سیاست محض اقتدار کے ایوانوں یا اسمبلیوں میں موجود نمائندوں کی بحث کا نام نہیں، بلکہ یہ اس پوری سماجی، معاشی، اور نظریاتی جدوجہد کا نام ہے جس کے ذریعے معاشرے میں وسائل، طاقت، قانون، اور سماجی رشتے منظم کیے جاتے ہیں۔ جب ہم کہتے ہیں کہ سیاست وہ عمل ہے جس کے ذریعے یہ طے ہوتا ہے کہ زمین، پانی، دولت، اسکول، اسپتال، یا دیگر وسائل کیسے استعمال ہوں گے، تو دراصل ہم ایک طبقاتی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہوتے ہیں۔ یعنی یہ سوال کبھی غیرجانبدار نہیں ہوتا کہ وسائل کس کے لیے ہوں گے: سرمایہ دار طبقے کے لیے یا محنت کش عوام کے لیے؟ ہم یہ سمجھتے ہیں سیاست طبقاتی جدوجہد کا ایک ایسا مظہر ہے جو کسی نہ کسی شکل میں ہر جگہ موجود ہوتا ہے۔ جب ایک سماج میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کون حکومت کرے گا، قانون کون بنائے گا، کس کو بولنے کی اجازت ہوگی اور کس کو خاموش کر دیا جائے گا، تو درحقیقت یہ سوال سرمایہ دارانہ ریاست کی طبقاتی ماہیت سے جڑا ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ جمہوریت کی سیاست ہمیشہ طاقتور طبقات یعنی جاگیرداروں، سرمایہ داروں، سامراجی گماشتوں کے مفادات کو تحفظ دیتی ہے، اور باقی تمام طبقوں کو “قانون”، “آئین”، “جمہوریت” یا “ترقی” کے نعروں کے ذریعے خاموش کروا دیتی ہے۔
ماؤ نے کہا تھا کہ سیاست دراصل طبقاتی جدوجہد کا ارتکاز ہے، اور حقیقی سیاست وہی ہے جو اس جدوجہد کو منظم کرے، شعور دے، اور انقلابی راستہ فراہم کرے۔ اس لحاظ سے جب مزدور اپنی اجرت کے لیے سڑک پر نکلتا ہے، تو وہ محض معاشی مطالبہ نہیں کر رہا، بلکہ اس نظام کی بنیادوں کو چیلنج کر رہا ہے جس نے اس کی محنت کو استحصال کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔ جب عورت گھریلو تشدد یا ریاستی جبر کے خلاف آواز بلند کرتی ہے، تو وہ اس پدرشاہی سرمایہ دارانہ نظام کو للکار رہی ہوتی ہے جو عورت کو محض پیداواری اور تولیدی قوت کے طور پر استعمال کرتا ہے، مگر اسے اختیار، آزادی، یا انصاف نہیں دیتا۔طالب علم جب فیسوں میں کمی یا تعلیم کے حق کی بات کرتا ہے، تو وہ بھی دراصل اس نیولبرل نظام تعلیم کے خلاف احتجاج کر رہا ہوتا ہے جس نے تعلیم کو سرمایہ داروں کی تجارتی منڈی بنا دیا ہے۔ کسان جب زمین پر اپنے حق کے لیے لڑتا ہے، تو وہ ان جاگیردارانہ اور ریاستی طاقتوں کو للکارتا ہے جو زمین، پانی اور بیج کو کنٹرول کر کے کسان کو مسلسل غلامی اور قرض میں دھکیلتے ہیں۔
یاد رکھیں جہاں بھی ظلم کے خلاف بغاوت ہو، وہاں سیاست ہو رہی ہے۔ جہاں بھی سوال اٹھے کہ یہ نظام کن بنیادوں پر قائم ہے، وہاں سیاست زندہ ہے۔ اور جہاں بھی عوام یہ طے کرنے کی کوشش کریں کہ وہ اس دنیا کو اپنے ہاتھوں سے بدلیں گے، وہاں سیاست کا انقلابی پہلو جنم لیتا ہے۔ اس لیے سیاست صرف پارلیمنٹ یا بیوروکریسی کا کھیل نہیں، بلکہ روزمرہ کی زندگی، گلیوں، فیکٹریوں، کھیتوں، گھروں، اور یونیورسٹیوں میں جاری وہ جنگ ہے جس میں ایک طرف ظالم طبقات کا نظام کھڑا ہے اور دوسری طرف مظلوم عوام کی انقلابی قوت۔ اگر ہم اس نظام کو نہیں سمجھتے، اس میں موجود طاقت کے رشتوں کو چیلنج نہیں کرتے، اور عوام کو منظم نہیں کرتے، تو ہم سیاست سے لاتعلق نہیں ہوتے، بلکہ موجودہ ظالم سیاست کے خاموش حامی بن جاتے ہیں۔ اس لیے سیاست میں شرکت صرف ووٹ ڈالنا نہیں، بلکہ ظلم کے خلاف منظم بغاوت کرنا، انقلابی صف بندی پیدا کرنا، اور اس سماج کو جڑ سے بدلنے کی لڑائی کو آگے بڑھانا ہے۔ یہی وہ انقلابی سیاست ہے جو ماؤزم کا اصل لبِ لباب ہے۔
