تحریر: احمد خان ندیم
گزشتہ چند دہائیوں کے دوران دنیا بھر میں ریاست کے کردار، عوامی خدمات کی فراہمی اور ترقی کے تصور میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ان تبدیلیوں نے صرف معیشت یا انتظامی ڈھانچے کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ تعلیم جیسے بنیادی سماجی شعبے کو بھی گہرے طور پر متاثر کیا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب تعلیم کو ریاست کی بنیادی آئینی اور سماجی ذمہ داری تصور کیا جاتا تھا، مگر آہستہ آہستہ ایک ایسا نظریاتی اور پالیسی رجحان سامنے آیا جس میں تعلیم کو ایک عوامی حق (Public Right) کے بجائے ایک سرمایہ کاری (Investment) اور انسانی سرمایہ (Human Capital) پیدا کرنے کے ذریعے کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ اسی تناظر میں ریاست کے کردار کو بھی ازسرنو متعین کیا گیا، جہاں وہ براہِ راست تعلیمی خدمات فراہم کرنے والی ریاست (Provider State) سے بتدریج ایک نگران اور ریگولیٹری ریاست (Regulatory State) میں تبدیل ہونے لگی۔
پاکستان، خصوصاً پنجاب، بھی ان عالمی رجحانات سے الگ نہیں رہا۔ گزشتہ برسوں میں صوبے میں متعدد تعلیمی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں جنہیں انتظامی کارکردگی، شفافیت، احتساب، معیارِ تعلیم اور بہتر نتائج کے نام پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان اصلاحات میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، آؤٹ سورسنگ، کارکردگی پر مبنی نگرانی، معیاری امتحانات، ڈیٹا پر مبنی انتظامی فیصلے اور نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت جیسے عناصر نمایاں ہیں۔ بظاہر ان اقدامات کا مقصد تعلیمی نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہے، لیکن ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ آیا یہ اصلاحات صرف مقامی انتظامی ضروریات کا نتیجہ ہیں یا وہ ایک وسیع تر عالمی نظریاتی اور پالیسی رجحان کا حصہ ہیں جس نے گزشتہ کئی دہائیوں سے ریاست کے سماجی کردار کو نئے سرے سے متعین کیا ہے۔
یہاں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ نجکاری ہو رہی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ریاست تعلیمی پالیسی مرتب کرتے وقت کن سماجی، معاشی اور سیاسی ترجیحات کو اہمیت دے رہی ہے، اور اس عمل میں کن اداروں، طبقات اور مفادات کا اثر نمایاں ہے۔ ریاست کو اکثر ایک غیر جانب دار ادارہ سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ سیاسی معیشت کے نقطۂ نظر سے ریاست مختلف ادارہ جاتی، انتظامی اور معاشی قوتوں کے باہمی تعامل سے تشکیل پانے والا ایک پیچیدہ نظام ہے۔ اس نظام میں بیوروکریسی، مقامی معاشی مفادات، نجی سرمایہ، بین الاقوامی ترقیاتی ادارے، عالمی مالیاتی تنظیمیں، پالیسی مشاورتی نیٹ ورکس اور مختلف تھنک ٹینکس سب کسی نہ کسی سطح پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ چنانچہ تعلیمی اصلاحات کو محض تکنیکی یا انتظامی فیصلوں کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ انہیں وسیع تر سیاسی معیشت اور ادارہ جاتی تبدیلی کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
نولبرل ازم اور تعلیم
