National Students Federation

حضرت نطشے؟

پاکستان میں نیٹشے کو جن لوگوں نے اپنایا ہے، ان میں دو قسمیں نمایاں ہیں۔ ایک وہ نووارد ملحدین، جنہوں نے زندگی میں پہلی بار کفر کا بٹن دبایا تو نیٹشے کو گوگل کر کے اپنا مرشدِ اول قرار دے دیا۔ ان کے نزدیک ہر چیز کا انکار کرنا “فلسفہ” ہے، اور ہر روایتی بات کا مذاق اُڑانا “آزادیِ فکر”۔

یہ دراصل وہ نوجوان یا “پیٹی  بورژوا” طبقے کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو سامراجی نوآبادیاتی معاشرت کے اندر مذہب، ریاست یا خاندان کے خلاف ایک جذباتی بغاوت کو فلسفہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ وہ نیٹشے کو اس لیے اپناتے ہیں کیونکہ وہ انہیں فرد کی مطلق آزادی، اور “خدا مردہ ہے” جیسے نعرے میں ایک ذاتی انتقام کی گونج محسوس ہوتی ہے۔ لیکن چونکہ ان کی یہ بغاوت سائنسی بنیاد پر نہیں، بلکہ جذباتی و نیم رومانوی نوعیت کی ہے، اس لیے یہ لوگ ہیگل، کانٹ، مارکس، یا ماؤ جیسے انقلابی فلسفیوں کے سامنے بےبس ہو جاتے ہیں۔ یہ وہی رویہ ہے جو ماؤ نے “پیٹی بورژوا ذہن” کے نام سے پہچانا ، یعنی وہ ذہن جو مادی حالات و جدلیات کی سائنسی تفہیم کے بجائے محض نظریاتی انکار یا شاعرانہ ردِعمل کو کافی سمجھتا ہے۔

دوسرے وہ “فری تھنکرز” جنہیں لگتا ہے کہ نیٹشے نے ہی پہلا فتویٰ جاری کیا تھا کہ خدا مر چکا ہے، اور باقی سب اس کے شارحین ہیں۔ یہ لوگ نیٹشے کو مذہب دشمنی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں، مگر کانٹ ،ہیگل یا  مارکس  کی کتابیں دیکھ کر اُسی طرح بدحواس ہو جاتے ہیں جیسے کوئی فزکس کا طالبعلم لاپلاسیئن ڈیٹرمنزم کا نام سنتے ہو جاتا ہے ! اگر  دیکھا جائے تو یہ “فری تھنکرز” اصل میں لبرل عقل پرستی اور نیو ایج انفرادیت کے اسیر ہوتے ہیں، جو محنت کش طبقے، طبقاتی جدوجہد، اور مادی حالات کی سائنس کو نظرانداز کر کے، محض فکری ہلچل اور شکوک و شبہات کو “انقلاب” سمجھ بیٹھتے ہیں۔ لیکن یہ شکوک و شبہات کسی ساختی تبدیلی کو جنم نہیں دیتے، بلکہ فرد کو مفلوج، الگ تھلگ اور عمل سے کٹا ہوا کر دیتے ہیں ،  جو کہ خود سامراجی فلسفے کا ایک حربہ ہے: افراد کو ایسی فکری بھول بھلیوں میں ڈالنا جہاں وہ ریاست یا سرمایہ داری کے خلاف کوئی مادی اقدام نہ کر سکیں۔

