سوشلسٹ بین الاقوامیت، امن، اور غیر مداخلتی اصولوں کو پسِ پشت ڈال کر براہِ راست سامراجی کشمکش کا حصہ بن چکا ہے۔
اس تمام تر صورتحال سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جیسے لینن نے کہا تھا، “جنگ سامراجیت کی ناگزیر پیداوار ہے”، بالکل اسی طرح چین بھی اب سامراجی جنگوں، فوجی اتحادوں اور اسلحہ کی دوڑ کا ایک متحرک اور خطرناک کردار بن چکا ہے۔ لہٰذا، چین کی موجودہ ریاست نہ صرف اقتصادی سامراجیت میں ملوث ہے بلکہ وہ عسکری توسیع پسندی اور سامراجی جنگی سازشوں کا بھی فعال جزو ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے عالمی انقلابی تحریکوں کو سمجھنا، بے نقاب کرنا، اور اس کے خلاف عوام کو منظم کرنا لازم ہے۔
🔴 پاکستان میں چین کا سوشلسٹ سامراجی کردار
چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کو پاکستانی حکمران طبقہ اور چینی ریاست نے بظاہر “دوستی”، “ترقی” اور “علاقائی تعاون” کا پیکج قرار دیا، دراصل ایک سامراجی جال ہے جو پاکستان کے وسائل، زمین، محنت کش طبقے، اور خودمختاری کو اپنی گرفت میں لینے کا ایک منظم منصوبہ ہے۔ چین کی اجارہ دار کمپنیاں پاکستانی معیشت میں جس انداز سے داخل ہوئیں، وہ کسی بھی نوآبادیاتی قوت سے کم نہیں۔ گوادر پورٹ، جو پہلے ماہی گیروں اور مقامی بلوچ عوام کی زندگی کا مرکز تھی، آج چینی سرمائے کی گرفت میں ایک اسٹریٹیجک فوجی-تجارتی بیس بن چکی ہے۔ماﺅ نے کہا تھا“اگر سامراجیت کے خلاف مزاحمت نہ کی جائے تو وہ صرف لوٹتا ہی نہیں بلکہ ہماری روح بھی خرید لیتا ہے۔“
CPEC کے ذریعے یہی عمل ہو رہا ہے چین نہ صرف پاکستان کے قدرتی وسائل اور بندرگاہوں پر قبضہ کر رہا ہے، بلکہ قانون سازی، سیکورٹی پالیسی، اور معاشی ترجیحات کو بھی کنٹرول کر رہا ہے۔ چینی کمپنیوں کو ٹیکس سے استثنیٰ، لیبر قوانین سے آزادی، اور ریاستی فورسز کی پشت پناہی حاصل ہے، جو انہیں ہر قسم کی مقامی مزاحمت کو دبانے کا اختیار دیتی ہے۔پاکستان کو جن منصوبوں پر بھاری قرضے دیے جا رہے ہیں خصوصاً توانائی اور انفراسٹرکچر وہ حقیقی معاشی ترقی کے بجائے چینی سرمایہ داروں کے منافع کو یقینی بنانے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں۔ یہ قرضے اُس وقت ایک نوآبادیاتی شکنجے میں بدل جاتے ہیں جب ریاست انہیں واپس کرنے سے قاصر ہو جائے، اور چینی ادارے ان اثاثوں پر عملاً قبضہ کر لیتے ہیں۔ سری لنکا کے ہمبنٹوٹا بندرگاہ کی مثال ہمارے سامنے ہے وہی طرزِ عمل آج گوادر کے ساتھ دہرایا جا رہا ہے۔
لینن نے کہا تھا:“سامراجیت صرف ایک معاشی نظام نہیں بلکہ سیاسی تسلط اور فوجی بالادستی کا ایک مکمل نظام ہے۔“یہی نظام آج ہمیں پاکستان میں دکھائی دیتا ہے جہاں نہ صرف معیشت بلکہ مزدور طبقہ بھی چینی سامراجی قوت کا شکار بن رہا ہے۔ چینی کمپنیوں میں پاکستانی مزدوروں کو سستی اجرت، ناقص حفاظتی انتظامات، اور کسی قسم کی تنظیم سازی کے حق سے محرومرکھا جاتا ہے۔ گوادر، تھر اور دیگر صنعتی منصوبوں میں مزدوروں نے جب احتجاج کیا تو ان کے خلاف ریاستی جبر کا سہارا لیا گیا۔ یہ ماﺅکی اُس تعلیم کی نفی ہے جس میں وہ کہتے ہیں“عوام ہی تاریخ کا محرک ہیں، اور جب ریاست ان کے خلاف ہو جائے تو وہ ردِانقلاب کا آلہ بن جاتی ہے۔“چین کا کردار صرف معاشی استحصال تک محدود نہیں، بلکہ وہ پاکستان کو عسکری وابستگی میں بھی جکڑ رہا ہے۔ اسلحہ، ٹیکنالوجی، اور انٹیلیجنس کا تبادلہ، چین کے اسٹریٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے ہے، نہ کہ پاکستان کی آزادی یا عوامی تحفظ کے لیے۔ چین، پاکستان کو خطے میں اپنے سیاسی مخالفین بالخصوص بھارت کے خلاف ایک گماشتہ ریاست کے طور پر استعمال کرتا ہے، اور اس پورے عمل میں پاکستانی عوام صرف ایک “لاگت” کی حیثیت رکھتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ چینی ریاست نے ماﺅکے انقلابی ورثے سے غداری کی ہے۔ وہ آج بھی ماﺅ کی تصاویر، نعرے، اور علامتیں استعمال کرتی ہے، لیکن اس کے اقدامات ماﺅ ازم کی روح کے خلاف ہیں۔ ماﺅ نے “خود انحصاری” اور “عوامی جمہوریت” کی وکالت کی، جب کہ آج کا چین انحصار، سرمایہ برآمد، اور عالمی منڈیوں پر غلبے کا نیا ماڈل ہے اور یہی سوشلسٹ سامراجیت کی تعریف ہے۔ ماﺅ نے کہا“ہم سامراجیت کے خلاف صرف زبان سے نہیں، بلکہ عمل سے لڑیں گے؛ جو سامراجی قوتوں سے ہاتھ ملائے گا، وہ عوام کا غدار ہے۔“ آج کا چین اسی غداری کی اعلیٰ مثال ہے۔
پاکستان میں اس وقت چینی ریاست کی موجودہ کردار کے حوالے سے جو سیاسی و نظریاتی ابہام پایا جاتا ہے، اس کا سب سے افسوسناک اظہار بائیں بازو کے ان رجحانات میں ہوتا ہے جو خود کو مارکس وادی یا انقلابی کہتے ہیں، مگر عملاً چین کے نئے سامراجی کردار کے دفاع میں صف آرا ہو چکے ہیں۔ یہ چائنہ نواز لیفٹ، جو ماؤزے تنگ کے نام اور سرخ پرچم کا حوالہ دے کر اپنے آپ کو انقلابی ظاہر کرتی ہے، درحقیقت آج اس ریاست کا نظریاتی جواز فراہم کرنے میں مصروف ہے جو ماؤزے تنگ کی وفات کے بعد سرمایہ دارانہ راستے پر گامزن ہو چکی ہے۔ یہ عناصر چین کی ہر جارحانہ، مزدور دشمن، اور استحصالی پالیسی کو “امریکی پروپیگنڈے” کا نام دے کر مسترد کرتے ہیں، گویا خود طبقاتی تجزیہ ان کے نزدیک اب غیر ضروری ہو چکا ہے، اور بس چین کی سامراجی توسیع پسندی کو سوشلسٹ ترقی کا نام دے کر خاموشی اختیار کرنا ہی ان کی “بین الاقوامی یکجہتی” ہے۔چین آج بلوچستان میں جو کچھ کر رہا ہے بندرگاہوں، زمینوں، معدنی وسائل، اور مقامی آبادی کی خودمختاری پر جو حملے کیے جا رہے ہیں وہ سامراجی قبضے کی کلاسیکی شکلیں ہیں۔ گوادر جیسے علاقوں میں چینی کمپنیاں جس طرح مقامی ماہی گیروں، کسانوں اور محنت کشوں کو ان کے وسائل اور روزگار سے محروم کر رہی ہیں، وہ چین کے سامراجی کردار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ وہ چین نہیں جو ماؤ کے دور میں زرعی اصلاحات، صنعتی قومیانے، اور سامراجی طاقتوں کے خلاف انقلابی مزاحمت کی علامت تھا؛ یہ وہ چین ہے جو آج اپنی معیشت کو عالمی منڈی کے منافع کے تابع کر چکا ہے، جہاں پارٹی قیادت ہی بڑی کاروباری اجارہ داریوں کی مالک ہے، اور جس کا بنیادی ہدف اب دنیا بھر میں اپنے اثر و رسوخ، قرضوں، منصوبوں، اور عسکری طاقت کے ذریعے غلبہ حاصل کرنا ہے۔ماؤزم ہمیں سکھاتا ہے کہ سامراج کی کوئی بھی شکل چاہے وہ پرانے نوآبادیاتی برطانوی سامراج کی ہو، جدید امریکی نیو لبرل ازم کی ہو، یا آج کے چینی ریاستی سرمایہ داری کی ہر صورت میں عوام دشمن اور مزدور دشمن ہوتی ہے۔ سامراج صرف عسکری حملے یا قبضے کے ذریعے نہیں ہوتا، بلکہ جب کوئی طاقت کسی ملک کے وسائل، زمینوں، یا لیبر فورس کو اپنے منافع کے لیے استعمال کرتی ہے، جب وہ مقامی حکومتوں کو قرضوں کے جال میں جکڑ کر فیصلے مسلط کرتی ہے، تو وہ سامراجی تسلط کی مکمل علامت بن جاتی ہے۔
لہٰذا پاکستان کے محنت کشوں، طلبہ، کسانوں، اور محکوم قوموں کو نہ صرف امریکی اور مغربی سامراج کے خلاف جدوجہد جاری رکھنی ہے بلکہ اس نئے سر اٹھاتے چینی سامراج کے خلاف بھی اسی شدت سے انقلابی مورچہ بندی کرنا ہوگی۔ یہ جدوجہد نہ صرف قومی آزادی کی ہے بلکہ طبقاتی آزادی کی بھی ہے۔ ہمیں سوشلسٹ نعروں کے نقاب میں چھپے سرمایہ دارانہ عزائم کو بے نقاب کرنا ہوگا، اور ایک ایسی انقلابی تحریک تعمیر کرنی ہوگی جو عالمی مزدور یکجہتی، حقیقی سوشلسٹ منصوبہ بندی، اور خود انحصاری پر مبنی ہو۔ پاکستان میں ایک نئے انقلابی پروگرام، کسان-محنت کش اتحاد، اور خودمختار عوامی اقتدار کے لیے جدوجہد کا آغاز وقت کی اولین ضرورت ہے۔ بصورتِ دیگر، ہم محض سامراجی طاقتوں کے درمیان ایک غلامی سے دوسری غلامی کی جانب سفر کرتے رہیں گے۔