بیسویں صدی کے آخری عشروں میں، خصوصاً 1980ء کی دہائی کے بعد سے، دنیا بھر میں ایک خاص اقتصادی نظریے نے غلبہ حاصل کیا جسے نولبرل ازم (Neoliberalism) کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق منڈی (Market) سب سے مؤثر وسائل تقسیم کرنے والا ادارہ ہے، ریاست کو اپنا کردار محدود کرنا چاہیے، نجی شعبے کو ترجیح دی جانی چاہیے، اور عوامی خدمات بھی منڈی کے اصولوں پر چلنی چاہیئں۔ اس نظریاتی ڈھانچے کے تحت عالمی مالیاتی اداروں جیسے کہ عالمی بینک (World Bank) اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے ترقی پذیر ممالک میں تعلیمی اصلاحات کا ایک مخصوص خاکہ پیش کیا۔ اس خاکے میں تعلیم کو معاشی پیداواریت کے نقطۂ نظر سے دیکھا گیا، نجکاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دیا گیا، قابلِ پیمائش نتائج (Measurable Outcomes) پر زور دیا گیا، اور ریاستی اخراجات کو کم کرنے کی پالیسی اپنائی گئی۔ پاکستان اور پنجاب کی تعلیمی اصلاحات کو اسی وسیع تر عالمی تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔
یہ نظریاتی رجحان اچانک نہیں آیا۔ اس کی جڑیں واشنگٹن اجماع (Washington Consensus) میں ہیں جو 1989ء میں پیش کیا گیا اور جس نے ترقی پذیر ممالک کو قرضے دینے کی شرائط طے کیں۔ ان شرائط میں ریاستی اخراجات میں کمی، نجکاری، آزاد منڈی اور ڈی ریگولیشن شامل تھے۔ تعلیم بھی ان شعبوں میں شامل ہو گئی جہاں ریاستی کردار کو سمیٹنے اور نجی شعبے کو داخل ہونے کا موقع دینے کی بات کی گئی۔
ریاست کے بدلتے کردار کا نمونہ
اگر تعلیمی اصلاحات کے عمومی تسلسل کا جائزہ لیا جائے تو ایک مخصوص نمونہ (Pattern) سامنے آتا ہے۔ ابتدا میں ریاستی نظام کی مالی اور انتظامی کمزوریوں پر زور دیا جاتا ہے، پھر نجی شعبے یا مختلف شراکتی ماڈلز کو متبادل حل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اس کے بعد ریاست کی براہِ راست ذمہ داری محدود ہوتی جاتی ہے، جبکہ تعلیمی خدمات کی عملی فراہمی بتدریج مختلف نجی، نیم سرکاری یا غیر سرکاری اداروں کے سپرد ہونے لگتی ہے۔ اس پورے عمل میں ریاست مکمل طور پر غائب نہیں ہوتی بلکہ اس کا کردار تبدیل ہو جاتا ہے۔ وہ خدمات فراہم کرنے والی ریاست کے بجائے قواعد بنانے، نگرانی کرنے اور کارکردگی جانچنے والی ریاست بن جاتی ہے۔ یوں ریاستی ڈھانچے کے اندر اختیار، وسائل اور ذمہ داری کی تقسیم ایک نئی شکل اختیار کرتی ہے۔
اسی تناظر میں “نجکاری” اور “شراکت داری” کی اصطلاحات بھی اہمیت اختیار کرتی ہیں۔ اگرچہ پالیسی ساز اکثر اس عمل کو “پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ” یا “شراکت داری” کا نام دیتے ہیں، لیکن اصطلاحات تبدیل کرنے سے پالیسی کے عملی اثرات تبدیل نہیں ہوتے۔ بنیادی سوال یہی رہتا ہے کہ تعلیم کی فراہمی، وسائل کی تقسیم، فیصلہ سازی اور جواب دہی کے نظام میں کس نوعیت کی تبدیلی واقع ہو رہی ہے۔ درحقیقت یہ محض انتظامی تعاون نہیں بلکہ ایک وسیع ادارہ جاتی تشکیلِ نو (Institutional Realignment) ہے، جس میں ریاست اپنی بعض روایتی ذمہ داریاں مختلف ادارہ جاتی فریم ورک کے ذریعے منتقل کرتی ہے۔