اگر عوام سیاست سے لا تعلق ہو جائیں تو فیصلہ طاقتور کریں گے، اور کمزور طبقات مزید دب جائیں گے۔ محنت کش پسیں گے، زمیندار اور سرمایہ دار فائدہ اٹھائیں گے۔ تعلیم، صحت، روزگار، انصاف، تحفظ یہ سب امیروں کے لیے مختص ہو جائیں گے، اور غریب عوام کو صرف استحصال، غربت، جبر اور بے بسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہی سرمایہ دارانہ ریاست کا مقصد ہوتا ہے: عوام کو سیاست سے دور رکھو تاکہ اقتدار پر قابض طبقے بلا رکاوٹ اپنے مفادات کے فیصلے کرتے رہیں۔ مگر ہم اس ساری صورتحال کو صرف اخلاقی یا اصلاحی انداز میں نہیں دیکھ سکتے، بلکہ اسے طبقاتی جدوجہد کی آنکھ سے دیکھنا ضروری ہے۔ سیاست دراصل وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعے ایک طبقہ دوسرے پر غلبہ حاصل کرتا ہے۔ اگر سیاست محنت کشوں کے ہاتھ میں نہیں، تو یقیناً وہ سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ہے۔ سرمایہ دار، جاگیردار اور سامراجی گماشتے جب اقتدار پر قابض ہوتے ہیں، تو وہ ایسا نظام بناتے ہیں جس میں ہر چیز قانون، پولیس، عدالت، میڈیا، تعلیم، صحت، حتیٰ کہ ثقافت تک ان کے مفادات کی حفاظت کرتی ہے۔ ان کا قانون غریب کو سزا دیتا ہے اور امیر کو تحفظ دیتا ہے، ان کی پولیس مظلوم پر لاٹھی چلاتی ہے اور طاقتور کے لیے محافظ بن جاتی ہے۔
ہماری جدوجہد کا مقصدمحض اس ظلم کو بے نقاب کرنا نہیں، بلکہ اس نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ ماؤ نے واضح کیا تھا کہ اگر عوام خود منظم ہو کر سیاست میں حصہ نہیں لیتے، تو وہ صرف مظلوم ہی نہیں، غلام بن جاتے ہیں۔ اس لیے سیاست میں شرکت کرنا کوئی ذاتی خواہش یا “شوق” نہیں، بلکہ زندہ رہنے کا واحد راستہ ہے۔ جب محنت کش طبقہ منظم ہوتا ہے، جب کسان اپنی زمین کے لیے لڑتا ہے، جب طلبا فیسوں کے خلاف اٹھتے ہیں، جب عورتیں پدرشاہی اور مزدوری کے دوہرے جبر کے خلاف متحد ہوتی ہیں، تو وہ صرف احتجاج نہیں کر رہے ہوتے، وہ ایک نئے سماج کی بنیاد رکھ رہے ہوتے ہیں۔سیاست صرف اُن لوگوں کا کام نہیں جو پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں، بلکہ ہر اس شخص کا کام ہے جو ظلم سے تنگ آ چکا ہے، جو انصاف مانگتا ہے، جو چاہتا ہے کہ آنے والی نسل بہتر زندگی گزارے۔ جو سیاست کو نہیں سمجھتا، وہ آسانی سے دھوکہ کھا جاتا ہے، مذہبی نعروں، قوم پرستی، یا لبرل جھوٹ میں بہہ جاتا ہے۔ جو سیاست کو سمجھتا ہے، وہ تاریخ کا دھارا موڑ سکتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دنیا کو طاقت سے نہیں، تنظیم اور شعور سے بدلا جا سکتا ہے۔
یاد رکھیں سیاست کا مقصد اقتدار کو غریب عوام کے ہاتھوں میں دینا ہے۔ یہ کوئی خواب نہیں، یہ ایک انقلابی عزم ہے ایک ایسے سماج کا خواب جس میں کوئی جاگیردار، کوئی سرمایہ دار، کوئی سامراجی مالک نہ ہو، بلکہ پیداوار کے ذرائع محنت کش عوام کے کنٹرول میں ہوں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب عوام سیاست کو اپنی جنگ سمجھیں، اپنے ہاتھوں میں لیں، اور اسے صرف ریاست کے ایوانوں تک محدود نہ کریں بلکہ فیکٹری، کھیت، یونیورسٹی، گلی، محلّے ہر جگہ اپنی قوت بنائیں۔ یہی ہے انقلابی سیاست، یہی ہے انقلاب کا راستہ۔