اصل میں نیٹشے اُن نوجوانوں کی پسند بن جاتا ہے جنہیں فلسفہ نہیں، فقط بغاوت کا رومانس درکار ہوتا ہے۔ اور نیٹشے نے خود بھی بغاوت کی تھی خود سے، مذہب سے، عورتوں سے، روایت سے، حتیٰ کہ فلسفے سے بھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا محض بغاوت کرنے سے کوئی شخص “عظیم فلسفی” بن جاتا ہے؟ اس منطق سے تو یوٹیوب پر تبصرہ کرنے والے بھی سقراط قرار پائیں۔یہاں  اہم بات یہ ہے کہ بغاوت اُس وقت تک نتیجہ خیز نہیں ہوتی جب تک وہ عوامی بنیادوں پر، ایک انقلابی جماعت کے اندر، جدلیاتی مادیت کے اصولوں پر مبنی نہ ہو۔ نیٹشے کی بغاوت انفرادی اور نفسیاتی نوعیت کی تھی، جبکہ ماؤ کے مطابق سچی بغاوت وہ ہے جو کسان، مزدور اور نچلے طبقات کے اجتماعی شعور اور ان کی تنظیم سے جنم لے۔ اب اگر ہم نیٹشے کو ہیگل یا کانٹ کے ساتھ رکھ کر دیکھیں، تو یہ کچھ ایسا ہے جیسے نصیبو لال کو Beethoven کے ساتھ کھڑا کر کے کلاسیکی موسیقی پر تبصرہ کروایا جائے۔

یہ تمثیل نہ صرف چبھتی ہوئی ہے، بلکہ درست بھی۔ نیٹشے کی فکر کا موازنہ اگر مارکس، کانٹ یا ہیگل جیسے فلسفیوں سے کیا جائے تو وہ مادی تاریخی بنیادوں سے یکسر خالی دکھائی دیتی ہے۔ نیٹشے کا زور فرد پر ہے، جبکہ مارکسی فلسفہ فرد کو سماج کے اندر، طبقاتی ساخت کے اندر، تاریخی ارتقا کے اندر دیکھتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو ایک انقلابی فلسفے کو محض رومان پرستانہ فلسفے سے جدا کرتا ہے۔ نیٹشے کی فکر ایک ایسے “فرد” کے گرد گھومتی ہے جو گویا اپنے اردگرد کی تمام سماجی، معاشی، اور تاریخی قوتوں سے ماورا ہے۔ یہ فرد ،  جو نیٹشے کے نزدیک “اعلیٰ انسان” (Übermensch) ہے ، کسی بھی روایت، اخلاق، مذہب، یا اجتماعیت کا پابند نہیں۔ وہ محض اپنی “Will to Power” یعنی “اقتدار کی خواہش” سے دنیا میں معنویت پیدا کرتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ دنیا، یہ زندگی، یہ معنویت کہاں سے آتی ہے؟ اگر ہم مارکس کے نظریے سے دیکھیں تو تمام معنویت، تمام رشتے، اور تمام شعور ،  چاہے وہ مذہبی ہو یا فلسفیانہ ،معاشی اساس(economic base) کی پیداوار ہے، جو سماجی وجود سے جنم لیتے ہیں۔ یہاں نیٹشے مکمل طور پر ناکام ہوتا ہے۔ اُس کے لیے تاریخ محض ایک “ثقافتی” دھارا ہے، جسے کوئی “نڈر” فرد اپنی قوت ارادی سے چیلنج کرتا ہے۔ لیکن مارکس اور ماؤ کی نگاہ میں تاریخ طبقاتی جدوجہد سے عبارت ہے ،  یعنی انسانوں کی اجتماعی زندگی، اُن کی پیداوار، اُن کے تعلقات، اور ان تعلقات میں پیدا ہونے والی تضادات ہی تاریخ کا محرک ہیں۔ ہیگل، جو نیٹشے سے پہلے آیا، جدلیاتی ترقی کا ایک ایسا خاکہ پیش کرتا ہے جس میں روح (Spirit) ارتقائی عمل سے گزر کر خودآگاہی حاصل کرتی ہے، اور اس عمل میں ریاست، مذہب، اخلاق اور سماج سب شامل ہیں۔ اگرچہ ہیگل کا تصور مثالیاتی (idealistic) ہے، لیکن اس کے اندر تاریخ کی ایک گہری حرکت موجود ہے۔ کانٹ نے وجدان اور عقل کی حدود طے کیں، اور اخلاقی قانون کو آفاقی عقل کے اندر سے اخذ کیا، جو کہ کم از کم ایک منطقی، عقلی ڈھانچے پر استوار فلسفہ ہے۔

