تحریر: ماؤ زی تنگ
۲۱ دسمبر ۱۹۳۹
کامریڈ نارمن بتهيون کینیڈا کی کمیونسٹ پارٹی کے ایک رکن تھے، جب کینیڈا اور امریکہ کی کمیونسٹ پارٹیوں نے انہیں چین بھیجا تو اس وقت ان کی عمر تقریباً پچاس سال تھی ۔ انہوں نے جاپان کے خلاف جنگِ مزاحمت میں ہماری مدد کرنے کے لئے خنده پیشانی کے ساتھ ہزاروں میل کا سفر کیا۔ وہ گذشتہ سال موسم بہار میں ینان پہنچے اور کوهِ ووتھائی میں کام کرنے چلے گئے۔ ہمارے لئے یہ بات بہت المناک ہے کہ وہ وہاں کام کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ یہ کون سا جذبہ ہے جس کے تحت ایک غیر ملکی بے غرضی کے ساتھ چینی عوام کی آزادی کے مقصد کو خود اپنا مقصد سمجھتا ہے؟ یہ بین الاقوامیت کا جذبہ ہے، یہ کمیونزم کا جذبہ ہے، جس سے ہر چینی کمیونسٹ کو سیکھنا چاہیئے۔ لینن ازم ہمیں سکھاتا ہے کہ عالمی انقلاب صرف اسی صورت میں کامیاب ہوسکتا ہے جبکہ سرمایه دار ممالک کا پرولتاريہ نوآبادیاتی اور نیم نوآبادیاتی عوام کی جدوجہد آزادی کی حمایت کرے اور نوآبادیاتی اور نیم نوآبادیاتی ممالک کا پرولتاریہ سرمایہ دار ممالک کے بولتاریہ کی جدوجہد آزادی کی حمایت کرے۔ کامریڈ بتهيون نے اس لیننی راه عمل کو حقیقت کا روپ دیا۔ ہم چینی کمیونسٹون کو بھی اس راهِ عمل کی پیروی کرنی چاہیئے۔ ہمیں تمام سرمایہ دار ممالک کے پرولتاریہ کے ساتھ، جاپان، برطانیه، امریکہ، جرمنی، اٹلی اور دوسرے تمام سرمایہ دار ممالک کے پرولتاریہ کے ساتھ اتحاد قائم کرنا چاہیئے، کیونکہ صرف اسی طریقے سے سامراج کا تختہ الثا جا سکتا ہے، اپنی قوم اور اپنے عوام کو آزادی دلائی جا سکتی ہے اور دنیا کی دوسری اقوام اور عوام کو آزاد کرایا جا سکتا ہے۔ یہ ہے ہماری بین الاقوامیت، ایسی بین الاقوامیت جس سے ہم تنگ نظر قوم پرستی اور تنگ نظر حب الوطنی کی مخالفت کرتے ہیں۔
کامریڈ بتهیون کے جذبے، جس کے تحت انہوں نے بے غرضی کے ساتھ خود کو پوری طرح دوسروں کے لئے وقف کر دیا تھا، کا اظہار اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ وه ہر کام ذمہ داری کے بے پناہ احساس کے ساتھ کرتے تھے اور تمام کامریڈوں اور عوام کے لئے ان کے دل میں گرمجوشی کا ہے پایاں جذبہ موجود تھا۔ ہر کمیونسٹ کو ان سے سیکھنا چاہیئے۔ ایسے لوگوں کی تعداد کم نہیں ہے جو اپنے کام میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں، جو ہلکے کام کو ترجیح دیتے ہیں اور بھاری کام سے سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ وہ مشکل کام دوسروں کو سونپ دیتے ہیں اور اپنے لئے آسان کاموں کا انتخاب کرتے ہیں۔ وہ ہر موقع پر دوسروں کا خیال کرنے سے پہلے اپنے بارے میں سوچتے ہیں۔ جب وہ کوئی معمولی سا کام بھی کرتے ہیں تو فخر سے پھول جاتے ہیں اور اس کے بارے میں ڈینگیں مارتے ہیں، کیونکہ انہیں یه خدشہ ہوتا ہے کہ دوسرے اس سے لاعلم رہیں گے۔ ان کے دل میں کامریڈوں اور عوام کے لئے کوئی تڑپ نہیں ہوتی، بلکه وه سرد مہر، لاپروا اور بے حس ہوتے ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ایسے لوگ کمیونسٹ نہیں ہیں یا کم از کم انہیں مخلص کمیونسٹ نہیں سمجھا جا سکتا۔ جب کبھی بتهيون کا ذکر آیا، محاذ سے واپس آنے والا کوئی بھی شخص ان کی تعریف کئے بغیر نہ ره سکا، اور کوئی بھی ایسا شخص نظر نہیں آیا جو ان کے جذبے سے متاثر نہ ہوا ہو۔ شانشی، چهاهار، ھپے سرحدی علاقے میں کوئی بھی ایسا فوجی یا غیر فوجی شخص جس کا ڈاکٹر بتھیون نے علاج کیا تھا یا جس نے اپنی آنکھوں سے انہیں کام کرتے دیکھا تھا، ان سے متاثر ہوئے بغیر نہ ره سکا۔ ہر کمیونسٹ کو کامریڈ ہتھیون کے اس سچے کمیونسٹ جذبے سے سیکھنا چاهیئے۔
کامریڈ بتھیون ایک ڈاکٹر تھے۔ علاج کرنا ان کا پیشہ تھا اور وہ اپنے ہنر میں جس کا معیار آٹھویں روٹ فوج کے طبی شعبے میں بہت بلند تها، کمال حاصل کرنے کی مسلسل کوشش کرتے رہتے تھے۔ ان کی مثال ان لوگوں کے لئے چراغِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے جو کوئی دوسرا کام دیکھتے ہی اپنا کام تبدیل کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور جو فنی کام کو ھیچ یا مستقبل کے لئے بےسود تصور کرتے ہوئے اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
کامریڈ بتھیون سے میری ملاقات صرف ایک بار ہوئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے بہت سے خطوط لکھے۔ لیکن میں مصروف تھا اور میں نے انہیں صرف ایک خط لکھا تھا اور مجہے یہ بھی معلوم نہیں کہ انہیں وہ خط ملا بھی تھا یا نہیں ۔ مجھے ان کی وفات سے بہت دکھ ہوا ہے۔ اس وقت ہم سب ان کی یاد منا رہے ہیں جس سے ظاهر ہوتا ہے کہ ان کے جذبے سے ہر شخص کتنا متاثر ہوا ہے۔ ہم سب کو ان کے بےغرضی کے اس جذبے سے سیکھنا چاہیئے ۔ اس جذبے سے ہر شخص عوام کے لئے بہت کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔ کسی شخص کی قابلیت زیاده یا کم ہو سکتی ہے، لیکن اگر وہ یہ جذبہ رکھتا ہے تو وہ شریف النفس اور مخلص ہے، اخلاقی دیانت رکھتا ہے اور گھٹیا دلچسپیوں سے بالاتر ہے۔ اور وہ ایک ایسا شخص ہے جو عوام کے لئےمفید ہے۔