اسی طرح طلبا سیاست کا مطلب صرف یونیورسٹی یا کالج کے اندر فیسوں، ہاسٹل یا سہولتوں کے لیے آواز اٹھانا نہیں ہے، بلکہ یہ نوجوان طلبا کی اُس انقلابی قوت کا اظہار ہے جو پورے سماج کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ماؤسٹ تناظر میں طلبا سیاست محض طلبا کے اپنے مسائل کی سیاست نہیں، بلکہ یہ طبقاتی جدوجہد کا ایک ایسا محاذ ہے جہاں نوجوان انقلابی شعور پیدا کرتے ہیں، مزدوروں، کسانوں، اور مظلوم طبقات کے ساتھ جڑ کر ظلم کے پورے نظام کو للکارتے ہیں۔طلبا وہ طبقہ ہوتے ہیں جو نہ مکمل طور پر سماج کی استحصالی مشینری میں جذب ہوئے ہوتے ہیں، نہ مکمل طور پر اس سے آزاد ہوتے ہیں۔ ان کے پاس وقت، توانائی، اور سیکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے، اس لیے وہ ہر انقلابی تحریک میں آگے ہوتے ہیں۔ ماؤزے تنگ نے بار بار کہا کہ نوجوانوں کو انقلاب کا دستۂ اول بننا چاہیے، کیونکہ وہ پرانے نظام سے کم متاثر ہوتے ہیں اور نئے سماج کے لیے زیادہ پُرعزم ہوتے ہیں۔
جب طلبا فیسوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں، تو وہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ اُن لاکھوں نوجوانوں کے لیے راستہ کھولتے ہیں جو غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔ جب وہ اظہارِ رائے کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں، تو وہ صرف ایک طالبعلم کی آواز نہیں ہوتے بلکہ اس پورے استبدادی نظام کے خلاف بغاوت ہوتے ہیں۔ جب وہ یونیورسٹی کے اندر طاقتوروں کے خلاف منظم ہوتے ہیں، تو وہ ریاستی جبر، سرمایہ دارانہ تعلیم، اور استحصالی ڈھانچوں کو چیلنج کرتے ہیں۔مگر ان جدوجہدوں کو صرف وقتی اور مطالباتی احتجاج تک محدود رکھنا طلبا تحریک کو غیر سیاسی اور کمزور بنا دیتا ہے۔ ہر مظاہرہ، ہر پمفلٹ، ہر مطالبہ دراصل طبقاتی جنگ کی ایک قسط ہے۔ اگر طلبا صرف اصلاحات کی سیاست کریں، تو وہ موجودہ نظام کے دائرے میں قید رہیں گے۔ مگر اگر وہ اپنی سیاست کو ماؤزم سے جوڑیں، تو وہ صرف طلبا تحریک نہیں، ایک انقلابی عوامی تحریک بن سکتے ہیں۔
طلبا کو چاہیے کہ وہ مزدوروں کی تحریکوں سے جڑیں، کسانوں کی زمین کے لیے لڑائیوں کو اپنا مسئلہ بنائیں، عورتوں کے دوہرے جبر کو سمجھیں، اور اپنے اداروں میں ایسی تنظیمیں بنائیں جو پورے سماج کو بدلنے کا ویژن رکھتی ہوں۔ انھیں چاہیے کہ وہ ریاست، سرمایہ داری، پدرشاہی، سامراج، اور قومی جبر جیسے ڈھانچوں کو سمجھ کر ان کے خلاف جدوجہد کا لائحہ عمل تیار کریں۔طلبا سیاست دراصل وہ ابتدائی میدان ہے جہاں انقلابی قیادت پروان چڑھتی ہے۔ یہیں سے کیڈر بنتے ہیں، یہی سے شعور پیدا ہوتا ہے، یہی سے تبدیلی کا عمل شروع ہوتا ہے۔ اگر طلبا اپنے انقلابی کردار کو پہچانیں، تو وہ نہ صرف اپنے ادارے بلکہ پورے سماج کا دھارا بدل سکتے ہیں۔ ان کی جدوجہد ایک انقلابی تحریک کا جزو بن سکتی ہے، جو صرف تعلیم نہیں بلکہ استحصال سے پاک، مساوات پر مبنی، محنت کشوں کے اقتدار والا سماج قائم کرنے کی جدوجہد ہو۔
لہٰذا طلبا سیاست ایک انقلابی مدرسہ ہےجہاں سے وہ سیکھتے ہیں کہ ظلم کے خلاف صرف آواز نہیں، عمل اور تنظیم ہی اصل ہتھیار ہیں۔ یہ ایک شعوری انقلابی عمل ہے جو آنے والے انقلابی طوفان کی تیاری ہے۔