National Students Federation

ریاستی بیانیہ اور وسائل کی طبقاتی لوٹ مار

پاکستان کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف شدید شکایات موجود ہیں

“بلوچستان کے گیس، سونا اور کوئلہ، پنجاب لے جا رہا ہے،
اندرون سندھ کی زمینیں، پانی اور محنت، کراچی اور لاہور  کے سرمایہ دار ہڑپ کر رہے ہیں،
جنوبی پنجاب محروم ہے کیونکہ تخت لاہور سارا بجٹ کھا گیا،
خیبرپختونخوا کے وسائل اور نوجوان جنگوں میں قربان ہو رہے ہیں، مگر فائدہ پنجاب کو ہورہا ہے۔”

یہ تمام شکایات کسی حد تک اپنی جگہ درست بھی ہو سکتی ہیں، مگر اگر ہم انہیں صرف علاقائی مظلومیت کے بیانیے تک محدود رکھیں، تو ہم خود کو ریاستی منصوبہ بندی کے ایک جال میں گرفتار پاتے ہیں۔پاکستان میں “قومی سوال” ہمیشہ سے ریاستی تسلط، سامراجی تقسیم، اور معاشی وسائل پر قبضے سے جڑا ہوا ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا کوئی منصفانہ ڈھانچہ نہیں بنایا گیا آئینی بالادستی کی جگہ فوجی بیوروکریٹک سرمایہ دارانہ اتحاد نے فیصلہ سازی پر قبضہ کیا اور وفاقی نظام کو صرف کاغذوں میں رکھا گیا، جبکہ مرکزیت اور ریاستی جبر کو بڑھاوا دیا گیا۔لیکن اس سارے عمل میں ایک بنیادی نکتہ اکثر نظر انداز ہوتا ہے”استحصال صرف “ایک قوم” کا “دوسری قوم” سے نہیں ہوتا   اصل استحصال “محنت کش طبقے” کا ہوتا ہے، ہر قوم میں، ہر علاقے میں۔

ماؤزے تنگ ہمیں خبردار کرتے ہیں”اگر تم سامراج کے خلاف جدوجہد کر رہے ہو، لیکن اپنے مقامی حکمران طبقے کے خلاف خاموش ہو — تو تم سامراج کی ہی ایک قسم ہو۔”

بعض حلقے دعویٰ کرتے ہیں کہ لاہور، کراچی، اسلام آباد جیسے “شہروں” میں ترقی ہو رہی ہے، جبکہ بلوچستان، جنوبی پنجاب، اندرون سندھ، اور خیبر پختونخوا محروم رہ گئے ہیں۔ مگر ماؤسٹ تجزیہ ہمیں سکھاتا ہے ترقی وہی ہے جو عوامی کنٹرول، عوامی فلاح، اور اجتماعی اختیار کے تحت ہو۔ٹیکس جو لاہور کے محنت کش عوام ادا کرتے ہیں، وہ نہ لاہور میں لگتا ہے، نہ جنوبی پنجاب میں وہ قرضوں کی ادائیگی، کرپٹ بیوروکریسی، فوجی بجٹ اور سامراجی قرض دہندگان کی نذر ہو جاتا ہے۔اسی طرح کراچی میں ترقی کا مطلب صرف ریئل اسٹیٹ مافیا کی سلطنت ہے، نہ کہ لیاری، کورنگی، یا ملیر کے نوجوانوں کے لیے بہتر تعلیم یا روزگار۔پاکستانی ریاست دراصل ایک داخلی نوآبادیاتی ریاست ہے  یعنی ایک ایسا ریاستی ڈھانچہ جس میں کچھ علاقے، طبقے، اور قومیں دوسرے علاقوں اور طبقات کے لیے خام مال، محنت، اور مارکیٹ فراہم کرنے کا ذریعہ بنائے جاتے ہیں۔