مگر نیٹشے؟ وہ ایک “angry young man” ہے، جو تاریخ، سماج، اور اجتماعیت کے ہر تصور سے بغاوت کرتا ہے، مگر کوئی انقلابی متبادل نہیں دیتا۔ اُس کی بغاوت انتہائی فردیت پسندی (extreme individualism) پر مبنی ہے، جو بالآخر اُسی بورژوا سوچ سے جڑی ہوئی ہے جس کے خلاف وہ بظاہر لڑ رہا ہوتا ہے۔ وہ طبقاتی نظام کو چیلنج نہیں کرتا، وہ مزدور کی محنت کی لوٹ مار کو نہیں دیکھتا، وہ عورت کی سماجی حیثیت کو ایک جنسیاتی تعصب سے بیان کرتا ہے، اور اُس کی “اخلاق شکن” فکر درحقیقت سرمایہ دارانہ “آزادیِ فرد” کے جھنڈے تلے ہی نمو پاتی ہے۔ اس کے برعکس، مارکسزم فرد کو الگ تھلگ “ہیرو” کے طور پر نہیں دیکھتا، بلکہ اُس کی شناخت کو اجتماعی حالات، سماجی رشتوں، اور پیداواری رشتوں کے اندر سمجھتا ہے۔ مارکس کے نزدیک شعور فرد کا نہیں، بلکہ طبقہ تشکیل دیتا ہے؛ اور ماؤ کے نزدیک انقلابی شعور محنت کشوں، کسانوں، عورتوں اور مظلوم اقوام کی اجتماعی جدوجہد سے پیدا ہوتا ہے، نہ کہ کسی نٹشے نما “اعلیٰ فرد” کے اندرونی لاوے سے۔

کانٹ نے Critique of Pure Reason جیسی ضخیم اور دقیق کتاب میں علم، وجدان، اور عقل کے خدوخال واضح کیے۔ ہیگل نےPhenomenology of Spirit اور Science of Logic میں جدلیاتی ترقی کا خاکہ دیا۔ ان کی فکر تاریخ، سیاست، مذہب، اور شعور کے ارتقا تک محیط ہے۔ان دونوں کے ہاں جدلیاتی حرکت کا تصور مرکزی ہے ،  جو مارکس اور ماؤ کے ہاں مادی جدلیات کی صورت میں ابھرتا ہے۔ جبکہ نیٹشے کا کام ایک ذہنی طوفان ہے، جس میں کوئی تاریخی یا انقلابی وژن موجود نہیں، بلکہ محض جذباتی flair ہے۔
“God is dead!”

اس فقرے میں کوئی philosophical depth نہیں ہے، بلکہ rhetorical outburst ہے۔ اور اس کی ساری فکر “will to power” اور “eternal recurrence” جیسے مبہم، شاعرانہ تصورات میں گھومتی ہے۔

ہم یہاں نیٹشے کی thought کو محض بورژوا existentialism کے ایک reactionary مظہر کے طور پر دیکھیں گے ،  ایک ایسا مظہر جو سرمایہ داری کی روحانی، اخلاقی، اور وجودی خالی پن کو تو شدت سے محسوس کرتا ہے، مگر اس خالی پن سے نجات کا کوئی اجتماعی، طبقاتی یا انقلابی راستہ فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ نیٹشے اس بحران کو محنت کش طبقے کی قیادت میں کسی انقلابی تنظیم یا مادی جدوجہد کے ذریعے حل کرنے کے بجائے، اسے ایک فردِ واحد ، “ubermensch”، یعنی “اعلیٰ انسان” یا “سپر انسان” ،  کی انفرادی قوتِ ارادی (will to power) میں ڈھونڈتا ہے۔ اس اعلیٰ انسان کا تصور دراصل کسی اجتماعی نجات، طبقاتی اتحاد یا تاریخی مادیت کی بجائے فرد پرستی، طاقت پرستی اور بالآخر فاشزم کے کئی فکری خد و خال کی بنیاد بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہٹلر کے نظریاتی ترجمان الفریڈ روزنبرگ اور نازیوں نے نیٹشے کو ایک روحانی “پیش رو” کے طور پر قبول کیا، چاہے نیٹشے خود نازی نہ بھی رہا ہو۔