اس نئے ادارہ جاتی نیٹ ورک میں متعدد کردار سامنے آتے ہیں۔ پالیسی ڈیزائن اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے والے مشاورتی ادارے، مختلف فاؤنڈیشنز اور غیر سرکاری تنظیمیں، انفراسٹرکچر اور خدمات کی فراہمی سے وابستہ نجی کمپنیاں، نیز نگرانی، جائزہ، ڈیٹا اینالیٹکس اور کارکردگی کی پیمائش کرنے والے ادارے، سب اس نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ نتیجتاً ریاست کا کردار ختم نہیں ہوتا بلکہ زیادہ منتشر (Fragmented) اور تہہ دار (Layered) ہو جاتا ہے، جہاں فیصلہ سازی مختلف سطحوں پر تقسیم ہو جاتی ہے اور جواب دہی کا براہِ راست رشتہ نسبتاً کم واضح رہ جاتا ہے۔
پنجاب میں تعلیمی اصلاحات کی تاریخ
پنجاب میں تعلیمی اصلاحات کا سلسلہ کوئی نئی بات نہیں۔ 1990ء کی دہائی سے ہی مختلف حکومتوں نے مختلف نعروں کے ساتھ تعلیمی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ 2000ء کی دہائی میں پنجاب ایجوکیشن سیکٹر ریفارمز پروگرام (PESRP) اور پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) کا قیام ہوا۔ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے وہ نجی اسکول چلائے جن میں غریب طلبا کو پڑھانے کے لیے حکومتی وظائف ادا کیے گئے۔ یہ وہ ماڈل ہے جس میں ریاست خود اسکول نہیں چلاتی لیکن نجی فراہم کاروں کو ادائیگی کرتی ہے۔
اسی دور میں ڈیٹا اور نگرانی پر مبنی نظام متعارف کرایا گیا۔ سالانہ تعلیمی صورتِ حال کی رپورٹ (ASER) اور مختلف قومی تشخیصی سروے تعلیمی معیار کی پیمائش کا ذریعہ بنے۔ اگرچہ ڈیٹا جمع کرنا اور تجزیہ کرنا ضروری عمل ہے، لیکن جب ڈیٹا ہی پالیسی کا محور بن جائے اور تعلیم کے وسیع تر اہداف پسِ پشت چلے جائیں، تو یہ خود ایک مخصوص نظریاتی انتخاب ہوتا ہے۔
2013ء کے بعد پنجاب میں ایک نئے دور کی شروعات ہوئی جب نواز شریف حکومت نے تعلیم کو ترجیح قرار دیا۔ اس دور میں ڈینجر زون اسکولوں کی نشاندہی، اسکولوں کی مرمت اور توسیع، لیپ ٹاپ اسکیم اور دیگر اقدامات سامنے آئے۔ تاہم بنیادی ڈھانچے میں کوئی نمایاں تبدیلی نہ آئی اور نجی شعبے پر انحصار بڑھتا رہا۔ 2024ء کے بعد موجودہ حکومت نے نئے اصلاحاتی پروگراموں کا آغاز کیا جن میں اسکولوں کا ضم کرنا، اساتذہ کی عقلیت بندی (Rationalization)، سمارٹ بورڈز کی فراہمی اور STEM لیبز کا قیام شامل ہیں۔
اس تمام عمل کے ساتھ ایک اور اہم تبدیلی بھی وقوع پذیر ہوتی ہے، اور وہ ہے تعلیم کی کامیابی کو جانچنے کے پیمانوں میں تبدیلی۔ اب تعلیمی معیار کو زیادہ تر Learning Outcomes، معیاری امتحانات، Performance Indicators اور KPI-Based Dashboards کے ذریعے ناپا جاتا ہے۔ بظاہر یہ پیمانے غیر جانب دار اور سائنسی معلوم ہوتے ہیں، لیکن درحقیقت یہ خود ایک مخصوص تصورِ تعلیم کو فروغ دیتے ہیں۔
اس تصور میں علم ایک وسیع سماجی، فکری اور اخلاقی عمل کے بجائے ایک قابلِ پیمائش پیداوار (Measurable Output) بن جاتا ہے۔ طالب علم ایک مکمل شخصیت کے بجائے ایک Data Point میں تبدیل ہونے لگتا ہے، جبکہ استاد ایک فکری رہنما کے بجائے محض Performance Delivery Unit کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ تبدیلی صرف انتظامی نہیں بلکہ علمی اور نظریاتی بھی ہے۔ یہاں تعلیم کا بنیادی مقصد تنقیدی شعور، سماجی آگہی، جمہوری اقدار اور فکری آزادی پیدا کرنا نہیں رہتا بلکہ ایک ایسا انسانی سرمایہ تیار کرنا بن جاتا ہے جو لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مؤثر، قابلِ پیمائش اور معاشی لحاظ سے مفید ہو۔
