سرمایہ داری نے اپنے مادی ٹکراؤ، تاریخی تضادات اور جدلیاتی ارتقا کے ذریعے انسانی سماج کو ایک ایسی مستقل مقابلے کی بھٹی میں جھونک دیا ہے، جہاں ہر انسان دوسرے کے لیے ایک رکاوٹ، ایک حریف، اور اکثر اوقات ایک دشمن بن جاتا ہے۔ یہ نظام محض معیشت یا پیداوار کے طریقۂ کار تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے انسانی رشتوں، جذبات، اخلاقیات، علم، ثقافت اور یہاں تک کہ نظریاتی سیاست کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اس نظام میں کامیابی کی تعریف محض مادی برتری، طاقت، اور سرمایہ کے گرد گھومتی ہے۔ یہاں ایک کی کامیابی لازمًا دوسرے کی ناکامی پر منحصر ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ خوشحالی، بقا اور طاقت صرف محدود طبقوں کے لیے ممکن ہے، جب کہ باقی ماندہ عوام مسلسل محرومی، غیر یقینی، اور عدم تحفظ کے شکار رہتے ہیں۔ سرمایہ داری نہ صرف انسان کو اشیاء میں تبدیل کر دیتی ہے، بلکہ انسان کو دوسرے انسان کے مقابل کھڑا کر کے اسے مسابقت کی ایسی دوڑ میں دھکیل دیتی ہے جہاں جذبات، اصول، نظریات اور رشتے سب پچھلی صف میں چلے جاتے ہیں۔یہی بنیادی منڈیاتی نفسیات مقابلہ، کامیابی کی فردی دوڑ، اور بقا کی جنگ اب صرف معیشت تک محدود نہیں رہی۔ تعلیم، صحت، ثقافت، میڈیا، اور حتیٰ کہ سیاسی اور انقلابی تحریکیں بھی اب اسی منڈی کے اصولوں کے تحت کام کرنے پر مجبور ہیں۔ جدید مارکیٹ نہ صرف اشیاء کی گردش کا مرکز ہے بلکہ یہ خیالات، نعروں، اور نظریاتی بیانیوں کی بھی منڈی بن چکی ہے۔ ہر نئی سیاسی سوچ، ہر نئی انقلابی تحریک، اور ہر مزاحمتی آواز کو اسی بازار کی سفاک شرائط سے گزرنا پڑتا ہے۔
مارکیٹ کی فطرت میں یہ شامل ہے کہ وہ ہر نئی آواز کو دبانے کی کوشش کرے، خاص طور پر وہ آوازیں جو جمود کو توڑنے کی کوشش کریں۔ ایک نئی پراڈکٹ، خواہ وہ کتنی ہی معیاری، سستی یا نفع مند کیوں نہ ہو، جب تک وہ مارکیٹ کے طاقتور کھلاڑیوں کے مفادات سے ہم آہنگ نہ ہو، اسے مکمل مزاحمت، رکاوٹ اور حاشیے پر دھکیلنے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس منڈی میں وہی کامیاب ہوتا ہے جو یا تو خود طاقتور سرمایہ دارانہ قوتوں کا حصہ بن چکا ہو، یا پھر پرانے نظام سے سمجھوتہ کر لے، اس کی اخلاقیات اپنا لے، اور اپنی مزاحمت کو قابلِ فروخت “برانڈ” میں تبدیل کر دے۔یہی کچھ بائیں بازو کی سیاست کے ساتھ پاکستان میں ہوا ہے۔ بائیں بازو کی کئی تحریکیں، جو عوامی نجات، طبقاتی آزادی اور انقلابی تبدیلی کی بنیاد پر کھڑی ہوئیں، وقت کے ساتھ یا تو حاشیے پر چلی گئیں، یا پھر ان پر یہ دباؤ بڑھتا گیا کہ وہ بھی خود کو “برانڈ” کے طور پر پیش کریں، “پراجیکٹ” بنیں، اور “سیاسی مارکیٹ” کے اصولوں کے مطابق خود کو بیچنے کے قابل بنائیں۔ اس کے نتیجے میں وہ انقلابی جو کبھی سرمایہ داری کے خلاف صف آراء تھے، وہ آج خود اس نظام کی شاخوں پر بیٹھے اس کی شروعاتی اصطلاحات میں بات کر رہے ہیں۔ انیسویں صدی کے انقلابی خواب اور بیسویں صدی کی مزاحمتی تحریکیں جب اکیسویں صدی کے دہانے پر پہنچیں، تو سرمایہ داری نے اپنے نئے چہرے نیولبرل ازم کے ساتھ نہ صرف پیداواری رشتوں کو تبدیل کیا، بلکہ مزاحمت کی زبان، تنظیم اور خوابوں کو بھی اپنے تابع بنانے کی کوشش کی۔ نوے کی دہائی میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد عالمی سطح پر “تاریخ کے خاتمے” کا نعرہ بلند ہوا، اور نیولبرل ازم کو بطور “واحد ممکن نظام” کے پیش کیا گیا۔ یہ صرف ایک معاشی پالیسی نہیں تھی، بلکہ ایک نظریاتی، ثقافتی، اور سیاسی حملہ تھا جس کا پہلا نشانہ دنیا بھر کی بائیں بازو کی تحریکیں بنیں۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان تحریکوں کو منظم طریقے سے سبوتاژ کیا گیا۔ اس سبوتاژیشن کی شکل صرف ریاستی جبر، گرفتاریاں یا پابندیاں نہیں تھیں بلکہ کہیں زیادہ خطرناک شکل وہ تھی جو نرم قوت کے ذریعے لائی گئی: این جی اوائزیشن، دانشورانہ co-optation، اور معاشی استحکام کے خواب۔
مغربی ممالک نے انقلابی نظریات رکھنے والے متحرک کارکنوں کو ویزے، اسکالرشپ، تربیتی دورے، اور عالمی کانفرنسوں کے ذریعے “عالمی شہری” بننے کی ترغیب دی ایک ایسا عالمی شہری جو اب نہ طبقاتی جدوجہد کی بات کرتا ہے، نہ تنظیمی عمل میں جُڑتا ہے، اور نہ انقلاب کے لیے خطرہ بنتا ہے۔ ان کارکنوں کو باہر لے جا کر یا اندر ہی اندر “سماجی خدمت”، “ڈیموکریسی پروگرام”، اور “ہیومن رائٹس پراجیکٹس” کے نام پر ایسی نوکریاں دی گئیں جہاں وہ نظریاتی سیاست سے دور اور ریاستی و سرمایہ دارانہ نظام سے ہم آہنگ ہو جائیں۔ان میں سے کچھ نے بڑی خوشی سے اس راستے کو چُنا۔ کوٹھی بنگلے، تنخواہ دار زندگی، غیر سرکاری تنظیموں کی مراعات، اور غیر تصادم پر مبنی “سوشل ورک” نے انہیں نظریاتی وابستگیوں سے آزاد کر دیا۔ وہ جو کبھی انقلابی شاعری سن کر کانپ اٹھتے تھے، اب پروجیکٹ پروپوزل لکھنے میں مہارت حاصل کر چکے تھے۔ ان کی انقلابی لغت “capacity building”، “gender sensitization”، “youth engagement”،”advocacy campaigns”، اور “policy dialogues” جیسے اصطلاحات سے بھر چکی تھی۔جبکہ جو تھوڑے بہت بچے، وہ یا تو تنہائی، بدحالی اور مایوسی کا شکار ہوئے، یا پھر اسی نیولبرل فضا میں ایک نئی شکل میں نمودار ہوئے”بازاری لیفٹ” کی شکل میں۔ بازاری لیفٹ نہ صرف سیاسی مارکیٹ کے تقاضوں کو سمجھتی ہے، بلکہ اسی کے مطابق اپنی پوزیشن، نعروں، اور نظریاتی اظہار کو ڈھالتی ہے۔ ان کے جلسے “میڈیا فرینڈلی” ہوتے ہیں، ان کے نعرے “سیف” ہوتے ہیں، ان کے بیانیے “گرانٹ حاصل کرنے کے قابل” اور ان کی نظریاتی سرحدیں “ریاستی ریڈ لائنز” کے اندر رہتی ہیں۔یہی بازاری لیفٹ آج پاکستان میں “ترقی پسندوں” کے نام پر کام کر رہی ہے۔ ان کے لیے طبقاتی جدوجہد، انقلابی سیاست، یا مارکسی لیننسٹ تنظیمی ڈھانچے کی بات “آؤٹ ڈیٹڈ” ہو چکی ہے۔ اب اصل چیز “ویژوئل امپیکٹ” ہے، “سوشل میڈیا انگیجمنٹ” ہے، اور “نارمز” کے اندر رہتے ہوئے “بامعنی کام” کرنے کی دانشوری ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا بازاری لیفٹ کے اس “سماجی خدمت” کے ماڈل سے واقعی سماج بدل سکتا ہے؟ کیا وہ قوتیں جو کبھی مظلوموں کے لیے بندوق، قلم اور قربانی لے کر نکلتی تھیں، اب فنڈڈ سیمیناروں اور کیمروں کے سامنے بیٹھ کر بغاوت کے خواب دیکھ سکتی ہیں؟ یا پھر ہمیں ایک نئی انقلابی لیفٹ کی ضرورت ہے جو نہ صرف نیولبرل سرمایہ داری کی تہوں کو سمجھے، بلکہ اس کے خلاف ایک حقیقی، غیر بازاری، اور ناقابلِ خرید و فروخت مزاحمت کی بنیاد رکھ سکے؟اس صورت حال میں اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس سرمایہ دارانہ منڈی کی فضا میں کس طرح ایک حقیقی، ناقابلِ خرید و فروخت، نظریاتی اور انقلابی تحریک کی تعمیر کریں؟ ایک ایسی تحریک جو مارکیٹ کے اصولوں کو نہ صرف رد کرے بلکہ ان کے خلاف متبادل اخلاقیات، ثقافت اور تنظیم کو جنم دے۔