ماؤزے تنگ اور فرانتز فینن کی تھیوریز کے مطابق “سامراج صرف بیرونی نہیں ہوتا؛ بعض اوقات ایک ریاست کے اندر بھی طبقاتی سامراجکام کرتا ہے، جس میں شہری سرمایہ داری دیہی آبادی کو نوچتی ہے، اور مرکز پر قابض طبقہ حاشیوں کو جبر اور دھوکے سے زیر کرتا ہے۔”

پاکستان کا پورا جغرافیہ دراصل ایک داخلی سامراجی نظام کی لکیروں سے چُھپا ہوا ہے جہاں علاقائی تفریق، نسلی اختلاف، اور معاشی تقسیم کو بنیاد بنا کر ایک مرکزی ریاستی اشرافیہ نے تمام طبقات اور قومیتوں کو اپنے مفادات کی بھٹی میں جھونک رکھا ہے۔ دراصل پاکستانی ریاست ایک “کثیرالاقوام داخلی کالونی” ہے جس میں ہر خطے اور ہر قوم کو الگ الگ طریقوں سے لیکن ایک ہی مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے: سامراجی سرمائے کی پرورش اور مقامی حکمران طبقے کی اجارہ داری۔

بلوچستان میں زمین کے نیچے گیس، کوئلہ، سونا، تیل، اور ریئر ارتھ منرلز چھپے ہوئے ہیں   مگر زمین کے اوپر عوام کو نہ پینے کا صاف پانی میسر ہے،نہ تعلیم و صحت کا نظام ہے اور نہ ہی مقامی خودمختاری۔یہ علاقہ ملٹری چھاؤنیوں، سی پیک زونز، اور مائننگ کارپوریشنز کے حوالے کر دیا گیا ہے   جیسے برٹش نوآبادیات نے ہندوستانی علاقوں کو خام مال کے لیے استعمال کیا تھا۔

سندھ، خصوصاً اندرون سندھ، ایک ایسی مارکیٹ ہے جہاں جاگیرداروں کو زمین، نہری پانی، اور مقامی پولیس پر مکمل اختیار ہے،شوگر مافیا غریب کسانوں سے گنا خرید کر کروڑوں کماتا ہے مگر مزدور کو تنخواہ نہیں دیتا، انٹرنیشنل این جی اوز اور ڈونرز اس خطے کو “پسماندہ” کہہ کر سامراجی پروجیکٹ چلاتے ہیں اور مقامی وسائل کا عالمی مالیاتی نظام سے ربط قائم کرتے ہیں۔یہ سارا ماڈل دراصل استعمار + سرمایہ داری کا نیا چہرہ ہے۔

خیبرپختونخوا ایک طرف سامراجی جنگوں (افغانستان، دہشتگردی، ڈرون، داعش) کی فرنٹ لائن رہا ہے،دوسری طرف لاکھوں محنت کش(لوڈرز، سیکورٹی گارڈز، بیرون ملک مزدور) اسی خطے سے آتے ہیں مگر واپس صرف لاشیں اور غربت جاتی ہے،تیسری طرف یہ علاقہ نیشنلزم اور مذہبی دہشتگردی کے درمیان گھرا ہوا ہے، تاکہ یہاں کے نوجوانوں کو کبھی طبقاتی سیاست کی طرف نہ دیکھا جائے۔یہ خطہ گویا سامراجی مداخلت + ریاستی جبر + مزدوری کا خونچکاں تماشہ بن چکا ہے۔

پنجاب، خاص طور پر وسطی اور جنوبی پنجاب، کو ایک ورکشاپ بنا دیا گیا ہےجہاں لاکھوں فیکٹری ورکرز، زراعتی مزدور، اور ہنر مند محنت کش دن رات مشقت کرتے ہیں ،مگر ان کی پیدا کردہ دولت نہ ملتان میں رُکتی ہے، نہ ساہیوال میں، بلکہ چلی جاتی ہے اسلام آباد کے بیوروکریسی کے محلات میں،چین کے CPEC زونز میں،امریکہ کی دفاعی امداد میںاور لندن و دبئی کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں۔یعنی یہاں محنت کروائی جاتی ہے، مگر سرمایہ کا سفر بین الاقوامی مالیاتی نظام کی راہداریوں میں گم ہو جاتا ہے۔