استاد: پیشہ یا کردار؟
پنجاب کے تعلیمی نظام میں استاد کا مقام اور اس کی سماجی حیثیت ہمیشہ سے ایک پیچیدہ سوال رہا ہے۔ ایک طرف، پاکستانی معاشرے میں استاد کو روایتی طور پر ایک قابلِ احترام کردار سمجھا جاتا ہے جو علم، اخلاق اور شخصیت سازی کا ذریعہ ہے۔ دوسری طرف، جدید تعلیمی اصلاحات کے تناظر میں استاد کو تیزی سے ایک “سروس ڈیلیوری ایجنٹ” کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے جس کی کارکردگی ڈیٹا، نتائج اور احتساب کے ذریعے جانچی جاتی ہے۔
سرکاری اسکولوں کے اساتذہ ریاست اور معاشرے کے درمیان ایک اہم واسطہ ہیں۔ وہ اکثر انتہائی کم وسائل، بوسیدہ عمارتوں، بھاری طالب علمی، انتظامی دباؤ اور سماجی توقعات کے بوجھ تلے کام کرتے ہیں۔ ایسے میں ان کے لیے کارکردگی کے اعلیٰ معیار قائم کرنا اور انہیں برقرار رکھنا نہایت مشکل کام ہے۔ لیکن موجودہ پالیسی گفتگو میں استاد کی کارکردگی کو سیاق و سباق سے بالکل الگ کر کے پیش کیا جاتا ہے، گویا کہ مسئلہ صرف استاد کی “نیت” یا “محنت” کا ہے، ان حالات کا نہیں جن میں وہ کام کرتا ہے۔
پنجاب کے موجودہ وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات، جو وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کی کابینہ میں مارچ 2024ء سے اسکول اور اعلیٰ تعلیم کی وزارت سنبھالے ہوئے ہیں، اپنے جارحانہ انداز اور بیباک بیانات کی وجہ سے اکثر متنازع رہتے ہیں۔ انہوں نے متعدد مواقع پر سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کے بارے میں ایسے بیانات دیے ہیں جنہوں نے تعلیمی حلقوں اور سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل پیدا کیا۔
24 جون 2026ء کو ملتان میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کی سالانہ تقسیمِ اسناد کی تقریب کے دوران رانا سکندر حیات نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ جب اسکول چھوڑتے ہیں تو چھت کے پنکھے اتار کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ یہ بیان فوری طور پر سوشل میڈیا پر وائرل ہوا اور اساتذہ کی تنظیموں، تعلیمی ماہرین اور عام شہریوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنا۔
ناقدین نے اس بیان پر کئی سطحوں پر اعتراض کیا۔ پہلا اعتراض یہ تھا کہ وزیرِ تعلیم نے ایک مخصوص واقعے کو پورے پیشے کی بدنامی کے لیے استعمال کیا اور تمام سرکاری اساتذہ کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا۔ دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اسکولوں کے درمیان سازوسامان کی منتقلی اکثر سرکاری ہدایات پر ہوتی ہے، خصوصاً جب اسکولوں کو ضم کیا جاتا ہے یا انتظام تبدیل ہوتا ہے، مگر وزیر نے اس حقیقت کو نظرانداز کیا۔ تیسرا اعتراض یہ تھا کہ یونیورسٹی کی ایک باوقار تقریب میں پورے پیشے کو ذلیل کرنا ایک غیر ذمہ دارانہ حرکت ہے۔
جب ردِعمل آیا تو وزیر نے کہا کہ ان کی گفتگو کا صرف ایک حصہ نکال کر وائرل کیا گیا اور ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرنا “بدنیتی” کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تنقید تمام اساتذہ پر نہیں بلکہ صرف بدعنوان عناصر پر تھی۔ تاہم یہ صفائی اس سوال کا جواب نہیں دیتی کہ پبلک فورم پر ایک انتہائی عمومی مثال دے کر پورے طبقے کو داغدار کیوں کیا گیا۔