نیٹشے کا perspectivism یعنی یہ دعویٰ کہ حقیقت، سچائی یا علم کا کوئی معروضی معیار نہیں، بلکہ سب کچھ زاویۂ نگاہ پر منحصر ہے ،  اسے بظاہر postmodern یا philosophical radicalism کی شکل دیتا ہے، مگر درحقیقت یہ فلسفہ بھی نہیں رہتا، بلکہ post-truth جذباتیت اور فکری نراجیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اُس کا یہ قول کہ:

“There is only a perspective seeing, only a perspective ‘knowing’…”
On the Genealogy of Morals, p. 119
یہ دعویٰ کہ ہر علم محض ایک ذاتی زاویہ ہے، نہ صرف تاریخی مادیت کے اساسی اصولوں سے انکار ہے بلکہ علم کی سچائی، سائنس، اور حتیٰ کہ خود انقلابی نظریے کی بنیادوں کو بھی ڈھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر ہر سچ محض ایک زاویہ ہے، تو پھر استحصال اور مزاحمت، جبر اور آزادی، سچ اور جھوٹ ،  سب برابر ہو گئے۔ کیا ہم ہر علم کو مشکوک مان لیں صرف اس لیے کہ نیٹشے کا دل ٹوٹا ہوا تھا؟ یہ طنزیہ سوال حقیقت میں ایک فکری نکتہ ہے۔ ویسے یہ “ٹوٹا ہوا دل” محض انفرادی تجربہ نہیں، بلکہ نیٹشے کے پورے فلسفے کا ایک مرکزی اور نفسیاتی پہلو ہے، جسے ہم محض ذاتی المیہ نہ سمجھیں، بلکہ ایک سماجی-تاریخی مظہر کے طور پر دیکھیں ،  ایک یورپی بورژوا فرد، جو سرمایہ داری کی اخلاقی و روحانی بربادی میں الجھ چکا ہے، اور جس کے پاس نہ انقلابی راستہ ہے، نہ عوام سے رشتہ، نہ کوئی تنظیمی ڈھانچہ۔ یہ وہ فرد ہے جو اپنی تنہائی کو الوہیت بناتا ہے، اپنی بیزاری کو بغاوت کا نام دیتا ہے، اور اپنی محرومی کو مابعدالاخلاقیات(genealogy of morals) کا فکری مواد سمجھتا ہے۔ وہ انسانیت کی نجات کو ایک اجتماعی قوت میں نہیں، بلکہ ایک خیالی، طاقتور، نڈر، غیر انسانی “اعلیٰ فرد” میں تلاش کرتا ہے ،  جو کہ بظاہر مذہب اور روایات کا دشمن ہے، مگر درحقیقت خود ایک نئے مذہب، ایک نئے جبر، اور ایک نئے “روحانی مطلق” کی بنیاد رکھتا ہے۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں نیٹشے کی فکر، تنقید تو بن جاتی ہے، مگر تبدیلی کا لائحۂ عمل نہیں۔ وہ سرمایہ داری کی بیماری کی تشخیص تو کرتا ہے، مگر علاج ایک مافوق الفطرت مریض میں ڈھونڈتا ہے ، وہ جو گویا سماج، تاریخ، طبقہ، جنس، اور عوامی جدوجہد سب سے ماورا ہو۔ یہاں مارکسزم کے برعکس، نہ کوئی پرولتاریہ ہے، نہ کوئی جدلیاتی ارتقا، نہ کوئی تنظیم، نہ کوئی پارٹی، نہ کوئی مزدور۔ صرف ایک فرد ہے، جسے یا تو خدا بننا ہے، یا ٹوٹ کر فنا ہو جانا ہے۔ اس طرح نیٹشے کا فلسفہ ،  اپنے تمام شاعرانہ حسن، اخلاق شکن نعرہ بازی، اور رومانوی “بغاوت” کے باوجود ،  طبقاتی کشمکش سے منقطع، اجتماعی نجات سے بے خبر، اور مادی جدوجہد سے مکمل طور پر نابلد ہے۔ نتیجتاً وہ بورژوا زوال کا ایک فکری عکس بن جاتا ہے ،  ایک reaction، مگر کبھی بھی revolution نہیں۔

