ہر سال یکم مئی کو دنیا بھر میں محنت کش عوام، مزدور، کسان اور پسے ہوئے طبقات یومِ مزدور مناتے ہیں۔ یہ دن نہ تو محض ایک تاریخی روایت ہے، نہ ہی خالی نعرہ بازی، بینروں یا سرخ جھنڈوں کی نمائش کا موقع، بلکہ یہ دن دراصل ایک زندہ اور انقلابی یاد دہانی ہے کہ اس دنیا کی تمام مادی دولت محنت کش طبقے کے خون، پسینے اور محنت سے پیدا ہوتی ہے، مگر اس کا پھل سرمایہ داروں، جاگیرداروں، ریاستی اہلکاروں اور عالمی سامراجی قوتوں کی تجوریوں میں جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ ہم اس نظامِ استحصال کے خلاف متحد ہوں، اور اپنی اجتماعی قوت کو پہچانیں۔
ماؤ نے طبقاتی جدوجہد کو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف محنت کش طبقے کا بنیادی اور لازمی ہتھیار قرار دیا تھا۔ جب تک مزدور طبقہ اپنے طبقاتی دشمنوں کے خلاف منظم ہو کر مزاحمت نہیں کرے گا، وہ کبھی آزاد نہیں ہو سکتا۔ یومِ مزدور ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ مزدور اور سرمایہ دار کے مفادات کبھی ہم آہنگ نہیں ہو سکتے۔ ان دونوں کے بیچ نہ مفاہمت ممکن ہے، نہ کوئی درمیانی راہ۔ ایک کا فائدہ دوسرے کے نقصان میں پوشیدہ ہے۔ موجودہ ریاست، اس کا عدالتی نظام، پولیس، فوج اور بیوروکریسی یہ سب کے سب حکمران طبقے کے مفادات کے محافظ ہیں۔ یہ تمام ادارے مزدور کے حقوق کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ سرمایہ دار کے منافع کی حفاظت کے لیے وجود رکھتے ہیں۔
مارکس، لینن اور ماؤ، تینوں نے ریاست کی حقیقت کو بے نقاب کیا۔ ان کے نزدیک ریاست ایک غیرجانبدار ادارہ نہیں بلکہ حکمران طبقے کا منظم جبر ہے۔ اس لیے، صرف ریفارمز یا چند مراعات حاصل کر کے مزدور طبقے کی نجات ممکن نہیں۔ مزدور طبقے کو اس ریاستی ڈھانچے کو مکمل طور پر توڑنا ہوگا اور اس کی جگہ اپنی انقلابی حکومت، یعنی مزدور کسان حکومت یا پرولتاریہ کی آمریت قائم کرنی ہوگی۔ یہ حکومت وہ ہوگی جو سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے، ذرائع پیداوار کی اجتماعی ملکیت، اور ایک طبقاتی غیرمساوات سے پاک سماج کی بنیاد رکھے گی۔
کاروانِ ماوازم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جدوجہد صرف شعور سے نہیں بلکہ منظم قوت سے جیتی جاتی ہے۔ ہم ایسی انقلابی تنظیم کی تعمیر کے لیے کوشاں ہیں جو محنت کش طبقے کو ایک طبقاتی فوج میں ڈھال سکے۔ ہمارا عزم ہے کہ ہم مزدوروں کوNGOز، ٹریڈ یونین ازم یا مراعاتی سیاست کے جال سے نکال کر سوشلسٹ انقلاب کی راہ پر گامزن کریں گے۔
کاروان ماوازم نمائندہ ادارہ نہیں بلکہ ایک جنگی محاذ ہوگی ایک ایسا انقلابی ڈھانچہ جو ماؤسٹ نظریہ، حکمت عملی، اور تنظیمی ڈسپلن سے لیس ہو۔ ہم مزدوروں کو خالی پیٹ وعدوں یا خیراتی سیاست سے نکال کر طبقاتی جنگ کی بنیاد پر متحرک کریں گے۔ آج جو ٹریڈ یونین ازم رائج ہے، وہ اکثر محض اجرتوں میں اضافے یا سہولیات کے حصول تک محدود رہتی ہے، جبکہ انقلابی سیاست سرمایہ داری کے خاتمے اور سوشلسٹ نظام کے قیام کی بات کرتی ہے۔ ماؤسٹ سیاست، مراعات کی نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی کی سیاست ہے۔آج کا مزدور نہ صرف اپنے ملک کے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں سے لڑ رہا ہے، بلکہ عالمی سامراجی قوتیں بھی اس کی زنجیروں کو مزید مضبوط کر رہی ہیں۔ IMF، ورلڈ بینک، اور امریکی سامراج جیسے ادارے ترقی پذیر ممالک میں محنت کشوں کو قرضوں، مہنگائی، نجکاری اور بیروزگاری کے ذریعے غلامی میں دھکیل رہے ہیں۔ یہ نئی سامراجی غلامی ہے، جو بندوقوں سے نہیں بلکہ معاشی پالیسیوں، قرضوں اور نیو لبرل اصلاحات سے نافذ کی جا رہی ہے۔
کاروانِ ماوازم اس سامراج دشمن مزاحمت کو محض دفاعی پوزیشن میں نہیں بلکہ ایک انقلابی جارحیت میں بدلنا چاہتا ہے۔ ہم ایک ایسی بین الاقوامی مزدور یکجہتی کی تحریک کے قیام کی جدوجہد کر رہے ہیں جو ہر براعظم میں سامراج کے پنجے اکھاڑ پھینکے۔
یومِ مزدور، درحقیقت وہ دن ہے جب مزدور اعلان کرتا ہے کہ اب وہ مزید استحصال برداشت نہیں کرے گا۔ یہ دن بغاوت کا دن ہے، تنظیم کا دن ہے، اور سوشلسٹ انقلاب کے لیے صف بندی کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہے، سرمایہ دارانہ ریاست کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنا ہے، اور اس راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کا سامنا کرتے ہوئے ایک مزدور کسان حکومت کے قیام تک جدوجہد جاری رکھنی ہے۔
ہم، کاروانِ ماوازم، اس عہد کے ساتھ اپنے تمام کامریڈز، مزدوروں، کسانوں، نوجوانوں، خواتین اور مظلوم قومیتوں کو دعوت دیتے ہیں کہ آئیں، ہمارے ساتھ اس انقلابی قافلے میں شامل ہوں۔ کیونکہ آزادی، انصاف اور سوشلسٹ مستقبل کی ضمانت صرف انقلابی ماؤسٹ سیاست سے ممکن ہے۔
#LongLivePeopleResistance
#KarwanEMaoism
#LongLiveMaoism