رانا سکندر حیات نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک ایسے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے جب لاہور بورڈ میں ایک سکھ طالب علم نے اسلامیات میں نمایاں نمبر حاصل کیے، یہ سوال اٹھایا کہ “مسلمانوں کے بچے فیل کروانے والے اساتذہ کا احتساب نہیں ہونا چاہیے؟” اس بیان نے بھی خاصی بحث کو جنم دیا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ یہ بیان اساتذہ کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہراتا ہے جبکہ طلبا کی ناکامی کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں غربت، گھریلو حالات، تعلیمی وسائل کی کمی، نصاب کی خامیاں اور نظامی مسائل شامل ہیں۔
وزیرِ تعلیم نے احتساب کے تناظر میں یہ بھی کہا کہ “جو اساتذہ نقل مافیا کا حصہ بنیں، سالہا سال اسکول نہ آئیں، میں ان کا دفاع کیسے کروں؟” اگرچہ اس بیان میں کچھ حقیقت ہو سکتی ہے کیونکہ تعلیمی نظام میں غیر حاضر اساتذہ اور امتحانی بے ضابطگیاں ایک حقیقی مسئلہ ہے، تاہم مسئلہ انداز اور سیاق و سباق کا ہے۔ ایک وزیر کا کام احتساب کو ادارہ جاتی اور قانونی راستوں سے آگے بڑھانا ہے، نہ کہ پبلک مقامات پر تمام اساتذہ کو موردِ الزام ٹھہرانے والی زبان استعمال کرنا۔
رانا سکندر حیات کے یہ بیانات محض زبان کی لغزش یا بے احتیاطی نہیں ہیں۔ انہیں وسیع تر پالیسی تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ دراصل جب ریاست اصلاحات کا ایجنڈا چلاتی ہے اور سرکاری اسکولوں کو بدنام کرنے، ضم کرنے یا نجی شعبے کے حوالے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تو سب سے پہلا قدم یہ ہوتا ہے کہ سرکاری نظام کی کمزوریوں پر توجہ دلائی جائے، اور اکثر اساتذہ اس کمزوری کی علامت کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ یوں پالیسی کی ناکامی کو نظامی مسئلے کے بجائے افراد کی ذاتی ناکامی قرار دے دیا جاتا ہے۔
یہ رجحان عالمی سطح پر بھی دیکھا گیا ہے۔ امریکہ میں بھی “No Child Left Behind” جیسی اصلاحات کے دوران اسکول کی ناکامی کو استاد کی ناکامی بنا کر پیش کیا گیا، جس کی نتیجے میں نجی چارٹر اسکولوں کو فروغ دیا گیا۔ برطانیہ میں بھی اوفسٹڈ (Ofsted) کے معائنے نظام نے اساتذہ پر بے تحاشا دباؤ ڈالا اور عوامی تعلیم کو ناکام ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ آزاد اسکول (Free Schools) اور اکیڈمیز کو جواز مل سکے۔
یہاں ایک ضروری امتیاز قائم کرنا ضروری ہے: احتساب کا مطالبہ درست ہے، لیکن پورے پیشے کی عزت کو مجروح کرنا نہیں۔ اگر چند اساتذہ غیر حاضر رہتے ہیں یا نقل میں ملوث ہیں تو ان کے خلاف ادارہ جاتی اور قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ لیکن اس کے لیے پبلک تقریبات میں پورے طبقے کو رسوا کرنا نہ ضروری ہے اور نہ مناسب۔ اساتذہ کی پیشہ ورانہ عزتِ نفس کو مجروح کرنے سے کئی نقصانات ہوتے ہیں۔ پہلا نقصان یہ ہے کہ باصلاحیت افراد تدریس کے شعبے کو ترجیح نہیں دیتے اور اس پیشے کو کم حیثیت سمجھا جانے لگتا ہے۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ موجودہ اساتذہ کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور وہ پہلے سے کٹھن حالات میں مزید دباؤ کا سامنا کرتے ہیں۔ تیسرا نقصان یہ ہے کہ سرکاری تعلیم پر عوامی اعتماد کمزور ہوتا ہے اور لوگ نجی اسکولوں کی طرف مزید راغب ہوتے ہیں۔