نیٹشے نے عورتوں کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے، وہ نہ صرف حیران کن ہے بلکہ کہیں کہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ فلسفے کا روپ دے کر کسی ذاتی تلخی، جذباتی شکست، یا مردانہ انا کے زخم کو لفظوں میں بیان کر رہا ہے۔ یہ تحریریں بسا اوقات فلسفے سے زیادہ کسی بریک اپ کے بعد لکھی گئی جذباتی ڈائری جیسی لگتی ہیں۔ مثلاً جب وہ اپنی شہرۂ آفاق کتاب Thus Spoke Zarathustra میں لکھتا ہے:

“Thou goest to women? Do not forget thy whip!”
— Thus Spoke Zarathustra, p. 60

یہ جملہ نہ صرف صنفی طور پر جارحانہ ہے بلکہ پدرشاہی، جنسی استحصال، اور عورت کی غیرانسانی شبیہہ کو فکری طور پر جائز ٹھہرانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ عورت کو مکمل انسان، فاعل، باشعور، یا تاریخی کردار ادا کرنے والی ذات تسلیم کرنے کے بجائے، اسے ایک خطرناک، غیر منطقی، شہوت پرست، اور مرد کی “قوتِ ارادی” کے لیے خطرہ بننے والی مخلوق کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ دراصل وہی patriarchal backlash ہے جو سرمایہ دارانہ سماج میں اُس وقت سامنے آتا ہے جب عورتیں تعلیم، علم، سیاست یا خودمختاری کی طرف بڑھتی ہیں۔

نیٹشے کی یہی ذہنیت Beyond Good and Evil میں ایک اور خطرناک رائے کی شکل اختیار کرتی ہے:

“When a woman has scholarly inclinations there is generally something wrong with her sexuality.”
، Beyond Good and Evil, p. 98

یہ صرف ایک خیالی یا ادبی توہین نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی و سماجی پوزیشن ہے ،  ایسی پوزیشن جو عورت کے علم حاصل کرنے، دانشورانہ فاعلیت، یا سیاسی شرکت کو “جنسی انحراف” سے جوڑتی ہے۔ اس کے پیچھے وہی بورژوا مردانہ خوف اور عدم تحفظ چھپا ہوا ہے جو عورت کو صرف ایک جسم، ایک تابع مخلوق، یا ایک “مرد کی تکمیل” کے طور پر دیکھتا ہے ،  نہ کہ ایک آزاد، خودمختار، تاریخی و انقلابی ہستی کے طور پر۔ یہی وجہ ہے کہ نیٹشے کی فکر میں عورتوں کی نجات، ان کے انقلابی کردار، ان کی طبقاتی حیثیت، یا ان کے ادارہ جاتی جبر کے خلاف کوئی شعور نہیں ملتا۔

درحقیقت نیٹشے کے نسوان مخالف رویے کو محض ایک فلسفیانہ رائے سمجھنا غلط ہوگا۔ یہ اس ذہنی اضطراب اور بورژوا existential crisisکا فکری اظہار ہے جو یورپی بورژوا مرد اُس وقت محسوس کرتا ہے جب سرمایہ داری اپنی اخلاقی و روحانی حدود کو چھونے لگتی ہے، اور عورت، جو صدیوں تک محکوم رہی، اب علم، سیاست، اور مزاحمت کی طرف بڑھتی ہے۔ نیٹشے کے ہاں عورتوں کی تذلیل دراصل اس احساسِ شکست کا اظہار ہے کہ مرد کی traditional masculinity اب چیلنج ہو رہی ہے ،  مگر وہ اس چیلنج کا سامنا انقلابی طور پر نہیں، بلکہ نفسیاتی طور پر کرتا ہے۔ یوں ایک اداس، اکیلا، اور عورتوں کے ساتھ ذاتی ناکامی کا شکار شخص، اپنے دکھ کو ایک کائناتی سچائی بنا کر، پوری صنفِ نسواں سے انتقام لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے ،  اور اسے “فلسفہ” کا نام دیتا ہے۔