جب عوام یہ سوال اٹھاتے ہیں گیس کیوں نہیں آ رہی؟روزگار کہاں گیا؟علاج مفت کیوں نہیں ہو رہا؟بجلی پانی اتنا مہنگا کیوں ہے؟تو ریاستی مشینری  جس میں میڈیا، مذہبی ادارے، سرکاری تعلیمی نظام، اور حتیٰ کہ کچھ ترقی پسند حلقے بھی شامل ہو چکے ہیں فوری طور پر ایک فریب پر مبنی بیانیہ ترتیب دیتی ہے”اصل مسئلہ یہ ہے کہ دوسری قوم، زبان، یا شہر تمہارا حق کھا رہا ہے — نہ کہ ریاست، نہ کہ سرمایہ دار، نہ کہ جاگیردار۔” جس سے محنت کش عوام کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کردیا جاتا ہے،طبقاتی جڑوں کو چھپاکر نسلی بنیادوں پر نفرت کو فروغ چڑھایا جاتا ہے۔اور ریاستی استحصالی ڈھانچے کو غیر مرئی کر دیتا ہے۔ماؤزے تنگ کے مطابق”اصل انقلاب وہی ہےجو عوام کو نہ صرف ظلم کا شعور دے بلکہ ان کے شعور کو اجتماعی طاقت میں ڈھال کر حکمران طبقات کا تختہ الٹ دے۔”

علاقائی محرومی کا حل صرف وفاق کی از سرِ نو تشکیل سے ممکن نہیں، بلکہ ریاست کی انقلابی تبدیلی سے ممکن ہے، وسائل کی منصفانہ تقسیم صرف صوبائی خودمختاری سے نہیں، بلکہ طبقاتی اقتدار (People’s Power) کے قیام سے ممکن ہے اور ظلم، جبر، بھوک، اور نفرت کا خاتمہ صرف بائیں بازو کی مصلحت پسندی سے نہیں، بلکہ ماؤسٹ انقلابی تحریک سے ہو سکتا ہے۔ہر وہ بیانیہ جو عوام کو تقسیم کرے، چاہے وہ قوم پرست ہو، ترقی پسند ہو، یا بائیں بازو کے بھیس میں ہو   وہ ریاستی بیانیہ ہے اور ہر وہ سیاست جو عوام کو جوڑ کر استحصالی نظام  کے خلاف منظم کرے   وہ انقلابی سیاست ہے۔

لہٰذا، اس صورت حال میں ہماری  تنظیموں کی انقلابی حکمتِ عملی درج ذیل نکات پر مبنی ہونی چاہیے:

  1. ہر قوم، زبان، اور علاقے کی مظلومیت کو تسلیم کریں — مگر اسے طبقاتی جدوجہد سے جوڑیں۔
  2. ریاستی بیانیے کو منہ توڑ نظریاتی اور سیاسی جواب دیں ، چاہے وہ لیفٹ کے لبادے میں ہو یا دائیں بازو کے۔
  3. تمام علاقوں کے محنت کشوں، طلبہ، کسانوں، خواتین، اور پسے ہوئے طبقوں کو ایک انقلابی محاذ میں منظم کریں۔
  4. سامراجی سرمایہ داری کے ہر مظہر  جیسے CPEC، IMF، NGO-ization، عسکری سرمایہ داری  کو بے نقاب کریں۔
  5. عوام کے سوالات کو ریاست کے سامنے واضح طبقاتی مطالبات کی شکل میں منظم کریں: مفت تعلیم، علاج، روزگار، خودمختاری، زمین، تنخواہ، پنشن، تحفظ۔

ہمیں انتخاب کرنا ہےتقسیم یا انقلابی اتحاد؟بیانیہ یا سچائی؟ریاست کی خدمت یا عوام کی رہائی؟

Scroll to Top