سرکاری اساتذہ پر تنقید اور ریاستی تعلیمی نظام کو ناکام ثابت کرنے کی کوشش کا ایک عملی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نجی تعلیم کو بطور متبادل قبول کرنے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ پنجاب میں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) کے تحت نجی اسکولوں کو سرکاری فنڈز دیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح پنجاب ایجوکیشن انیشی ایٹیو مینجمنٹ اتھارٹی (PEIMA) کے ذریعے مختلف نجی اداروں کو سرکاری اسکولوں کا انتظام سونپا جا رہا ہے۔
ان ماڈلز میں ریاست بچے کی تعلیم کا خرچ اٹھاتی ہے لیکن یہ خرچ نجی فراہم کار کو جاتا ہے۔ یوں سرکاری بجٹ نجی منافع کی ضمانت بن جاتا ہے۔ اس عمل میں اساتذہ کی یونین سازی کا حق محدود ہو جاتا ہے، ملازمت کا تحفظ کم ہو جاتا ہے، تنخواہیں کم ہو سکتی ہیں، اور پیشہ ورانہ خودمختاری سکڑ جاتی ہے۔ یہ سب عوامل اسی وسیع تر نولبرل ایجنڈے کا حصہ ہیں جو تعلیم کو منڈی کی منطق کے تابع کرتا ہے۔
بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کا کردار
پنجاب کی تعلیمی اصلاحات کو سمجھنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کے کردار کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ عالمی بینک، یو ایس ایڈ، یو کے ایڈ (DFID)، اور دیگر اداروں نے پنجاب کے تعلیمی نظام میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور اس کے ساتھ اصلاحات کا ایک مخصوص خاکہ بھی پیش کیا ہے۔ یہ ادارے Learning Outcomes پر مبنی پیمائش، اساتذہ کی کارکردگی کے نظام، Data-Driven Management اور نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دیتے ہیں۔ یہ مداخلت محض فنی مشاورت نہیں بلکہ ایک نظریاتی سمت بندی بھی ہے۔ پاکستان جب ان اداروں سے قرض یا گرانٹ لیتا ہے تو ساتھ میں ایک پالیسی فریم ورک بھی قبول کرتا ہے جس میں تعلیم کو انسانی سرمایے کی تیاری کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اساتذہ کو اس انسانی سرمایے کو پیدا کرنے والی “مشین” کے پرزے تصور کیا جاتا ہے۔
پاکستان کی آئینی دفعہ 25-A کے تحت 5 سے 16 سال کی عمر کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ یہ ذمہ داری پوری نہ ہو سکے تو اس کا بوجھ صرف اساتذہ پر ڈالنا منصفانہ نہیں۔ ریاست کو سوچنا چاہیے کہ جب وہ اساتذہ کو کم تنخواہ دیتی ہے، انہیں غیر تدریسی کاموں میں الجھاتی ہے، انہیں وسائل کے بغیر کلاسیں چلانے پر مجبور کرتی ہے، اور پھر ان کی کارکردگی کا احتساب کرتی ہے، تو یہ کس قسم کا انصاف ہے؟ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اساتذہ کو معیاری تربیت دے، انہیں معاشی تحفظ فراہم کرے، ان کی پیشہ ورانہ خودمختاری کا احترام کرے، اور تدریس کو ایک باوقار اور پرکشش پیشہ بنائے۔ اگر یہ نہیں ہوتا تو تعلیمی نظام کو جتنا مرضی ڈیجیٹل کر لیں، نتائج بہتر نہیں ہوں گے۔
نظریاتی نقطۂ نظر