مارکسی-لیننسٹ-ماؤسٹ تناظر میں دیکھا جائے تو یہ رویہ دراصل petit-bourgeois individualism اور misanthropy  (انسان بیزاری) کا شاخسانہ ہے۔ ایسی فکر جو فرد کی نفسیاتی الجھنوں کو سماجی حقیقت پر ترجیح دیتی ہے، جو عوام کی اجتماعی جدوجہد کو فراموش کر کے “عظیم فرد” یا “سپر انسان” کے تخیل میں پناہ لیتی ہے، اور جو عورتوں سے اتنی بیگانہ ہے کہ اُن کی آزادی کو “جنسی انحراف” اور “شکاری فطرت” جیسے تصورات سے بیان کرتی ہے ،  وہ ہرگز ایک انقلابی فکر نہیں بن سکتی۔ ایسی فکر، طبقاتی جدوجہد، عوامی شعور، یا سیاسی تنظیم سے کٹی ہوئی ہوتی ہے؛ یہ ردعمل ضرور ہے، مگر شعوری مزاحمت نہیں۔ اس لیے نیٹشے کی نسوانی  دشمنی کو صرف ایک اخلاقی غلطی سمجھنا کافی نہیں؛ یہ دراصل اُس مکمل بورژوا فکری زوال کی علامت ہے جو سرمایہ داری کے اندر پیدا ہوتا ہے ،   جہاں فرد کا بحران، اجتماعی نظریہ بن جاتا ہے، اور عورت، ایک زندہ، شعور رکھنے والی سیاسی ہستی کے بجائے، محض مرد کے زخموں کا آئینہ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نیٹشے کا فلسفہ عورت دشمنی، فرد پرستی، اور تاریخی انکار کا مجموعہ بن جاتا ہے ،  جو کسی بھی انقلابی تحریک کے لیے نہ صرف ناقابلِ قبول ہے، بلکہ ایک فکری رکاوٹ بھی۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جو نیٹشے کے فلسفے کو وجودیاتی ادبیات کے دائرے میں تو داخل کرتا ہے، مگر اسے منطق، استدلال، اور جدلیاتی تشکیل کے ان معیارات تک نہیں پہنچنے دیتا جو کانٹ، ہیگل، یا مارکس جیسے مفکرین کے ہاں ملتے ہیں۔ نیٹشے کی تحریروں میں ایک بے شک تخلیقی شاعرانہ انداز ہے، اس میں rhetorical flair ہے، جذبات کو جھنجھوڑنے والے جملے ہیں، اور بعض اوقات زبان کے ایسے پرفریب اور خوبصورت استعمال سے کام لیا گیا ہے جو ادب میں تو ممتاز ہو سکتا ہے، مگر فلسفہ صرف زبان کی چمک سے نہیں بنتا ،  وہ دلیل، تاریخ، سماج، اور سچائی کی مادی بنیادوں کے سائنسی تجزیے کا مطالبہ کرتا ہے۔

نیٹشے کی فکر میں اکثر ہمیں ایک بےشکل “خوف” دکھائی دیتا ہے ،  روحانی زوال کا خوف، جمہور کی mediocrity کا خوف، عورت کی خودمختاری کا خوف، اور سب سے بڑھ کر، عوامی طاقت سے خوف۔ وہ ان خدشات کو poetic aphorisms میں ڈھال کر بیان تو کرتا ہے، مگر ان کا نہ تجزیہ دیتا ہے، نہ حل۔ وہ ایک خوف زدہ بورژوا ذہن کا ادبی اظہار ضرور ہے، مگر تاریخ کو سائنسی بنیادوں پر پڑھنے والی انقلابی فکر ہرگز نہیں۔ اس لیے اگر نیٹشے سے محبت ہے، اس کی نثر سے جمالیاتی لطف اٹھانا ہے، تو ضرور کیجیے ،  ہم اس کی ادبی قدر سے انکار نہیں کرتے۔ مگر براہ کرم اُسے “عظیم فلسفی” کہہ کر فلسفے کی روایت اور معیار کے ساتھ زیادتی نہ کیجیے۔ وہ فلسفی ضرور ہے، اس میں شبہ نہیں، لیکن جس طرح ہر نظم کلاسیکی غزل نہیں ہوتی، یا ہر نعرہ انقلابی نظریہ نہیں ہوتا، اُسی طرح ہر “بغاوت” فلسفہ نہیں بن جاتی۔ نیٹشے کی بغاوت ایک انفرادی بورژوا ذہن کی بغاوت ہے ،  جسے نہ عوامی شعور کی بنیاد حاصل ہے، نہ طبقاتی تجزیہ، اور نہ انقلابی عمل سے جڑت۔