پاکستان میں “لبرل لیفٹ” سے اختلاف ممکن ہے، لیکن کم از کم اس دھارے کی کچھ فکری حدود، کچھ سیاسی اصول اور کسی نہ کسی سطح پر عوامی آزادیوں سے وابستگی کا اظہار موجود ہوتا ہے۔ لیکن “بازاری لیفٹ“ وہ مظہر ہے جو نہ کسی نظریے کا پابند ہے، نہ کسی اخلاقی ضابطے کا، اور نہ کسی تنظیمی اصول کا۔ ان کے لیے بایاں بازو محض ایک “برانڈ” ہے، ایک “پوزیشننگ اسٹریٹیجی”، جس کے ذریعے وہ سیاسی منڈی میں اپنی جگہ بناتے ہیں۔ ان کی سیاست کا جوہر جدوجہد میں نہیں بلکہ جدوجہد کو سبوتاژ کرنے میں ہے۔یہ گروہ دراصل منڈی کے اس سخت مقابلہ جاتی ماحول کی پیداوار ہیں، جہاں نظریاتی پختگی نہیں بلکہ مارکیٹیبل نعرے، فالوورز کی تعداد، انسٹا فرینڈلی پوسٹیں، اور اسٹائلش سیاست کی اہمیت ہے۔ اس ماحول میں حقیقی تنظیمی محنت، نظریاتی تعمیر اور طبقاتی سیاست جیسے “آؤٹ ڈیٹڈ” عناصر ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہو جاتے ہیں۔یہ گروہ خود کو “اصلی انقلابی” اور دوسروں کو “جعلی، فرقہ پرست، یا شدت پسند” قرار دے کر عوام میں کنفیوژن پھیلاتے ہیں۔ ان کا مقصد کسی سیاسی سچائی کی وضاحت نہیں بلکہ نظریاتی ابہام پیدا کرنا ہوتا ہے۔
جب کوئی انقلابی گروہ عوامی حمایت حاصل کرنے لگے، ایک نئی توانائی، ایک نیا اندازِ سیاست سامنے لائے، تو یہ گروہ اس کے جلسوں، کانفرنسز اور کنونشنز میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ این ایس ایف کے مرکزی کنونشن پر حملہ اس کی ایک بڑی مثال ہے، جو کسی ریاستی ایما پر نہیں بلکہ انہی “اندر کے دشمنوں” کے اشارے پر کیا گیا۔تنظیمی اتحاد، نظریاتی وفاداری اور اجتماعی ڈھانچے کو توڑ کر افراد کو ذاتی تعلقات، مراعات یا نظریاتی ابہام کے ذریعے توڑا جاتا ہے۔ انفرادی خواہشات کو اجتماعی مفاد پر غالب کیا جاتا ہے۔جیسے ہی کوئی ان کے رویوں پر تنقید کرے، یا ایک نیا انقلابی راستہ اختیار کرنے کی بات کرے، یہ تمام گروہ اپنی باہمی رنجشوں کو پسِ پشت ڈال کر متحد ہو جاتے ہیں بالکل مارکیٹ کی بڑی کمپنیوں کی طرح جو کسی نئے اور نظریاتی “سٹارٹ اپ” کو ابھرنے نہیں دیتیں۔سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ بازاری لیفٹ کے ان اقدامات کی مذمت صرف انقلابی حلقوں کے حاشیے تک محدود رہتی ہے۔ وہ جماعتیں جو خود کو مارکسی، لیننسٹ یا انقلابی کہلاتی ہیں، اکثر ان حملوں پر یا تو مکمل خاموشی اختیار کرتی ہیں، یا پھر پسِ پردہ ان کی تائید کرتی ہیں۔ شاید انہیں بھی ڈر ہے کہ اگر ایک نئی نظریاتی طاقت ابھری، تو ان کی پرانی سیاسی اجارہ داری خطرے میں پڑ جائے گی۔یہ خاموشی صرف مصلحت نہیں، بلکہ سیاسی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ “ہم اس نظام کو چیلنج نہیں کرنا چاہتے، صرف اس میں اپنا حصہ چاہتے ہیں۔”
ایسے حالات میں ہم ایک نئے سیاسی کلچر، نئے تنظیمی ڈھانچے اور نئی اخلاقیات کی بنیاد رکھنے کے لیے “کاروان ماؤازم” کے کنونشن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمیشہ کی طرح بازاری لیفٹ اپنی رکاوٹیں کھڑی کرے گی۔ دھمکیاں پہلے ہی موصول ہونا شروع ہو چکی ہیں۔ لیکن ہم نے انقلاب کا عزم کر لیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس بار بھی بازاری لیفٹ کو منہ کی کھانا پڑے گی، اور ہم اپنے متبادل راستے پر آگے بڑھتے رہیں گے۔
ہم نے راستہ بدلنا ہے، نہ کہ صرف راستے کے نشاں۔