فرانسیسی فلسفی مشل فوکو (Michel Foucault) نے دکھایا کہ “علم” اور “طاقت” آپس میں گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ تعلیمی پالیسی میں جو خطاب (Discourse) غالب آتا ہے وہ محض معلومات نہیں ہوتا بلکہ یہ طے کرتا ہے کہ کیا “معیاری تعلیم” ہے، کون “اچھا استاد” ہے، اور تعلیم کی “کامیابی” کسے کہتے ہیں۔ جب یہ خطاب بین الاقوامی اداروں، کنسلٹنٹس اور ڈیٹا فرموں کی طرف سے آتا ہے، تو یہ مقامی سماجی، ثقافتی اور تاریخی حقائق سے ہم آہنگ نہیں ہوتا۔
برازیلی ماہرِ تعلیم پاؤلو فریری (Paulo Freire) نے اپنی مشہور کتاب “Pedagogy of the Oppressed” میں لکھا کہ تعلیم یا تو آزادی کا ذریعہ بنتی ہے یا قید کا۔ اگر تعلیم صرف اطاعت گزار اور ماہر مزدور تیار کرتی ہے تو وہ دراصل نظامِ ظلم کو قائم رکھنے میں مدد کرتی ہے۔ اس تناظر میں پنجاب کی تعلیمی اصلاحات پر سوال اٹھتا ہے کہ کیا وہ طلبا کو سوچنے، سوال کرنے اور سمجھنے کے قابل بنا رہی ہیں، یا محض امتحانات پاس کرنے اور منڈی کے لیے کارآمد ہونے کے قابل؟
دنیا کے ان ممالک میں جہاں تعلیمی نظام سب سے بہتر سمجھا جاتا ہے جیسے کہ فن لینڈ، جنوبی کوریا اور سنگاپور، ایک بات مشترک ہے کہ وہاں اساتذہ کو انتہائی عزت اور پیشہ ورانہ خودمختاری دی جاتی ہے۔ فن لینڈ میں تدریس ایک انتہائی مسابقتی پیشہ ہے جہاں صرف اعلیٰ قابلیت کے حامل افراد ہی استاد بن سکتے ہیں۔ وہاں اساتذہ پر بیرونی معائنے اور کارکردگی کی مسلسل جانچ کا کوئی نظام نہیں ہے، بلکہ انہیں اعتماد دیا جاتا ہے۔
اس کے برعکس، پاکستان میں سرکاری اساتذہ کو اکثر “ناکام” یا “نالائق” کے لیبل کے ساتھ دیکھا جاتا ہے، ان پر غیر تدریسی کام جیسے مردم شماری، پولیو مہم وغیرہ کا بوجھ ڈالا جاتا ہے، ان کی تنخواہیں اور ملازمتی تحفظ مختلف اصلاحاتی پروگراموں کی زد میں رہتے ہیں، اور اب ان کے وقار کو عوامی تقریبات میں بھی گزند پہنچائی جاتی ہے۔ یہ وہ ماحول نہیں ہے جس میں بہترین تعلیمی نظام پروان چڑھتا ہے۔
یہ مضمون اس بنیادی سوال کے گرد استوار ہے کہ پنجاب میں جاری تعلیمی اصلاحات محض مقامی انتظامی تبدیلیاں ہیں یا وہ ایک ایسے عالمی نظریاتی رجحان کا حصہ ہیں جس میں ریاست، تعلیم، علم، استاد، طالب علم اور شہری ہونے کے تصورات سب ازسرنو تشکیل پا رہے ہیں۔ اس تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ موجودہ تعلیمی اصلاحات صرف تکنیکی یا انتظامی فیصلے نہیں بلکہ ایک مخصوص سیاسی معاشی نقطۂ نظر کے تحت چلائی جا رہی ہیں۔ رانا سکندر حیات کے بیانات اس وسیع تر رجحان کی مقامی جھلک ہیں جس میں ریاستی نظام کی ناکامی کا الزام اساتذہ پر ڈالا جاتا ہے تاکہ نجکاری اور بیرونی مداخلت کو جواز مل سکے۔ یہ طریقہ کار نہ صرف ناانصافی پر مبنی ہے بلکہ تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھی نادرست ہے۔
حقیقی تعلیمی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ استاد کو دشمن نہیں بلکہ شریکِ کار سمجھا جائے۔ ریاست تعلیم کو حق سمجھے نہ کہ سرمایہ کاری۔ تعلیمی نتائج کو صرف ڈیٹا تک محدود نہ کیا جائے بلکہ انسانی شخصیت کی مکمل نشونما کو ہدف بنایا جائے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط کو آنکھ بند کر کے قبول کرنے کی بجائے مقامی سماجی ضروریات کو مدِنظر رکھا جائے۔ اور سب سے بڑھ کر، تعلیم کو ایک جمہوری، سماجی اور اخلاقی منصوبے کے طور پر دیکھا جائے جس کا مقصد آزاد، سوچنے والے اور باخبر شہری تیار کرنا ہے، نہ کہ منڈی کے لیے سستی افرادی قوت۔