مارکسی-ماؤسٹ تناظر میں عظیم فلسفی وہ ہوتا ہے جو تاریخ، سماج، ریاست، سیاست، انسان، جنس، اور طبقاتی ساخت کو مادی و سائنسی بنیادوں پر سمجھے؛ جو صرف سوال نہ کرے، بلکہ اس سوال کو ایک اجتماعی اور انقلابی عمل سے جوڑے؛ جو محض ذاتی دکھ کو کائناتی سچائی نہ بنائے، بلکہ عوامی شعور، اجتماعی علم، اور تنظیمی عمل کو بنیاد بنائے۔ یہی وہ کام ہے جو مارکس، اینگلز، لینن، ماؤ، امیلکار کابرال، تھامس سانکارا، ابیمل گونزالو، یا حالیہ دہائیوں میں شاشی پرکاش جیسے انقلابی مفکرین نے کیا ہے۔ ان کی فکر صرف تحریری تجزیہ نہیں، بلکہ عوامی تنظیم، مادی عمل، اور ریاستی جبر کے خلاف جدوجہد میں ڈھلی ہوئی فکر ہے۔ اب اگر کسی کا معیار یہ ہے کہ جو بھی مذہب کے خلاف بول دے، وہی “فلسفی” کہلائے، تو یہ فلسفے کے ساتھ ناانصافی ہے۔ مذہب پر تنقید بذاتِ خود فلسفہ نہیں، جب تک کہ وہ تنقید سماجی تاریخ، طبقاتی ڈھانچے، اور انسانی آزادی کے مادی تناظر میں نہ ہو۔ اگر یہی معیار رکھا جائے تو پھر ہر واٹس ایپ گروپ کاCynical بندہ بھی فلسفی قرار پائے گا، اور ہر TEDx موٹیویشنل اسپیکر کو بھی سقراط سمجھا جائے گا۔

لہٰذا، اگر آپ نیٹشے کو “فلسفی” مانتے ہیں تو ضرور مانیے، مگر اسے کانٹ، ہیگل، یا مارکس کے برابر رکھنے کے لیے بہت کچھ درکار ہے ،  جو نیٹشے کی فکر میں دکھائی نہیں دیتا۔ اور اگر آپ قاسم علی شاہ، واصف علی واصف یا غامدی صاحب کو بھی فلسفی سمجھتے ہیں، تو ضرور سمجھیے ، ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مگر پھر یہ نہ کہیے کہ آپ فلسفے سے سنجیدہ تعلق رکھتے ہیں۔ کیونکہ سنجیدہ فلسفہ وہ ہے جو استدلال، سچائی، اجتماع، اور عمل کے ساتھ جڑا ہو ،  نہ کہ اداس بورژوا ذہنوں کی رومانوی بغاوتوں سے۔

اور رہی بات جامعات کی ،  تو ہمارے  ذاتی تجربات میں، ہم نے آج تک کسی فلسفے کے پروفیسر یا سنجیدہ طالب علم سے یہ نہیں سنا کہ نیٹشے اُن کا “پسندیدہ ترین” مفکر ہے۔ زیادہ تر لوگ افلاطون، ارسطو، کانٹ، ہیگل، دریدا، مارکس یا ماؤ جیسے مفکرین کی بات کرتے ہیں، کیونکہ ان کے ہاں فکر کا تسلسل، argumentation، اور تاریخی رشتہ موجود ہوتا ہے۔ باقی اگر کوئی نیٹشے کو دل کے زخموں کا نجات دہندہ سمجھنا چاہے تو ہم روک نہیں سکتے ، مگر اُس کو “فکری رہنما” کہنا، فکری دیانت کے خلاف ہوگا۔

Scroll to Top